امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی مغربی کنارے میں اسرائیل کے کنٹرول کے فیصلے کی مخالفت کی ہے، جب کہ برطانیہ نے بھی اسرائیل سے فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 10, 2026, 1:39 PM IST | New York
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی مغربی کنارے میں اسرائیل کے کنٹرول کے فیصلے کی مخالفت کی ہے، جب کہ برطانیہ نے بھی اسرائیل سے فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی مغربی کنارے میں اسرائیل کے کنٹرول کے فیصلے کی مخالفت کی ہے، جب کہ برطانیہ نے بھی اسرائیل سے فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کے اعلان کے ایک دن بعد وہائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے پیر کے روز بتایا کہ امریکی صدر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کے مخالف ہیں۔
اسرائیل کے اقدام کے خلاف عالمی سطح پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے، جس میں یورپی یونین، برطانیہ، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ برطانوی حکومت نے بھی کہا کہ وہ مغربی کنارے پر قبضے کو وسعت دینے کے اسرئیلی کابینہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، فلسطین کی جغرافیائی ساخت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے، ایسی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہوگی، اسرائیل فیصلہ فوری واپس لے۔
واضح رہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول بڑھانے اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں مزید غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے اقدامات پر پاکستان، سعودی عرب اور مصر سمیت ۸؍ اسلامی ممالک، یورپی یونین اور سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے بھی اسرائیل کی مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’ ’لاہور ۱۹۴۷ء‘‘ کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان
نئے اقدامات کے تحت اسرائیلی شہریوں کے لیے نئی یہودی بستیوں کے قیام کی خاطر زمین حاصل کرنا بھی آسان بنا دیا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بستیاں غیر قانونی ہیں۔ پیر کو آٹھ مسلم اکثریتی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی فیصلے اور اقدامات فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ: پاکستان حکومت کا یوٹرن! ۱۵؍ فروری کو ہند-پاکستان میچ ہوگا
مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے کہا کہ یہ اقدامات یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کو مضبوط کرنے، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی قانونی اور انتظامی حقیقت نافذ کرنے کی کوشش ہیں، جس کے ذریعے اس کے غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، برطانیہ اور اسپین نے بھی بڑھتی ہوئی مذمت میں شمولیت اختیار کی۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق گوتریس نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات عدم استحکام پیدا کرنے والے ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی غزہ میں بربریت جاری ہے، اسرائیل نے مزید ۴؍ فلسطینی شہید کر دیے۔ صہیونی فوج نےغزہ سٹی میں بے گھر افراد کی عمارت کو نشانہ بنایا۔