اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل نے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں ٹیکس سے متعلق کارروائی کو آسان بنانے کے لیے کئی اصلاحات کا اعلان کیا، تاہم ٹیکس کی شرحوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi
اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل نے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں ٹیکس سے متعلق کارروائی کو آسان بنانے کے لیے کئی اصلاحات کا اعلان کیا، تاہم ٹیکس کی شرحوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل نے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں ٹیکس سے متعلق کارروائی کو آسان بنانے کے لیے کئی اصلاحات کا اعلان کیا، تاہم ٹیکس کی شرحوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اجلاس کے بعد وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بتایا کہ گزشتہ سال ٹیکس کی شرحوں میں کی گئی تبدیلیوں کے بعد اس اجلاس میں اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شرحوں کا جائزہ لینے کے لیے اب سال میں ایک بار الگ سے اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
Union Minister for Finance and Corporate Affairs Smt. @nsitharaman chairs the 57th meeting of the GST Council, in New Delhi, today. The participants included Chief Ministers of Delhi, Goa, Haryana, Jammu & Kashmir, Karnataka, Kerala, Maharashtra, and Meghalaya; Deputy Chief Ministers of Manipur and Telangana; the Finance Ministers and senior members of States/UTs, besides Secretary of Department of Revenue, Chairman and Members of @cbic_india and senior officials of the Ministry of Finance @FinMinIndia.
— Ministry of Finance (@FinMinIndia) October 8, 2026
یہ بھی پڑھئے:فیفا رینکنگ میں اسپین سرفہرست، پرتگال پانچویں نمبر پر پہنچا
انہوں نے کہا کہ سپلائی سلسلے میں کسی ایک کی غلطی کی وجہ سے فی الحال اس میں شامل تمام افراد کا ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) ریٹرن روک دیا جاتا ہے۔ کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک شخص کی غلطی کی سزا سب کو دینے کے بجائے صرف اس کے فوراً بعد والے شخص کا ریٹرن روکنے اور باقی سب کو ریٹرن جمع کرنے کی اجازت دینے کے امکان پر غور کرنے کے لیے افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی ۳؍ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد اسے جی ایس ٹی کونسل کے سامنے رکھا جائے گا اور اس کے فیصلے کو اگلے سال یکم اپریل سے نافذ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اب جی ایس ٹی کے تحت گرفتاری کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے۔ قانونی کارروائی شروع کرنے کی کم از کم حد یکم کروڑ روپے سے بڑھا کر ۵؍ کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کم از کم سزا کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ دیر سے ریٹرن جمع کرنے پر اصل ٹیکس کی رقم کی وصولی، سود اور جرمانے کے علاوہ کوئی کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھئے:افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میں بنگلہ دیش مضبوط دعویدار
جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس سے الگ مرکز حکومت کے ایک اہم فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مرکزی جی ایس ٹی (سی جی ایس ٹی) کے دائرۂ اختیار میں آنے کی وجہ سے بہت سے ٹیکس دہندگان کو فی الحال الگ الگ ریٹرن جمع کرنے پڑتے ہیں۔ سی جی ایس ٹی کے تحت ۵ء۶۹؍ لاکھ ٹیکس دہندگان میں سے ۲؍ لاکھ ٹیکس دہندگان اس زمرے میں آتے ہیں۔ ان کے لیے ایک مربوط نظام بنانے کے لیے ایک خاکہ تیار کیا جائے گا۔ یہ اگلے مالی سال سے نافذ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ رقم واپسی کے دعوے کی وصولی کی تصدیق میں لگنے والے وقت کو ۱۵؍ دن سے کم کرکے اب ۱۰؍ دن کر دیا گیا ہے۔ رجسٹریشن کا عمل آسان بنانے کے لیے درکار دستاویزات کے بارے میں واضح معلومات دستیاب ہوں گی۔ نظام کے ذریعے ہی اداروں کو رہنمائی اور مدد فراہم کی جائے گی۔ چھوٹے سپلائرز کے لیے آن لائن تجارت کے ذریعے سامان فراہم کرنے کے لیے رجسٹریشن کا عمل آسان بنایا جائے گا۔ ٹیکس دہندگان رجسٹریشن کے وقت دی گئی معلومات میں خود ترمیم کر سکیں گے اور رجسٹریشن منسوخ کرنے کی درخواست خود بخود منظور شدہ تصور کی جائے گی۔