Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’گھر کے بدلے گھر اور دُکان کے بدلے دُکان کے سوا کچھ بھی منظور نہیں ‘‘

Updated: April 06, 2026, 11:30 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Dharavi

دھاراوی کے مسئلہ پر ہنگامی میٹنگ، اڈانی گروپ کے ذریعے سروے اور دھاراوی کے الگ الگ حصوں میں ۸۰؍ فیصد سے زائد مکینوں کو غیر قانونی قرار دینے پر سخت برہمی۔

Meeting participants discussing. Photo: INN
میٹنگ کےشرکاء تبادلہ خیال کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

گھر کے بدلے گھر اور دکان کے بدلے دکان کے سوا کچھ بھی منظور نہیں ۔ اتوار۵؍اپریل کی شام ۷؍ بجے دھاراوی کی پی ایم جی کالونی میں واقع راجے شیواجی ودیالیہ میں دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران کی جانب سے ہنگامی میٹنگ بلائی گئی۔ اس میں مقامی ایم ایل اے ڈاکٹر جیوتی گائیکواڑ اور نومنتخب کارپوریٹرس ٹی ایم جگدیش، ہرشل امورے، جوکف کولی، ارچنا اورت شندے، آشا دیپک کالے اور ساجدہ ببو خان کو بھی مدعو کیا گیا اور ان کا استقبال کیا گیا۔ اس کےساتھ ہی ان سے بھی دھاراوی واسیوں کے مسائل پر توجہ مبذول کرنے کی درخواست کی گئی۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بی ایم سی الیکشن میں دھاراوی کے مسائل اور خاص طور پر باز آبادکاری اہم مدعا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: کوئلہ اور لکڑی مہنگی، کیروسین کی قلت سے خواتین پریشان

اس میٹنگ کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ ہم اپنا سنگھرش جاری رکھیں گے، آپسی اتحاد اور ایکتا کو اور مضبوط کریں گے اور اپنے پرانے مطالبے سے نہ ہٹیں گے اور نہ دھاراوی سے باہر جائیں گے، کے مطالبے پر اٹل رہیں۔ اس میٹنگ میں یہ پیغام بھی دیا گیا کہ جن مکینوں کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے، وہ گھبرائیں نہیں ، نہ ہی مایوس ہوں بلکہ ہم سب ان کے ساتھ ہیں اور ایک ایک دھاراوی واسی متحد ہیں کیونکہ سب کا مسئلہ یکساں ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ دھاراوی جسے’ منی ممبئی‘ بھی کہا جاتا ہے، یہاں بسنے والوں کے ساتھ کس طرح کی سازش رچی گئی ہے اور کیسے ان کو بے گھر کرنے اور ان کو دھاراوی سے باہر ملنڈ، مانخورد، ملاڈ مالونی، گوونڈی اور نمک سازی کی زمینوں پر بسانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، مگر دھاراوی واسی اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے، وہ یہیں رہیں گے اور پوری قوت سے ایسی طاقتوں کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ میٹنگ میں اس معاملے پر۱۹؍ اپریل کوبڑے پیمانے پر مورچہ نکالنے کا فیصلہ کیاگیا۔ دھاراوی واسی کے مسائل پر بات چیت کیلئے اتوار کو منعقدہ میٹنگ میں وٹھل پوار، وشال آچریکر، ڈاکٹر خان، سریش ساونت، محمد ایوب شیخ، الیش گاجاکوش، نصیرالحق، انیل کسارے، پال رافیل اور دھاراوی بچاؤ آندولن کے دیگر کارکنان موجود تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK