معروف امریکی گلوکارہ شیریل کرو نے جیفری ایپسٹین تحقیقات سے متعلق دستاویزات کے جاری ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کامواخذہ کرنے اور ان کی گرفتاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 10, 2026, 1:07 PM IST | Agency | New York
معروف امریکی گلوکارہ شیریل کرو نے جیفری ایپسٹین تحقیقات سے متعلق دستاویزات کے جاری ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کامواخذہ کرنے اور ان کی گرفتاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
معروف امریکی گلوکارہ شیریل کرو نے جیفری ایپسٹین تحقیقات سے متعلق دستاویزات کے جاری ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کامواخذہ کرنے اور ان کی گرفتاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے اس مطالبے سے بااثر شخصیات کے احتساب پر نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’ ’لاہور ۱۹۴۷ء‘‘ کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان
اطلاع کے مطابق شیریل کرو نے انسٹاگرام پر بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایپسٹین فائلز سے متعلق مختلف ممالک میں نامزد افراد کو نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مگر امریکہ میں یا تو اس معاملے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا اسے جھوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں شہزادہ اینڈریو کا نام اس فائل میں آیا ہے جس کی وجہ سے انہیں جس کی وجہ سے ان کا شاہی رتبہ ختم کر دیا گیا۔ اسی طرح دیگر ممالک میں بھی مختلف قسم کی کارروائی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ: پاکستان حکومت کا یوٹرن! ۱۵؍ فروری کو ہند-پاکستان میچ ہوگا
اسی پس منظر میں گلوکارہ نے کہا کہ اگر بااثر لیڈروں کو بچوں کے استحصال سے متعلق الزامات پر جواب دہ نہ ٹھہرایا گیا تو یہ انصاف کے اصولوں کے منافی عمل ہوگا۔ شریل کرونے کہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے علاوہ ہر وہ شخص، خواہ وہ ڈیموکریٹ ہو یا ریپبلکن، ملکی ہو یا غیرملکی، جسے اس معاملے کا علم تھا اور اس نے خاموشی اختیار کی، اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے تحت حال ہی میں تقریباً۳۰؍ لاکھ صفحات، ویڈیوز اور تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں متعدد بااثر شخصیات کے ناموں کا ذکر ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے جزیرے پر جا کر پارٹیوں میں شرکت کی اور وہاں معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ ان میں بل کلنٹن سے لے کر بل گیٹس تک کئی عالمی شخصیات شامل ہیں ۔ ان میں کئی ایسے نام بھی شامل ہیں جو خواتین کے حقوق کے علمبردار کہلاتے تھے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فائل میں کسی کا صرف نام آجانا مجرمانہ عمل کا ثبوت نہیں ہوتا۔ فی الحال اس معاملے میں اور بھی فائلیں ہیں جنہیں منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔ امکان ہے آئندہ لایا جائے گا۔