تجربہ گاہ میں کام کرنے والی ملازمہ کے ہاتھوں زندہ بیکٹیریا والا ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹ گیا اور وہ طاعون کی زدمیں آگئی، کچھ دن بعد اس کی موت ہوگئی ، اس کے رابطے میں ۲۰۰؍ سے زائد افراد آئے۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 1:48 PM IST | Agency | Moscow
تجربہ گاہ میں کام کرنے والی ملازمہ کے ہاتھوں زندہ بیکٹیریا والا ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹ گیا اور وہ طاعون کی زدمیں آگئی، کچھ دن بعد اس کی موت ہوگئی ، اس کے رابطے میں ۲۰۰؍ سے زائد افراد آئے۔
وہائٹ ہاؤس ایسے وقت میں روس میں طاعون کی ممکنہ وبا پر نظر رکھے ہوئے ہےجبکہ وہاں ایک لیبارٹری ٹیکنیشین کی موت کے بعد اس کے رابطے میں آنے والے سیکڑوں افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ انتظامیہ صورتحال سے باخبر ہے اور اس وبا کی نگرانی کر رہا ہے ۔ روس کے علاقے سائبیریا میں ارکتسک (Irkutsk) اینٹی پلگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والی۲۸؍ سالہ داریا شیپلووا مبینہ طور پر ’نیومونک طاعون‘ میںمبتلا ہوئی۔ شیپلووا نے طبی عملے کو بتایا تھا کہ اس سے زندہ بیکٹیریا والا ٹیسٹ ٹیوب غلطی سے ٹوٹ گیا تھا۔ اس کے بعد منگولیا کے ساتھ روس کی مشرقی سرحد کے پاس واقع علاقے بوریاتیامیں ساتھیوں کے ساتھ ایک فیلڈ مہم کے دوران ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔
یہ بھی پڑھئے:ترکی خلائی کانگریس: ۲۱؍ ممالک کے درمیان اتفاق رائے سے انطالیہ اعلامیہ منظور
شیپلووا کو ۲۹؍ ستمبر کو اسپتال داخل کیا گیا اور وینٹی لیٹر پر رکھا گیا، لیکن وہ دو دن بعد انتقال کر گئیں۔وہ تقریباً۲۰۰؍ افراد کے رابطے میں آئیں، جنہیں اب وبا کے خدشات کے پیشِ نظر زیر ِ نگرانی رکھا گیا ہے۔خطے کے تین اسپتالوں میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور ماسک پہننا لازمی کردیا گیا ہے۔ماسکوٹائمس کے مطابق، ارکتسک کے گورنر ایگور کوبزیو نے کہا کہ جن افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے، ان میں بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی اور ان کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ جس اسپتال میں شیپلووا کا علاج کیا گیا، وہ بھی ان طبی مراکز میں شامل ہے جنہیں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ دیگر مراکز نے ان لوگوں کو ر کھا ہے جو شیپلووا کے رابطے میں آئے تھے۔
نیومونک طاعون پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن کا سبب بنتا ہے جس کی علامات میں بخار، سانس لینے میں دشواری اور خونی کھانسی شامل ہیں، جو عام طور پر رابطے کے تین سے سات دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر انفیکشن کے پہلے۲۴؍ گھنٹوں کے اندر اینٹی بائیوٹکس سے علاج کیا جائے تو نیومونک طاعون سے اموات کی شرح کم ہو کر تقریباً۱۷؍ فیصد رہ جاتی ہے۔ تاہم، علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یمنی فوج کا حوثیوں کیخلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
ایسے دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ روسی حکام اصل واقعہ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بیماری کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی ادویات خطے میں کم ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے خوفزدہ شہری سپلائی کے حصول کیلئے فارمیسیوں اور طبی مراکز کا رُخ کر رہے ہیں۔ماسکو ٹائمس کے مطابق، روس کے ایک سینئر ماہر وبائی امراض میخائل فیفوروف نے ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹنے کی توجیہ کو مسترد کر دیا۔ فیفوروف نے کہاکہ یہ ہنسنے کی بات ہے۔ ارکتسک کے اینٹی پلگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والا شخص حفاظتی سوٹ پہنتا ہے۔ اگر آپ ٹیسٹ ٹیوب توڑ بھی دیں، تو انفیکشن کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ انتہائی ہلا دینے والا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بتایا جائے گا کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔نیومونک طاعون یرسینیا پیسٹس نامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والی تین اقسام میں سے ایک ہے ۔ یہ کسی دوسرے شخص سے ہوا میں موجود ذرات کے سانس کے ذریعے اندر جانے سے پھیلتا ہے۔