Inquilab Logo Happiest Places to Work

ضلع پریشد کےخصوصی اسکولوں کے معذور بچوں کی عام اسکولوں میں منتقلی کے نوٹس پراسٹے

Updated: April 13, 2026, 10:54 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ہائی کورٹ نے کہا کہ بنا ٹھوس پالیسی، معذور بچوں کےوالدین کی مرضی معلوم کئے بنا اور اس اقدام کا جائزہ لئے بغیر منتقلی کا فرمان جاری نہیں کیا جاسکتا ہے۔

Bombay High Court building. Photo: INN
بامبے ہائی کورٹ کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

ریاستی سطح پر ضلع پریشد کے خصوصی اسکول جو مختلف ٹرسٹ کی مدد سے جاری ہیں ، میں زیر تعلیم ذہنی اور دیگر معذوری کا شکار بچوں کو ریاستی محکمہ تعلیم نے عام اسکولوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نوٹس دیا ہے۔ اس فیصلہ کے خلاف پونے کے ایک تعلیمی ٹرسٹ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی ہے جس کا جائزہ لینے اور اس میں اٹھائے گئے سوالوں کی حمایت کرتے ہوئے کور ٹ نے جا نوٹس پر روک لگا دی ساتھ ہی حکومت اور ریاستی محکمہ تعلیم کو عرضی کے ذریعہ کئے گئے اعتراضات اور جاری کئے گئے نوٹس کا ٹھوس جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ 
گزشتہ ماہ بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس رویندر گھوگے اور جسٹس ابھے منتری کے روبرو پونے کے تعلیمی ادارے نامدیوراؤ موہول ودیا اینڈ کریڈا پرتشٹھان نےضلع پریشد کے خصوصی اسکولوں کےمعذور بچوں کو عام بچوں کے ساتھ سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے کے فیصلہ اور نوٹس کے خلاف گزشہ ماہ مارچ میں عرضداشت داخل کی تھی۔ مذکورہ ٹرسٹ خود ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچوں کو تعلیم دیتا ہے، نےمعذور بچوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند بچوں کے اسکولوں میں منتقل کرنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اس سے عام اور معذور بچوں دونوں کے ایک ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا عمل ممکن نہ ہونے اور معذور بچوں کے مزید احساس کمتری میں مبتلا ہونےکا اندیشہ ظاہر کیا۔ 
تنظیم نے بتایا کہ معذور بچوں کو خصوصی اسکول سے عام بچوں کے سرکاری اسکول میں منتقل کرنے کا نوٹس مہاراشٹر محکمہ تعلیم دیویانگ ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ ٹرسٹ کے وکیل ڈاکٹر اُدے واروجیکر نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ نوٹس معذور افراد کے حقوق کے قانون مجریہ۲۰۱۶ء کے تحت جامع تعلیم حاصل کرنے کی شق پر مبنی ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ اس ضمن میں معذوروں کے خصوصی اسکول میں پڑھنے والے بچوں کے والدین اور اساتذہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ معذوربچوں کیلئے بنائے گئی خصوصی اسکولوں میں ضرورت کی ہر چیز مہیا کرائی گئی ہے۔ 
عرضی کے ذریعہ فراہم کی گئی اطلاعات اور وکیل کی دلیلوں کو سننے کے بعد دو رکنی بنچ نے ریاستی محکمہ تعلیم اور حکومت کے اس فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسے احکامات بغیر مناسب روڈ میپ اور مناسب پالیسی کے نافذ کرنانہ صرف عجلت میں کیا گیا فیصلہ ہوگا بلکہ اس سے معذور بچوں کی ذہنی کیفیت بھی متاثر ہوگی۔ اس سلسلہ میں فیصلہ لینے سے قبل اساتذہ اور خصوصی طور پر والدین کی رائے لینا بھی از حد ضروری ہے۔ ‘‘ کورٹ نے معذوروں کے خصوصی ٹرسٹ کاکا صاحب بامرے نیواسی اپنگ کلیان کیندر کے لائسنس کو بھی منسوخ کئے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔ 
 دو رکنی بنچ نے حکومت کو اس طرح کے منفی فیصلہ لینے سے قبل غور وخوض کرنے کے ساتھ ہی نوٹس پر روک لگا دی ساتھ ہی خصوصی اسکولوں کے لائسنس ۱۵؍ اپریل تک تجدیدکرنےکاحکم دیا اور داخل کردہ درخواست کے ذریعہ اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ۱۷؍ اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK