فیڈرل ریزرو نے امریکہ کی جی ڈی پی نمو کا تخمینہ گھٹا کر شرح سود کو مستحکم رکھا، اپنے اجلاس میں مہنگائی پر تشویش کا اظہار کیا۔
فیڈ کی اوپن مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین کیون وارش پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے۔ تصویر:آئی این این
امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے بدھ کو ختم ہونے والے اپنے دو روزہ اجلاس میں مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اس کے ساتھ ہی مغربِ ایشیا کے بحران کے پیشِ نظر ملک کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی نمو کا تخمینہ کم کر دیا ہے۔
فیڈ کی اوپن مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی پہلی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیون وارش نے کہا کہ کمیٹی نے پالیسی شرح سود کو۳ء۵؍ فیصد سے۳ء۷۵؍فیصد کے درمیان مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ فیڈ کی دوہری ذمہ داری کو سہارا دینے کے لئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک بینکنگ نظام میں کافی ریزرو رکھنے کی اپنی پالیسی کا ایک بار پھر اعادہ کرتا ہے۔ پالیسی شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے حق میں کمیٹی میں ۱۲؍ ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا۔کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سپلائی چین میں رکاوٹ کے باعث توانائی سمیت کچھ شعبوں میں قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کمیٹی قیمتوں میں استحکام لانے کے لئے کام کرے گی۔ میٹنگ کے بعد جاری کردہ اقتصادی تخمینوں میں اس سال کے لئے جی ڈی پی نمو کا تخمینہ گھٹا کر۲ء۲؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔مارچ کی میٹنگ میں اس کے۲ء۴؍فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ اگرچہ سال۲۰۲۷ء کےلئے تخمینہ ۲ء۳؍ فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے جبکہ۲۰۲۸ء کے لئے اسے۲ء۱؍ فیصد سے بڑھا کر۲ء۲؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔
وارش نے کہا کہ مغربِ ایشیا اور دیگر غیر یقینی صورتحال کے باوجود اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار مضبوط ہے۔ پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور سرمایہ کاری دونوں مضبوط ہیں۔ روزگار کی تخلیق افرادی قوت میں اضافے کے مطابق ہے اور بے روزگاری کی شرح میں معمولی تبدیلی آئی ہے۔ مہنگائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ۵؍ سال سے فیڈرل ریزرو کے۲؍فیصد کے ہدف سے کافی اوپر ہے۔ مسلسل بلند قیمتیں ہندوستان کے افراد کے لئے نہیں بلکہ امریکہ کےباشندوں کے لئے بوجھ بنی ہوئی ہیں۔فیڈ نے اس سال کے لئے صارفین کی قیمتوں پر مبنی مہنگائی کا تخمینہ۲ء۷؍ فیصد سے بڑھا کر۳ء۳؍ فیصد کر دیا ہے۔ سال۲۰۲۷ء کے لئے اسے۲ء۲؍ فیصد سے بڑھا کر۲ء۵؍ فیصد اور۲۰۲۸ء کے لئے ۲؍ فیصد سے بڑھا کر۲ء۱؍فیصد کر دیا گیا ہے۔