Inquilab Logo Happiest Places to Work

صرف پانچ ریاستیں ہندوستان کی جی ڈی پی میں تقریباً۵۰؍ فیصد حصہ ڈالتی ہیں

Updated: May 20, 2026, 5:08 PM IST | New Delhi

ہندوستان کی معیشت چند بڑی ریاستوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے، جہاں مہاراشٹر، تمل ناڈو اور کرناٹک جیسی ریاستیں قومی ترقی میں سب سے بڑا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایک نئی وائٹ پیپر رپورٹ میں معاشی تفاوت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور مختلف ریاستوں کی ترقیاتی رفتار پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کلائنٹ اسوسی ایٹس پرائیویٹ ویلتھ مینجمنٹ کی ایک وائٹ پیپر میں ہندوستانی ریاستوں کے درمیان شدید معاشی تفاوت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سرفہرست پانچ ریاستیں مہاراشٹر، تمل ناڈو، اتر پردیش، کرناٹک اور گجرات ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) میں تقریباً ۴۸؍فیصد حصہ ڈالتی ہیں، جن میں صرف مہاراشٹر کا حصہ۱۳ء۳؍فیصد ہے۔ اس کے برعکس، آخری دس ریاستیں قومی جی ڈی پی میں محض۳؍ فیصد حصہ رکھتی ہیں۔ سال بہ سال ترقی (YoY Growth) کے لحاظ سے تمل ناڈو نے ۱۶؍فیصد کی سب سے زیادہ ترقی ریکارڈ کی، جبکہ اتر پردیش نے پانچ سالہ مدت میں ۱۵ء۳؍ فیصد کی کمپاؤنڈ سالانہ شرح نمو (CAGR) درج کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’ناروے کی کمپنیوں کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں‘

ملک بھر میں اوسط فی کس آمدنی۲ء۵۸؍لاکھ روپے ہے، جبکہ۱۶؍ ریاستیں اس اوسط سے زیادہ فی کس آمدنی رکھتی ہیں۔ سکم، گوا اور دہلی میں سب سے زیادہ فی کس آمدنی دیکھی گئی، جبکہ بہار سب سے کم فی کس آمدنی والی ریاست ہے جہاں یہ رقم \۶۹؍ ہزار ۳۲۱؍روپے ہے۔ اتر پردیش اور بہار مل کر ملک کی۲۷؍ فیصد آبادی پر مشتمل ہیں اور ان دونوں ریاستوں میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ 
ہندوستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI)
ہندوستان میں مالی سال ۲۰۲۵ءکے دوران ایف ڈی آئی کی آمد۴ء۲۲؍ لاکھ کروڑ روپے رہی، جو سال بہ سال۱۴ء۷؍فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، یہ سرمایہ کاری زیادہ تر پانچ ریاستوں مہاراشٹر، دہلی، کرناٹک، گجرات اور تمل ناڈو میں مرکوز رہی، جنہوں نے مجموعی ایف ڈی آئی کا۸۳ء۳؍فیصد حاصل کیا۔ تمل ناڈو اور ہریانہ تیزی سے ابھرتی ہوئی ایف ڈی آئی منزلوں کے طور پر سامنے آئے، جبکہ اتر پردیش اور راجستھان پالیسی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی بدولت سرمایہ کاری کے نئے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امرتسر سےدبئی کی پروازیں دوبارہ شروع، انڈیگو کی شارجہ پرواز کا بھی کل سے دوبارہ آغاز

وائٹ پیپر میں ہندوستانی ریاستوں کو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:
(۱) مضبوط معاشی ستون (Established Anchors): گجرات، کرناٹک، مہاراشٹر اور تمل ناڈو 
(۲) اعلیٰ صلاحیت کے حامل خطے (High-Potential Performers): دہلی، تلنگانہ، آندھرا پردیش، ہریانہ اور ادیشہ
(۳) اصلاحات کے مواقع رکھنے والی ریاستیں (Reform Opportunities): اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، بہار، مغربی بنگال اور کیرالا 
(۴) مالی بحالی کی ضرورت والی ریاستیں (Fiscal Rehabilitation Needed): پنجاب، ہماچل پردیش، میزورم اور جموں کشمیر

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اور ناروے تعلقات کوگرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں بدلنے کا فیصلہ: مودی

وائٹ پیپر پر تبصرہ کرتے ہوئے روہت سرین نے کہا:’’ہندوستان کی ترقی کی کہانی چند ریاستوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جہاں کچھ معیشتیں ۱۰؍ فیصد سے زیادہ رفتار سے ترقی کر رہی ہیں، جبکہ دیگر ریاستیں مجموعی قومی شرح نمو کو تقریباً۷؍ فیصد تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔ اصل موقع اس بات میں ہے کہ معاشی ترقی کا دائرہ سرفہرست ترقی یافتہ ریاستوں سے آگے بڑھایا جائے۔ اگر مزید ریاستیں اصلاحات، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دیں تو ہندوستان دو ہندسوں والی شرح نمو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس مقصد کیلئے نجی شعبے کی مضبوط شمولیت، مسلسل سرمایہ کاری (Capex) اور عالمی سرمایہ کو متوجہ کرنے کیلئے گہری اصلاحات ناگزیر ہوں گی۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK