گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر لگا کر اور ہاتھوں میں لاؤڈ اسپیکر اٹھائے امیدواراور انکے حامی اپنے حلقوں میں صبح ۱۰؍ سے رات دس بجے تک گھوم رہے ہیں۔
ایک انتخابی تشہیری ریلی کی تصویر ، جس میں ڈھول تاشے کے ساتھ امیدوار کیلئے ووٹ مانگا جارہا ہے۔ تصویر: آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) انتخابات میں ووٹنگ کے لئے اب صرف ۷؍ دن باقی رہ گئے ہیں۔ اسی کے پیشِ نظر امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم میں تیزی آ گئی ہے۔ گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر لگا کر اور ہاتھوں میں لاؤڈ اسپیکر اٹھائے امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں صبح دس بجے سے رات دس بجے تک کارکنوں کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ کئی امیدواروں نے اپنی تشہیری مہم کے لیے خصوصی گاڑیاں بھی تیار کر لی ہیں۔ ان گاڑیوں اور تشہیری ریلیوں کے ذریعے ہونے والی مہم کے سبب صوتی آلودگی میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے جس سے شہری شدید پریشان ہیں۔شہر کے در و دیوار انتخابی نعروں اور لاوڈ اسپیکروں کی گونج رہے ہیں جس نے عوامی سکون کو غارت کرکے رکھ دیا ہے۔
انتخابی مہم میں شدت آنے کے بعد امیدواروں نے قانونی حدوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ شہر کی ہر گلی اور نکڑ پر رکشوں اور خصوصی گاڑیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکر صبح ۱۰ ؍بجے سے رات ۱۰ ؍بجے تک مسلسل شور مچا رہے ہیں۔ جب دو حریف امیدواروں کی ریلیاں آمنے سامنے آتی ہیں تو نعرے بازی اور اسپیکروں کا مقابلہ شور کی آلودگی کو خطرناک حد تک بڑھا دیتا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسپتالوں جیسے حساس علاقوں میں بھی یہ انتخابی گاڑیاں بلا خوف و خطر بلند آواز میں گانے بجا رہی ہیں جس سے مریضوں اور تیمارداروں کو شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتخاب کے نام پر انہیں صرف ذہنی کوفت دی جا رہی ہے۔ گھروں کے دروازوں پر روزانہ درجنوں اشتہاری پمفلٹ پھینک دیے جاتے ہیں جنہیں کوئی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتا اور وہ براہ راست کوڑے دان کی نذر ہو رہے ہیں۔سماجی کارکن ایڈوکیٹ عزیر نجے نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ الیکشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آواز کی مقررہ حد سے تجاوز کرنے والے آٹو رکشا ڈرائیوروں اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے امیدواروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو اس سیاسی عذاب سے فوری نجات مل سکے۔