وزیر مالیات نے ۵ء۵۳؍ لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش کیا، عالمی صورتحال کے پیش نظر دفاع پر ۸۵ء۷؍ لاکھ کروڑ خرچ کئے جائیں گے، کینسر اور جان بچانے والی ۱۷؍ اہم دوائیں سستی ہوںگی، درآمدی ٹیکس ختم کردیاگیا، انکم ٹیکس جوں کا توں۔
پنجاب میں اہل خانہ وزیرمالیات نرملا سیتارمن کی بجٹ تقریر سنتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اتوار کو ۹؍ واں عام بجٹ پیش کیا جس میں عوام کیلئے کوئی بڑا اعلان نہیں ہے تاہم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور ۲۰۴۷ء تک ’’ترقی یافتہ ہندوستان‘‘ کا ہدف حاصل کرنے کیلئے مینوفیکچرنگ اور انفرااسٹرکچر کے فروغ پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔
۸۵؍ منٹ طویل اپنی بجٹ تقریر میں وزیر مالیات نے حالانکہ ذاتی انکم ٹیکس سلیب میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا مگر یکم اپریل سے نئے انکم ٹیکس ایکٹ کےنفاذ کا اعلان کیا جس کے ذریعہ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس فائل کرنے میں سہولت ہوگی۔ انہوں نے ریلوے پروجیکٹس اور۳؍ نئے آیورویدک ایمس کی تجویز پیش کی۔ سیتارمن بجٹ پیش کرنے کیلئے تمل ناڈو کی مشہور کانچی ورم ساڑھی پہن کر پہنچیں مگر ایسا کوئی اعلان نہیں کیا جو تمل ناڈو،مغربی بنگال، کیرالا، آسام اور پڈوچیری کے انتخابات پر براہِ راست اثر ڈالتا ہوا نظر آئے۔ آپریشن سندور کے بعد پیش کیے گئے پہلے بجٹ میں انہوں نے عالمی منظر نامہ اور چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے دفاعی بجٹ۸۱ء۶؍ لاکھ کروڑ روپے سے بڑھا کر۸۵ء۷؍ لاکھ کروڑ روپے کر دیا۔اس طرح دفاعی بجٹ میں مجموعی طور پر ۲ء۱۵؍ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ہتھیاروں کی خریداری اور فوج کی جدیدکاری کیلئے پچھلے سال ۸۰ء۱؍ لاکھ کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے جسے اس بار بڑھا کر ۲ء۱۹؍ لاکھ کروڑ روپے کردیاگیا ہے۔
مالی سال ۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے مجموعی طور پر ۵۳؍لاکھ ۴۷؍ ہزار ۳۱۵؍ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر مالیات نے عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہندوستانی معیشت کو مضبوط بنانے اور ’’وِکسِت بھارت‘‘کی سمت بڑھنے کیلئے مینوفیکچرنگ، اقتصادی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے ۱۷؍ لاکھ ۱۴؍ ہزار ۵۲۳؍ کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات کا ہدف رکھا ہے۔
وزیر خزانہ نے ایک گھنٹہ ۲۵؍ منٹ کے اپنے خطاب میں کہا کہ سرمایہ جاتی اخراجات بڑھانے کے باوجود مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے۳ء۴؍ فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف ہے۔ موجودہ مالی سال میں مالیاتی خسارہ بجٹ کے اندازہ ۴ء۵؍فیصد کے مقابلے میں۴ء۴ فیصد رہا ہے۔ بجٹ کے بعد شیئر بازاروں میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی اور ایک وقت بی ایس ای کا سینسیکس ۲۳۰۰؍ پوائنٹ تک گر گیا، لیکن بعد میں اس نے کافی حد تک واپسی کی۔