کانگریس سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ ۲۲؍ سیٹیں جیت کر بی جے پی دوسرے نمبر پر رہی۔این سی پی (شردپوار) اور شیوسینا (شندے) کو۱۲، ۱۲ ؍ سیٹیں جبکہ سماج وادی پارٹی کو ۶؍سیٹیں ملیں
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 8:27 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
کانگریس سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ ۲۲؍ سیٹیں جیت کر بی جے پی دوسرے نمبر پر رہی۔این سی پی (شردپوار) اور شیوسینا (شندے) کو۱۲، ۱۲ ؍ سیٹیں جبکہ سماج وادی پارٹی کو ۶؍سیٹیں ملیں
بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جمعہ ہوئی اورجو نتائج سامنے آئے اس کے بعد کسی ایک سیاسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے جس کے سبب میونسپل کارپوریشن میں معلق ایوان کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس انتخاب میں کانگریس نے۳۰؍ سیٹیں حاصل کر کے خود کو سب سے بڑی جماعت کے طور پر منوایا ہے۔نتائج کے مطابق بی جے پی۲۲؍سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ این سی پی (شرد پوار ) اور شیوسینا (شندے ) نے۱۲، ۱۲؍ سیٹوںپر کامیابی حاصل کی۔ سماج وادی پارٹی نے۶؍ نشستیں جیتیں، کونارک وکاس اگھاڑی کو ۴؍ اور بھیونڈی وکاس اگھاڑی کو۳؍نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہو ا ہے۔
اس انتخاب میں کئی اہم اور بڑی سیاسی جماعتوں کو غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ شیوسینا (ادھو ٹھاکرے )، مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس)، این سی پی (اجیت پوار) اور مجلس اتحاد المسلمین ( ایم آئی ایم) ایک بھی نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی جو ان جماعتوں کیلئے بڑا سیاسی جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔
انتخابی نتائج میں مسلم نمائندگی بھی خاصی نمایاں رہی۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر ۴۸؍ مسلم کارپوریٹرس منتخب ہوئے ہیں جو شہر کی سیاست میں ایک اہم عددی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ ۲۷؍ مسلم کارپوریٹریس کانگریس سے کامیاب ہوئے ہیں جبکہ این سی پی (شرد پوار) کے۱۲، سماج وادی پارٹی کے۶، شیوسینا (شندے) کے۲؍ اور بی جے پی کا ایک مسلم کارپوریٹر منتخب ہوا ہے۔واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث اب بھیونڈی میونسپل کارپوریشن میں اقتدار کیلئے اتحاد اور سیاسی گفت و شنید کا دور شروع ہو گیا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں یہ طے ہوگا کہ اقتدار کس اتحاد کا ہوگا جس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
مہایوتی کو۳۴؍نشستیں
میونسپل انتخاب میں بی جے پی اور شیوسینا (شندے) کا واحد اتحاد آخر تک برقرار رہا تھا جو مجموعی اعتبار سے کامیاب بھی رہا۔ بی جے پی کو۲۲؍ اور شیوسینا کو۱۲؍ سیٹیں ملنے کے بعد دونوں کو مجموعی طور پر۳۴؍ سیٹیں حاصل ہوئی ہیں ۔ اس کے بعد بھی وہ اکثریت سے ۱۲؍ سیٹیںدور ہیں۔
بی جے پی رکن اسمبلی کا بیٹا شکست سے دوچار
سب سے چونکانے والا نتیجہ وارڈ نمبر ایک (شیواجی چوک علاقے) سے آیا، جہاں مغربی حلقہ کے رکن اسمبلی مہیش چوگھلے کے بیٹے میت چوگھلے کو سابق میئر ولاس پاٹل اور پرتبھا پاٹل کے بیٹے ایڈوکیٹ میوریش پاٹل نے ایک ہزار۶۹۷؍ ووٹوں سے شکست دی۔ میوریش پاٹل کو۷؍ ہزار۴۶۹؍ ووٹ ملے۔ واضح ہوکہ اسی علاقے میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے انتخابی جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔
بی جے پی لیڈر کو باغی نے ہرایا
بی جے پی کے سابق اپوزیشن لیڈر شیام اگروال کو ان ہی کی پارٹی کے باغی (آزاد) امیدوار نتیش انکر نے۲۱؍ ووٹوں سے ہرایا۔ بی جے پی کے باغی امیدوار کو۶؍ ہزار۷۵؍ ووٹ ملے۔ اسی طرح بی جے پی کے نارائن رتن چودھری سب سے زیادہ۷؍ہزار۳۸؍ ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے۔ انہیں۹؍ ہزار۶۴۱؍ ووٹ ملے جبکہ ان کے مقابل آزاد امیدوار پاٹل روی کانت رامچندر کو محض۲؍ ہزار۶۰۳؍ ملے۔
انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے صدر عبدالرشید طاہر مومن نے کہا کہ فرقہ پرست پارٹیوں کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے تمام سیکولر جماعتوں کو متحد ہو کر اپنا میئر منتخب کرنے کی سمت میں سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے زور دیا کہ منتخب کارپوریٹر شہر میں قیام پذیر رہتے ہوئے ایک سیکولر میئر کے انتخاب کو یقینی بنائیں۔