Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناسک ٹی سی ایس معاملہ: ایک مخصوص طبقے کوبدنام کرنے کیلئے کارپوریٹ جہاد کا شوشہ چھوڑا گیا ہے

Updated: April 24, 2026, 1:08 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

اے پی سی آر اور پی یو سی ایل کی جانب سے ممبئی میں پریس کانفرنس ، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پیش، تفتیش کرنے والے کارکنان نے کہا کہ ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر نے یہ پوری سازش رچی ہے

(From right) Shakir Sheikh, Niranjan Takle, Nadeem Khan, Dolphy D`Souza, Testa Setalvad and Scindia Gokhale
(دائیں سے)شاکر شیخ، نرنجن ٹکلے، ندیم خان، ڈولفی ڈیسوزا، ٹیسٹا سیتلواڈ اور سندھیا گوکھلے

ناسک میں ٹی سی ایس معاملے میں جس طرح سے ایک مخصوص طبقے کے نوجوانوں کونشانہ بنایا گیا اورالزام تراشی کی گئی اس پراسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) اور پیوپلس یونین فار سول لبرٹی (پی یو سی ایل ) کی جانب سے ممبئی کے پریس کلب میں جمعرات کی سہ پہر مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی۔ اس دوران میڈیا ٹرائل ،پولیس کے طریقۂ کار اوراس ضمن میں رچی گئی سازش پر مقررین نےتفصیل سے روشنی ڈالی اورفیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی جاری کی ۔
سازش رچی گئی ہے 
 سینئر صحافی نرنجن ٹکلے نےبتایا کہ’’ میں ناسک سے آیا ہوںاوروہاں کے جتنے بھی لوگوں کو پھنسایا گیا ہے ،مجھے ان کے اہل خانہ کا رکن سمجھئے۔ میں نے اپنی تفتیش میں یہ پایا ہے کہ یہ ایک منظم سازش ہے اور اس کی سازش ایک ہندوتوا وادی پارٹی کے رکن نے رچی تھی ۔ فروری میں پولیس میں شکایت کی گئی تھی کہ ٹی سی ایس میں کام کرنے والی ایک غیر مسلم لڑکی روزے رکھ رہی ہے ، حالانکہ اس میں شکایت جیسا کچھ نہیں ہےکیونکہ ایسی کئی غیر مسلم خواتین ہیں جوپابندی سے روز ہ کھتی ہیں۔ اسکے باوجود پولیس نے شکایت قبول کی اور اپنی کچھ خاتون پولیس اہلکاروں کو بھیس بدل کر ٹی سی ایس میں تعینات کیا ۔پھر ۲۶؍مارچ کو دیولالی پولیس میں ایف آئی آر درج کی گئی حالانکہ وہ لڑکی شکایت کیلئے قطعاًتیار نہیں تھی مگر وہی ہندوتوا وادی پارٹی کا لیڈر اسے ورغلاکرلے گیا ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’ ایف آئی آر میں دانش شیخ پر جنسی ہراسانی اور تبدیلی ٔمذہب کے الزامات عائد کئے گئے ، ندا خان پر دیوی دیوتاؤں کی توہین کرنے اور آصف عطار پر بھی جنسی ہراسانی اور دیگرالزامات  لگائے گئے۔میری نگاہ میںسب سے حیران کن اور پولیس کی کم عقلی کی دلیل یہ ہے کہ لیڈیزپولیس اہلکار ۱۵؍ دن کے بعد بھی یہ پتہ نہ لگا سکیں کہ وہ لڑکی ایچ آر نہیں بلکہ معمولی ملازمہ ہے، اسے کسی شکایت کے ازالے یا کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیںہے۔‘‘ انہوں نے کہا’’ اسی طرح دانش اور لڑکی دونوں رضامندی سے آنند ریسورٹ گئے تھے۔یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اس لڑکی کو دانش کے شادی شدہ ہونے کا علم نہیں تھا جبکہ دانش کی بیوی اور شکایت کنندہ لڑکی کے مابین تقریباً ۳؍ برس سے بات چیت ہو رہی تھی ۔ دونوں کے چیٹ موجود ہیں جسے پولیس نے ڈیلیٹ کردیا تھا مگر اسے دوبارہ حاصل کرلیا گیا۔ اسی طرح کئی اور مسلم لڑکوں کو ان کی بہترین کارکردگی پر ٹی سی ایس کی جانب سے انعامات سے نوازا گیا ،ان کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ ‘‘نرنجن ٹکلے کے مطابق ’’دراصل یہ منصوبہ بند طریقے سے ہندتواوادی سیاسی جماعت کے ذریعے لکھی گئی اسکرپٹ ہے اور پولیس نے اسے اپنالیا جبکہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کام ایمانداری اور ذمہ داری سے کرےنہ کہ کسی اورکے منصوبےکو عملی جامہ پہنائے۔ اسی طرح اس کیس میں چونکا دینے والی بات یہ بھی ہے کہ وہاں کی ایچ آر اشونی چھیننانی ہیں اور ان کا کہیں چرچا نہیں ہے۔ اسی طرح ایف آئی آر میں بڑےافسران کا بھی نام ہے، ان کا بھی لائیو ڈیٹیکٹر ٹیسٹ ہونا چاہئے، تب مزید حقائق سامنے آئیںگے۔‘‘
 معروف سماجی خدمت گار ٹیسٹا سیتلواد نے کہا کہ ’’بڑی کمپنیوں اور اداروں میں اس طرح کے واقعات ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے مگر اسے کسی مخصوص مذہب سے جوڑنا ہرگز درست نہیں ہے۔ میڈیا کو غیرجانبدارانہ طریقے سے اپنا کام کرنا چاہئے، کسی کی طرف داری نہیںکرنی چاہئے، یہ صحافتی ذمہ داری کے منافی ہے۔‘‘
  اے پی سی آر کے نیشنل سیکریٹری ندیم خان نے کہا کہ’’ کوئی کسی کا زبردستی مذہب تبدیل نہیں کرواسکتا اور زبردستی روزہ رکھوانے کی بات تو اس لئے بھی بے بنیاد ہےکہ روزہ تو پورے دن کا ہوتا ہے اور اس میں کوئی دکھاوا بھی نہیں ہوتا۔ اس کانفرنس ہال میں متاثرین کے کچھ اہل خانہ بھی موجودہیں مگر وہ خائف ہیں۔‘‘انہوںنے کہاکہ’’ اگر ملک میں موجود باصلاحیت نوجوانوں کو ٹارگیٹ بنایا گیا تو ان کو ملازمت ملنا مشکل ہوگا۔ ویسے اس میں کوئی شک نہیںکہ اس میں سازش کی بو آرہی ہے۔‘‘ندیم خان نے اس کیس کی ریٹائرڈ جج کے ذریعے انکوائری کا مطالبہ کیا ۔
  پیوپلس یونین فار سول لبرٹی (پی یو سی ایل) سندھیا گوکھلے نے کہا کہ ’’شکر ہے کہ ابھی مہاراشٹر میں تبدیلی ٔمذہب قانون لاگو نہیں ہوا ہے ورنہ اس کا مزید غلط استعمال ہوتا اورنہ جانے اورکیا کیا دفعات جوڑی جاتیں ،اس سے مزید نقصان ہوتا۔ ‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی خواتین کے حقوق کے نام پر ڈھکوسلا کررہی ہے ، اس کی ایک مثال تبدیلیٔ مذہب قانون ہے کیونکہ اس کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان خواتین کا ہی ہوگا۔ اس کیس کی صحیح رخ پر انکوائری کیا جانا ضروری ہے۔‘‘ 
توجہ ہٹانے کی کوشش تو نہیں
 بامبے کیتھولک سبھا کے ترجمان ڈولفی ڈیسوزا نے کہا کہ’’ اس سے قبل ناسک میں کئی سنگین معاملات جیسے اشوک کھرات بابا اور رویندرارنڈے بابا وغیرہ کے معاملات چل رہے ہیں، اس میں سیاسی اور کارپوریٹ سے تعلق رکھنے والی بڑی بڑی شخصیات ملوث ہیں ،کہیں ٹی سی ایس کا معاملہ اس سے توجہ ہٹانے کی منصوبہ بند کوشش تونہیں ہے۔‘‘اے پی سی آر مہاراشٹر کے سکریٹری شاکر شیخ جنہوں نے وکلاء کی ٹیم کے ساتھ ناسک کا دورہ کیا اور فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ تیار کی، نے صحافیوں کو بتایا کہ اس کیس کو منظر عام پر لانےکے بعد لوگوں میں خوف وہراس کی زبردست کیفیت تھی، اسی سبب ذمہ دار اشخاص اس کی تفتیش یا حقائق جاننے کے لئے آگے نہیں آئے۔‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایا کہ’’اس ضمن میں ناسک کے پولیس کمشنر سندیپ کرنک سے ملاقات کی گئی ہے ، انہیں میمورنڈم دیا گیا اور اس کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیق کا مطالبہ کرنے کے ساتھ میڈیا ٹرائل روکنے کی درخواست کی گئی ۔ جان بوجھ کر محض ایک مخصوص طبقے کوبدنام کرنے کیلئے کارپوریٹ جہاد کا شوشہ چھوڑا گیا ہے۔ اس معاملے میں ۹؍ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اوراب تک۷؍ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

nashik tcs Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK