• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہترین معاشرہ کی تشکیل کے لئے قرآن کے احکامات پر عمل کرنا ضروری ہے: مولانا سید معین الدین اشرف اشرف

Updated: February 02, 2026, 10:24 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

جامعہ اشرفیہ قادریہ کا ۲۸؍واں سالانہ جلسۂ دستار بندی وحفظ وقرأت کا شاندار انعقاد۔۲۵؍ حفاظ وقراء کو سند فراغت دی گئی۔کثیر تعداد میں علمائے اہلسنت، عمائدین شہر ، مشائخ عظام اور ائمہ کرام اسٹیج پر رونق افروز تھے

Maulana Syed Moinuddin Ashraf, Muhammad Saeed Noori, Syed Hussain Ashraf and other scholars, as well as graduating reciters and reciters, are seen at the 28th Jalsa of Jamia Qadri Ashrafia. Picture: INN
جامعہ قادریہ اشرفیہ کے ۲۸؍ویںجلسہ دستار بندی میںمولانا سید معین الدین اشرف، محمد سعید نوری، سید حسین اشرف اور دیگر علماء کے علاوہ فراغت حاصل کرنے والے حفاظ و قراء نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
دوٹانکی (اسٹاف رپوٹر ): معروف دینی ادارہ جامعہ اشرفیہ قادریہ کا ۲۸؍ واں سالانہ جلسہ دستار بندی وحفظ و قرأت کا سنیچر کو بعد نماز عشاء سنی بلال مسجد میں شاندار انعقاد عمل میں آیا۔جلسے کا آغاز قاری نظام الدین اشرفی نے تلاوت کلام پاک سے کیا ۔ قاری قطب الدین  نے قصیدہ بردہ پیش کیا، معروف شاعر ڈاکٹر سید مناظر حسن اور مولانا احمد رضا نوری میاں نے بارگاہ رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں مولانا سید معین الدین اشرف اشرفی جیلانی ( سجادہ خانقاہ عالیہ کچھوچھہ وصدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما ء) نے کہا کہ ایک بہترین معاشرہ کی تشکیل کے لئے قرآن کے احکامات اور ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔قرآن پر عمل ہر مسائل کا حل ہے ، تمام جرائم کے سد باب کے لئے قرآن کے قوانین کو اپنایا جائے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ قرآنی اصول وضابطہ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہے ۔ 
معین میاں نے حاضرین کو تلقین کی کہ قرآن کی تلاوت کو اگر ہم اپنا معمول بنا لیں تو ہر پریشانی سے نجات مل سکتی ہے۔ راجستھان سے آئے ہوئے مقرر خصوصی مولاناسید نور میاں  نے فضائل قرآن اور عظمت قرآن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نئی نسل کو قرآن کی تعلیم سے آگاہ کرانا نہایت ضروری ہے۔ قوم کی فلاح و بہبود اسی میں ہے کہ دینی اور عصری دونوں تعلیم دی جائے۔ 
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تکمیل حفظ کرنے والے طلبہ، جنہوں نے اپنے سینے میں قرآن محفوظ کرلیا ہے، یہ محافظ قرآن بھی ہیں اور مستقبل میں رہبر قوم بھی ۔ اس کے علاوہ مولانا نے معین میاں کی دینی ، ملی اور سماجی خدمات کی ستائش کی۔ 
جلسہ دستار میں۱۶؍حفاظ اور ۹؍قراء کو معین میاں کے ہاتھوں اسناد سے نوازا گیا۔ بعدہ بارگاہ نبوی میں صلوٰۃ و سلام کا ہدیہ پیش کرنے کے بعد رقت آمیز انداز میں مومنوں کی جان ومال کی سلامتی ، ایمان کی حفاظت، اعمال صالحہ کی پابندی ، ملک میں امن وامان، معاشرہ کی اصلاح ، نوجوانوں کو نشہ کی لعنت سے محفوظ رکھنے اور بے گناہوں کی رہائی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں ۔
اس موقع پر شہید راہ مدینہ انوار اشرف عرف مثنی میاں کے صاحبزادگان سید حسین اشرف، سید علی اشرف اور سید حسن اشرف کے علاوہ کثیر تعداد میں علمائے اہلسنت، عمائدین شہر ، مشائخ عظام  اور ائمہ کرام  اسٹیج پر رونق افروز تھے ۔ ان میں بطور خاص رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری ، جامعہ قادریہ اشرفیہ کے ناظم اعلی مولانا صوفی محمد عمر ، مولانا محمد ابراہیم آسی، مولانا شاہ نواز، مولانا عبدالجبار ماہرالقادری ، مولانا نورالعین ، قاری عطاء اللہ ، مولانا خلیل الرحمٰن نوری،  مولانا الطاف لطیفی ، مولانا محمد عارف، قاری محمد فاروق ، مولانا ابرار ، قاری  عبدالعزیز، حضرت قاری محمد الیاس ، مولانا محمود علی خان ،  قاری راشد اور مولانا امین الدین کے علاوہ دیگر علمائے کرام کے اسماء شامل ہیں۔ نظامت کے فرائض مولانا عبدالرحیم اشرفی نے انجام دیئے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK