کانگریس پر اقربا پروری کا الزام عائد کرنے والی بی جے پی نے ایک ہی خاندان کے ۳؍ افراد کو ٹکٹ دیا ہے۔
محسن حیدر( درمیان میں) کی بیوی اور بیٹے نے کانگریس سے فارم پُر کیا۔ تصویر: آئی این این
عام طور پر بڑی پارٹیوں کی جانب سے ایک دوسرے پر گھرانہ شاہی کا الزام عائد کیاجاتا ہے لیکن ۱۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو ایشیا کی امیر ترین بلدیہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن ( بی ایم سی) کے انتخابات میں متعدد پارٹیوں میں لیڈروں کے ایک سے ۳؍ رشتہ داروں کو بھی ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ان پارٹیوں میں برسر اقتدار پارٹیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی پارٹیاں بھی شامل ہیں ۔ پارٹیوں کی جانب سے جاری کردہ امیدواروں کی ووٹر لسٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس پر گھرانہ شاہی کا الزام عائد کرنے والی بی جے پی نے ایک ہی خاندان کے ۳؍ افراد کو ٹکٹ دیا ہے۔ اسی طرح اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی نے بھی نواب ملک کے ۳؍ رشتہ داروں کو اور کانگریس میںرکن اسمبلی اسلم شیخ کے گھر کے ۳؍ رشتہ داروں کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس کے علاوہ شیو سینا ( ادھو) نے بھی متعدد لیڈروں کے رشتہ داروں کو بی ایم سی الیکشن کیلئے اپنا امیدوار بنایا ہے۔سیاسی پارٹیوں کی اس اقربا پروری نے سیاسی جماعتوں کے متعدد وفادار کارکنوں اور مقامی لیڈروں کے درمیان تلخی بھی پیدا کی ہے جس وجہ سے متعدد کارکنوں سےپارٹی بدل دی یا بغاوت کااعلان کر دیا ہے۔متعدد سیاسی لیڈروں نے اپنے لیے، اپنی شریک حیات، بہن، بھائی اور یہاں تک کہ دور کے رشتہ داروں کیلئے بھی ٹکٹ لیا ہے۔بی جے پی، جس نے ہمیشہ خاندانی سیاست کی مذمت کی ہے اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی ہے، اس نے قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر ایڈوکیٹ راہل نارویکر کے خاندان سے۳؍ امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔راہل نارویکر کے بھائی مکرند، ان کی بھابھی ہرشیتا، اور کزن گوروی شیوالکر- نارویکر بالترتیب کف پریڈ کے وارڈ نمبر: ۲۲۷، فورٹ کے وارڈنمبر ۲۲۵؍ اور قلابہ کے وارڈ ۲۲۷؍سے انتخاب لڑیں گے۔ راہل نارویکر خود ۲؍ بار کے ایم ایل اے اور فی الحال مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر ہیں۔
ہرشیتا کو منتخب کرنے کے بی جے پی کے فیصلے نے پارٹی کی ممبئی اکائی میں کافی ہلچل مچا دی، نائب صدر کملاکر دلوی نے آزاد امیدوار کے طور پر اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ۔ کملا کر دلوی کے بقول میں نے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے دنوں سے، پارٹی کیلئے۳۸؍سال کام کیا ہے۔۵۶؍ سال کی عمر میں، میں انعام کی توقع کر رہا تھا لیکن پارٹی نے مجھے نظر انداز کیا۔انہوں نے سوال کیا کہ ’’خاص طور پرجب وزیر اعظم مودی سیاست میں اقربا پروری کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو نارویکر خاندان اس سے مستثنیٰ کیوں ہے؟‘‘ ملاڈ ویسٹ اسمبلی حلقہ سے ۴؍ مرتبہ کانگریس کے ایم ایل اے اسلم شیخ کے بیٹے حیدر شیخ ملاڈ کے وارڈ۳۴؍ سے، بہن قمر جہاں صدیقی ملاڈ کے وارڈ ۳۳؍سے اور داماد سیف احد خان ورسووا کے وارڈ۶۲؍ سے الیکشن لڑیں گے۔ ان کا بیٹا اور داماد دونوں ہی انتخابات میں حصہ لینے والے ہیں۔
این سی پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر نواب ملک کے بھائی کپتان ملک، بہن سعیدہ عارف خان اور کپتان ملک کی بہو بشریٰ ملک کو این سی پی(اجیت) نے بالترتیب وارڈ۱۶۵، ۱۶۸؍ اور ۱۷۰؍ سے میونسپل الیکشن کیلئے میدان میں اتارا ہے۔ کپتان اور سعیدہ سابق کارپوریٹر ہیں، بشریٰ پہلی بار امیدوار بن رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی بیٹی ثنا ملک انوشکتی نگر سے ایم ایل اے اور ترجمان بھی ہیں۔
بی جے پی کی طرف سے ان لیڈروں کے رشتہ داروں کو ٹکٹ:سابق کارپوریٹر گیان مورتی شرما : سنگیتا گیان مورتی شرما۔سابق ایم پی کریٹ سومیا : نیل سومیا(بیٹا )۔سابق وزیر راج پروہت : آکاش پروہت۔اسپیکرراہل نارویکر : مکرند نارویکر(بیٹا)، ہرشیتا نارویکر( بیوی) اور کزن بہن گوروی۔شیو سینا (ادھو) نے ان لیڈروں کے رشتہ داروں کو ٹکٹ دیا :ایم ایل اے سنیل پربھو ۔ انکت سنیل پربھو (بیٹا)سابق کارپوریٹر چنگیز ملتانی - ذیشان ملتانی (بیٹا)ایم ایل اے ہارون خان۔ صبا ہارون خان( بیوی)ایم ایل اے پرکاش فات پیرکر - سپردا فات پیرکرایم ایل اے منوج جامسوتکر۔ سونم جامسوتکروٹھل لوکرے - سنندالوکرے۔
این سی پی (اجیت)نے ان لیڈروں کے رشتہ داروں کو نامزد کیا ہے:سابق رکن اسمبلی نواب ملک: کپتان ملک، ڈاکٹر سعیدہ خان، بشریٰ پروین ملک۔سابق کارپوریٹر موہن پوار : اکشے موہن پوارکانگریس نے ان کیڈروں کے رشتہ داروں کو ٹکٹ دیا۔رکن راسمبلی اسلم شیخ :بیٹا حیدر شیخ، بہن قمر جہاں شیخ،سیف خان (داماد)