نارویجین صحافی لینگ، جنہوں نے وزیرِ اعظم مودی پر پریس سے گفتگو نہ کرنے پر تنقید کی تھی، کے وائرل ہونے کے بعد ان کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس معطل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اسے ”آزاد صحافت کیلئے ادا کی جانے والی چھوٹی سی قیمت“ قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 5:07 PM IST | Oslo
نارویجین صحافی لینگ، جنہوں نے وزیرِ اعظم مودی پر پریس سے گفتگو نہ کرنے پر تنقید کی تھی، کے وائرل ہونے کے بعد ان کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس معطل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اسے ”آزاد صحافت کیلئے ادا کی جانے والی چھوٹی سی قیمت“ قرار دیا ہے۔
نارویجین صحافی ہیلے لینگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ان کے ناروے کے دورے کے دوران سوالات پوچھنے پر وائرل ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد میٹا نے ان کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس معطل کر دیئے۔
نارویجین روزنامہ ’داگس آویسن‘ (Dagsavisen) کی صحافی نے ایکس پر انسٹاگرام اکاؤنٹ کے معطل ہونے کے متعلق بتاتے ہوئے لکھا کہ وہ میٹا کی ملکیت والے دونوں سوشل میڈیا ایپس پر اپنے اکاؤنٹس تک رسائی کھو چکی ہیں۔ لینگ نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ”اگر آپ مجھ سے انسٹاگرام یا فیس بک پر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ میرے دونوں اکاؤنٹس کو معطل کر دیا گیا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہندوستانی صارفین کے پیغامات کے جوابات دینے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن اب اس معطلی کی وجہ سے تاخیر ہوگی۔ میٹا کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ کو ٹیگ کرتے ہوئے لینگ نے لکھا: ”مجھے امید ہے کہ مجھے میرے اکاؤنٹس واپس مل جائیں گے۔“
Throughout all day I have struggled to log onto my Instagram account. Now I have been suspended. It is a small prize to pay for press freedom, but I’ve never experienced it before. pic.twitter.com/XCitS65Rlg
— Helle Lyng (@HelleLyngSvends) May 19, 2026
ایک اور پوسٹ میں، لینگ نے انسٹاگرام تک رسائی میں آنے والی مشکلات کو ظاہر کرنے والا ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا اور کہا کہ ”انہوں نے پہلے کبھی ایسی صورتحال کا تجربہ نہیں کیا۔“ اسے ”آزاد صحافت کیلئے ادا کی جانے والی چھوٹی سی قیمت“ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کرنے کیلئے دن بھر جدوجہد کرتی رہیں۔
واضح رہے کہ لینگ کے اکاؤنٹس کی معطلی، مودی کے دورہ ناروے کے دوران نارویجین صحافی کے ایک وائرل ویڈیو کے بعد سامنے آئی ہے۔ لینگ نے ناروے کے وزیرِ اعظم جوناس گہر اسٹورے کے ساتھ مودی کی مشترکہ پیشی کے دوران سوال و جواب کا سیشن نہ ہونے پر تنقید کی تھی۔ پریس کانفرنس کے بعد مودی کے وہاں سے روانہ ہونے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ ہندوستانی وزیرِ اعظم نے ان کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس ویڈیو کلپ میں ایک آواز کو یہ پوچھتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ”آپ دنیا کے آزاد ترین پریس سے کچھ سوالات کیوں نہیں لیتے؟“ لینگ نے بعد میں لکھا کہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ناروے سر فہرست ہے جبکہ ہندوستان ۱۵۷ ویں مقام پر ہے۔
ناروے میں ہندوستانی سفارت خانے کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ نے لینگ کی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے انہیں مودی کے دورے کے دوران منعقدہ ایک الگ میڈیا بریفنگ میں شرکت کرنے اور وہاں سوالات پوچھنے کی دعوت دی تھی۔ اس واقعے کے بعد اوسلو میں وزارتِ خارجہ کی ایک بریفنگ میں شدید نوک جھونک ہوئی تھی، جہاں ہندوستانی حکام نے پریس کی آزادی اور انسانی حقوق کے بارے میں نارویجین صحافیوں کے سوالات کے بعد ہندوستان کے جمہوری نظام اور میڈیا کے ماحول کا دفاع کیا تھا۔ لینگ نے انٹرنیٹ پر اس معاملے پر تبصرے جاری رکھے اور بعد میں کہا کہ ناروے اب بھی ”ایک صحافی کے طور پر کام کرنے کیلئے دنیا کے محفوظ ترین مقامات میں سے ایک ہے۔“
میٹا نے ان کے اکاؤنٹس کی معطلی پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔