مسافروں کے مطابق اسٹیشن سے کورٹ تک راحت تو ملی ہے لیکن بی کے سی تک سفر کرنے والوں کو اسکائی واک سے پیدل سفر کرنے میں ٹریفک میں پھنسی بس سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ بس، ٹیکسی اور رکشا سے بی کے سی،کلا نگر، چیتنا کالج اور مہاراشٹر نگر جانے والوں کو ٹریفک سےنجات نہیں ملی ہے۔
باندرہ مشرق ریلوے اسٹیشن سے متصل اسکائی واک۔ تصویر:انقلاب
باندرہ مشرق ریلوے اسٹیشن سے متصل حال ہی میں شروع کئے جانے والے اسکائی واک سے باندرہ فیملی کورٹ سے اسٹیشن تک اور اسٹیشن سے کھیڑ واڑی جانے والے راستہ پر ہونے والی ٹریفک اور پیدل یا گاڑیوں میں سفر کرنے والے مسافروں اور راہگیروں کوہونے والی پریشانی سےنجات ملنے کی امید تھی لیکن ایسا ممکن نہیں ہوسکا ہے ۔ روزانہ باندرہ مشرق سے بی کے سی ، کلا نگر ، مہاراشٹر نگر اور اطراف کے علاقوں میں جانے والے مسافروں اور طلبہ کو کوئی قابل ذکر راحت نہیں مل سکی ہے ۔ باندرہ مشرق ریلوے اسٹیشن سےگزرنے والے اکثر راہگیروں، مسافروں اور طلبہ کا کہنا تھا کہ اسکائی واک سے کوئی ٹھوس فائدہ نہیں ہوسکا ہے ۔ ۶۸۰؍ کلو میٹر طویل بنائے جانے والے اس اسکائی واک کوکچھ لوگ جہاں باعث راحت بتاتے ہیں تو وہیں اکثر افراد کا کہنا ہے کہ اتنے طویل اسکائی واک کے بنائے جانے سے آپ ٹریفک سے ، دھوپ سے اور بارش سے تو بچ سکتے ہیں لیکن سفر کے لئے ، بس رکشا یا ٹیکسی کا استعمال کرنے پر مسافروں کو اسی بھیڑ اور ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ۔ باندرہ کورٹ سے ریلوے اسٹیشن تک اور ریلوے اسٹیشن سے کلا نگر یا ، چیتنا کالج کی طرف جانے والے راستے تک پیدل چلنے والوں کے لئے یہ باعث راحت ہوسکتا ہے لیکن لمبی مسافت طے کرنے والوں کو بھیڑ کا نہیں تو ٹریفک جام کا مسئلہ برداشت کرنا ہی پڑتا ہے ۔
باندرہ مشرق ریلوے اسٹیشنوں کے باہر رکشا چلانے والے اکثر رکشا ڈرائیور کے بقول اسکائی واک بننے سے نہ تو رکشا سے سفر کرنے والے مسافروں میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ ہی ٹریفک میں ۔اس ضمن میں آٹو رکشا چالک مالک سنگٹھنا سے وابستہ ڈرائیور رفیق شیخ نے نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ اسکائی واک کے بننے سے کم مسافت طے کرنے والوں کو راحت تو ہوئی ہوگی لیکن اکثر و بیشتر مسافر اسٹیشن سے کلا نگر ، مہاراشٹر نگر ، بامبے بینک ، چیتنا کالج ،بی کے سی ، کھیر واڑی اور باندرہ ٹرمنس کی طرف سفر کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا علاقوں تک جانے کے لئے اکثر لوگ رکشا یا بس کا ہی استعمال کرتے ہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اسکائی واک بننے سے بھیڑ کم ہوئی ہے یا ٹریفک کا مسئلہ حل ہوگیا ہے تو یہ سراسر غلط ہے ۔‘‘
بی کے سی میں ایک پرائیویٹ فرم میں کام کرنے والے سندیپ پاٹل کا کہنا تھا کہ’’ باندرہ مشرق اسٹیشن سے میں رکشا یا بس نمبر ۳۱۰؍ سے اپنے دفتر جاتا تھا ۔ وہی اب بھی کررہا ہوں ، فرق صرف اتنا ہے کہ اب میں اسکائی واک کا استعمال کرکے باندرہ کلا نگر جنکشن تک بریج کے ذریعہ پیدل چل کر بس پکڑتا ہوں لیکن وہاں سے دفتر کا سفر پھر ٹریفک کی نذر ہی ہوجاتا ہے۔‘‘ وہیں اسکائی واک کا فائدہ بیان کرتے ہوئے چیتنا کالج میں زیر تعلیم طالبہ تبسم سرگرو کا کہنا تھا کہ’’ اسٹیشن سے کالج تک پیدل سفر کرنے پر مجھے بھیڑ کے ساتھ ساتھ باندرہ کورٹ تک ٹریفک سے بھی بچ کر چلنا پڑتا تھا اوررکشا کرنے پر ٹریفک کے عذاب کو برداشت کرنا پڑتا تھا ۔ وہیں اب میں آسانی سے اسکائی واک سے کالج کے قریب اترنے والے خود کار زینہ سے اتر کر کالج پہنچ جاتی ہوں ۔‘‘
یاد رہے کہ اس سے قبل بننے والے اسکائی واک کو ۲۰۲۱ء میںمیٹرو لائن ۲ ؍اور بی کے سی تک جوڑنے والا فلائی اوور بنانے کے مقصد سے ختم کیا گیا تھا ۔ وہیں نئے بننے والے اسکائی واک سے ، باندرہ فیملی کورٹ ، باندرہ کلا نگر جنکشن یا چیتنا کالج تک جانے والے بعض مسافر جہاں اسے راحت کا سامان قرار دیتے ہیں ، وہیں بی کے سی ، کلا نگر ،مہاراشٹر نگر ، بامبے بینک، کھیر واڑی اور باندرہ ٹرمنس جانے والے اکثر مسافروں نے اس بریج سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہونے اور ٹریفک کا مسئلہ برقرار ہونےکی ہی شکایت کی ہے۔