پولیس نے عدالت کے فیصلے کی مخالفت نہیں کی ، سینٹرل جیل بھیجا گیا، ملزمہ کے وکیل نے ضمانت کی عرضی داخل کی ، آج سماعت ہوگی
EPAPER
Updated: May 12, 2026, 7:25 AM IST | Nashik
پولیس نے عدالت کے فیصلے کی مخالفت نہیں کی ، سینٹرل جیل بھیجا گیا، ملزمہ کے وکیل نے ضمانت کی عرضی داخل کی ، آج سماعت ہوگی
تبدیلی مذہب اور جنسی ہراسانی کے الزامات میں گرفتار ٹاٹا کنسلٹنسی کی ملازمہ ندا خان کوعدالت نے ۱۴؍ دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ یاد رہے کہ گرفتاری کے بعد ۸؍ مئی کو ناسک کی عدالت نے نداخان کو ۳؍ دنوں کی پولیس تحویل میں دیا تھا۔ پیر کے روز اس تحویل کی مدت ختم ہوئی پولیس نے پھر ایک بار اسے عدالت میں پیش کیا ۔ عدالت نے ندا خان کی پولیس تحویل ختم کر دی اور اسے ۲۴؍ مئی تک کیلئے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔
پیرکے روز ناسک پولیس نے ندا خان کو ایڈیشنل سیشن جج کے جی جوشی کی عدالت میںپیش کیا۔ ۲۷؍ سالہ ندا خان اس وقت حاملہ ہے۔ پولیس نے اس پر لگائے گئے الزامات کو اور ان سے متعلق تحقیقات کو عدالت میں پیش کیا لیکن پولیس تحویل ختم کرکے عدالتی تحویل میں بھیجنےکے فیصلے کی مخالفت نہیں کی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ندا خان نے اپنے موبائل سے ۱۷۱؍ لنک بھیجے ہیں جن میں اسلام سے متعلق معلومات تھیں ، نیز اس نے نماز سیکھنے والی کتاب اور برقع بھی شکایت کنندہ لڑکی کو دیا تھا۔ ساتھ ہی پولیس نے الزام لگایا کہ نداخان شکایت کنندہ لڑکی کے گھر جا کر اس کے گھر والوں کو مذہبی رسومات اور اراکین سکھایا کرتی تھی۔ عدالت کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ ملزمہ اصل میں شکایت کنندہ اور اس کے اہل خانہ کی ذہن سازی کا کام کر رہی تھی۔ عدالت نے تمام دلائل کو سننے کے بعد ندا خان کو آئندہ ۱۴؍ دن یعنی ۲۴؍ مئی تک کیلئے عدالتی تحویل میں بھیج دیا جسکے بعد پولیس نے نداخان کو ناسک روڈ سینٹرل جیل روانہ کر دیا۔
اطلاع کے مطابق پولیس تحویل کے دوران پولیس ٹیم ندا خان کو ٹی سی ایس کمپنی لے گئی تھی جہاں مختلف چیزوں کی شناخت کرنے کے بعد پنچ نامہ کیا گیا ہے۔ پولیس ان لوگوں کے تعلق سے بھی معلومات حاصل کر رہی ہے جنہوں ندا کی فرار ہونے یا روپوش ہونے میں مدد کی تھی۔ اس تعلق سے پولیس نےزیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ پولیس نے ندا کے فون کی کلوننگ کیلئے اسے لیب میں بھجوایا ہے۔ یاد رہے کہ تقریباً ۲۵؍ دنوں کی تلاش کے بعد پولیس نے ندا خان کو اورنگ آباد سے گرفتار کیا تھا۔
ندا خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ندا کی ضمانت کی عرضی علاحدہ عدالت میں داخل کی ہے جس پر اگلے دن یعنی منگل( آج) سماعت ہوگی۔ یاد رہے کہ ندا خان نے گرفتاری سے قبل ہی عدالت میں ضمانت کی عرضی داخل کی تھی لیکن عدالت نے اسے نامنظور کر دیا تھا۔ اب جبکہ وہ گرفتار ہو چکی ہے اس کے وکیلوں نے دوبارہ عرضی داخل کی ہے۔ چونکہ پولیس نے عدالتی تحویل میں بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت نہیں کی ہے، اس لئے امکان ہے کہ ضمانت میں کوئی دشواری نہ ہوکیونکہ پولیس کو اب ندا خان سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کرنی ہے۔
۲۷؍ سالہ خاتون ملزمہ پر دیولالی کیمپ پولیس اسٹیشن میں یہ کہہ کرمعاملہ درج کروایا گیا ہے کہ اس نے اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک لڑکی کا جبراً مذہب تبدیل کروانے کی کوشش کی اور اس دوران اس نے اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ حالانکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ یہ ایک مخصوص طبقے کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ ایک روز قبل ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی سوال اٹھایا تھا کہ برقع اور اسلامی کتابیں رکھنا کب سے جرم ہو گیا ہے؟ یاد رہے کہ ایم آئی ایم پر ندا خان کی مدد کا الزام لگایا جا رہا ہے۔