• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانسس ہالزن کو آئس نیوٹرینو کی دریافت پر نوبیل انعام برائے طبیعیات۲۰۲۶ء دیا گیا

Updated: October 06, 2026, 9:34 PM IST | Stolkhomes

فرانسس ہالزن کو نوبیل انعام برائے طبیعیات۲۰۲۶ء دیا گیا،ہالزن کو آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری میں فیصلہ کن خدمات اور فلکی طبیعیاتی ماخذ کے اعلیٰ توانائی والے نیوٹرینوز کی دریافت پر نوبیل انعام دیا گیا ہے۔

Francis Halzen . Photo: X
فرانسس ہالزن۔ تصویر: ایکس

رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنس نے منگل کو اعلان کیا کہ طبیعیات کا۲۰۲۶ء کا نوبیل انعام فرانسس ہالزن کو ’’آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری‘‘ میں فیصلہ کن خدمات اور فلکی طبیعیاتی ماخذ کے اعلیٰ توانائی والے نیوٹرینوز کی دریافت پر دیا گیا ہے۔نوبیل پرائز کے ہینڈل سے ایکس پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا، ’’رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنس نے  ۲۰۲۶ء کا نوبیل انعام برائے طبیعیات فرانسس ہالزن کو آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری میں فیصلہ کن خدمات اور فلکی طبیعیاتی ماخذ کے اعلیٰ توانائی والے نیوٹرینوز کی دریافت پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘نوبیل کمیٹی برائے طبیعیات کے چیئر مارک پیئرس نے ایک نیوز ریلیز میں کہا، ’’فرانسس ہالزن نے محققین اور انجینئرز کی ایک بین الاقوامی ٹیم کی قیادت کی ہے جس نے ہمیں ایک شاندار آلہ فراہم کیا ہے۔ ان کی ثابت قدمی اور سائنسی وژن نے ایک نئی قسم کی فلکیات کی راہ ہموار کی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک ایک ’غنڈہ‘ ہے جو صرف اسے جواب دینے والوں کی عزت کرتا ہے: سیم آلٹمین

بیلجیم میں پیدا ہونے والے۸۲؍ سالہ سائنسدان فرانسس ہالزن آئس کیوب کے پرنسپل انویسٹی گیٹر، امریکہ میں یونیورسٹی آف وسکونسن-میڈیسن میں ویلاس ریسرچ پروفیسر اور گریگوری بریٹ پروفیسر ہیں، اس کے علاوہ وہ پارٹیکل فزکس، ایسٹرو فزکس اور کاسمولوجی کمیونٹیز پر محیط مسائل کا مطالعہ کرتے ہیں۔۱۹۸۷ء میں، ہالزن نے AMANDA تجربے پر کام شروع کیا، جو جنوبی قطب پر پہلی نسل کی نیوٹرینو دوربین تھی جو آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کے لیے ایک پروف آف کنسیپٹ تھی۔بعد ازاں ہالزن نے محسوس کیا کہ جنوبی قطب پر برف کو نیوٹرینو نامی ذرات کو ٹریک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نیوٹرینو ہر جگہ موجود ہیں، لیکن وہ خود کو ظاہر نہیں کرتے۔ وہ پوری زمین اور ہمارے جسموں سے گزر جاتے ہیں بغیر ہمیں پتہ چلے۔ ہالزن کا وژن اور سائنسی قیادت آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کے لیے بنیادی رہی ہے ۔ واضح رہے کہ یہ ایک کیوبک کلومیٹر برف ہے جو لائٹ سینسرز سے لیس ہے۔ آئس کیوب کا استعمال کرتے ہوئے، محققین دور دراز کائنات میں انتہائی توانائی سے بھرپور عمل سے نیوٹرینو کو پکڑ سکتے ہیں۔ہالزن SNO، ٹیلیسکوپ اری، اور آجر اپ گریڈ تجربات، ہیڈلبرگ اور میونخ میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹس؛ یونیورسٹی آف ٹوکیو کے ICRR؛ یو ایس پارٹیکل فزکس پرائیورٹائزیشن پینل؛ اور یورپ میں ApPEC پارٹیکل ایسٹرو فزکس ایڈوائزری پینل کے لیے مشاورتی کمیٹیوں میں بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: روس: سائبیریا میں طاعون کا اثر، ایک کی موت، سیکڑوں افراد کو کوارنٹائن کیا گیا

واضح رہے کہ اس سال انعامی رقم۱۲؍ ملین سویڈش کرونر (تقریباً ۱۲؍ لاکھ ڈالر) ہے، چاہے کسی فرد، انعام یافتگان کے چھوٹے گروپ یا کسی تنظیم کے لیے ہو ۔ جبکہ گزشتہ سال، تین سائنسدانوں نے کوانٹم ٹنلنگ نامی ذیلی ایٹمی ذرات کے عجیب رویے پر تحقیق کے لیے طبیعیات کا نوبیل انعام جیتا تھا جس نے ایم آر آئی مشینوں کے ذریعے حاصل کی جانے والی انتہائی حساس پیمائشوں کو ممکن بنایا اور بہتر سیل فونز اور تیز کمپیوٹرز کی بنیاد رکھی۔بعد ازاں ۲۰۲۶ء کے انعامات کے اعلانات کا آغاز پیر کو ہوا، جس میں طب کا نوبیل انعام تین سائنسدانوں کو دیا گیا جن کے کام نے ایک ایسا آلہ بنایا جو روشنی کا استعمال کرتے ہوئے یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ دماغ کیسے کام کرتا ہے۔جبکہ کیمسٹری کا نوبیل انعام بدھ کو، اورادب کا انعام جمعرات کو اعلان کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ امن کا نوبیل جمعہ کو اعلان کیا جائے گا، جبکہ معاشیات میں نوبیل میموریل پرائز پیر کو اعلان کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK