Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایئر انڈیا حادثے میں جاں بحق، سورت کے تاجر عقیل ناناباوا کی یاد میں انڈونیشیا میں مسجد تعمیر کی گئی

Updated: June 13, 2026, 8:02 PM IST | Surat

عقیل نے چند سال قبل لومبوک کے دورے کے دوران نوٹس کیا تھا کہ وہاں کی مقامی آبادی کیلئے عبادت کی کوئی جگہ موجود نہیں تھی۔ اس کے بعد، انہوں نے وہاں ایک مسجد بنانے کی اپنی خواہش کا اظہار اپنے خاندان اور دوستوں سے کیا تھا۔ اپنی زندگی میں انہیں خود تو کبھی یہ موقع نہ مل سکا، لیکن اس پروجیکٹ کو ان کے چھوٹے بھائی حمزہ نے آگے بڑھایا۔

Photo: X
عقیل ناناباوا اپنی شریک حیات حنا اور چار سالہ بیٹی سارہ کے ساتھ۔ تصویر: ایکس

بالی کے مشرق میں واقع انڈونیشیائی جزیرے لومبوک (Lombok) پر کریم رنگ کے ستونوں اور خوبصورت آرائشی مہرابوں والی ایک مسجد، سورت (گجرات) کے ۳۶ سالہ تاجر عقیل ناناباوا کی یاد میں قائم کی گئی ہے، جو گزشتہ سال ۱۲ جون کو ایئر انڈیا کی پرواز ۱۷۱ کے حادثے میں اپنی بیوی حنا اور چار سالہ بیٹی سارہ کے ساتھ ہلاک ہوگئے تھے۔ واضح رہے کہ یہ ڈریم لائنر طیارہ احمد آباد کے سردار پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے چند منٹ بعد ہی حادثے کا شکار ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار ۲۴۲ افراد میں سے ۲۴۱ ہلاک ہوگئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق، عقیل نے چند سال قبل لومبوک کا دورے کے دوران نوٹس کیا تھا کہ وہاں کی مقامی آبادی کیلئے عبادت کی کوئی جگہ موجود نہیں تھی۔ اس کے بعد، انہوں نے وہاں ایک مسجد بنانے کی اپنی خواہش کا اظہار اپنے خاندان اور دوستوں سے کیا تھا۔ اپنی زندگی میں انہیں خود تو کبھی یہ موقع نہ مل سکا، لیکن اس پروجیکٹ کو ان کے چھوٹے بھائی حمزہ ناناباوا نے آگے بڑھایا، جنہوں نے برطانیہ میں قائم ایک فلاحی تنظیم ’بینیفٹ مین کائنڈ‘ (Benefit Mankind) کے ذریعے آٹھ ماہ کے دوران ۲۳ ہزار پاؤنڈز (تقریباً ۳۰ لاکھ روپے) جمع کئے۔ یہ مسجد اس سال رمضان کے پہلے دن، یعنی ۱۹ فروری کو کھولی گئی۔ اسی جگہ پر ایک مدرسے اور شیلٹر ہومز (پناہ گاہوں) پر کام اب بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: احمد آباد طیارہ حادثے کی پہلی برسی، ہولناک یادیں آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں

عقیل کے ۶۵ سالہ والد عبداللہ نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا کہ عقیل کا خاندان گزشتہ سال ۶ جون کو بقرعید منانے کیلئے ایک سرپرائز وزٹ پر سورت آیا تھا۔ ان کیلئے ”اپنے پیارے بیٹے عقیل اور لاڈلی پوتی سارہ کو اچانک گھر کی دہلیز پر دیکھنا ایک خوبصورت سرپرائز تھا۔“ ۱۲ جون کی صبح، عبداللہ خود اس خاندان کو گاڑی میں چھوڑنے ایئرپورٹ گئے۔ سورت واپس آتے ہوئے انہیں حادثے کی اطلاع ملی اور وہ فوری طور پر واپس مڑے۔ خاندان نے احمد آباد کے سول ہسپتال میں لاشوں کی شناخت کی کوششوں میں چار دن گزارے۔ عقیل، حنا اور سارہ کو ہری پورہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

گلوسٹر (Gloucester)، برطانیہ میں پیدا ہوئے اور یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے تعلیم یافتہ عقیل ایک ریکروٹمنٹ ایجنسی چلاتے تھے جس کی شاخیں برطانیہ، ہندوستان اور دبئی میں قائم تھیں۔ وہ فٹبال کے بھی انتہائی شوقین کھلاڑی تھے اور بنگال ڈریگنز، کے ٹو ایف سی (K2 FC) اور رائزنگ اسٹارز ایف سی کیلئے کھیلتے تھے۔ گزشتہ سال اگست میں، دونوں کلبوں نے نیوپورٹ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ان کی یاد میں ایک تعزیتی میچ کا انعقاد بھی کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: احمد آباد حادثہ کےمہلوکین کے ورثاء میں ۹۱؍ فیصد کو مل چکا ہے معاوضہ: ایئر انڈیا

ایئر انڈیا سے معاوضے کے حوالے سے عبداللہ نے کہا: ”پیسہ میرے بیٹے کو واپس نہیں لا سکتا۔ ہم بین الاقوامی عدالت میں ایئر انڈیا کے حکام کے خلاف ایک قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK