ٹرینیں ٹھپ، مسافر پیدل چلنے پر مجبور۔ میگا بلاک کے سبب مسافروں کو دوہری پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ۵؍ گھنٹے بعد چرچ گیٹ اور ویرار کے درمیان پہلی فاسٹ اے سی لوکل ٹرین روانہ کی گئی۔ ریلوے کا کام جلد سےجلد پورا کرنے کادعویٰ۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 12:10 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
ٹرینیں ٹھپ، مسافر پیدل چلنے پر مجبور۔ میگا بلاک کے سبب مسافروں کو دوہری پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ۵؍ گھنٹے بعد چرچ گیٹ اور ویرار کے درمیان پہلی فاسٹ اے سی لوکل ٹرین روانہ کی گئی۔ ریلوے کا کام جلد سےجلد پورا کرنے کادعویٰ۔
نائیگاوں اور بھائندر کے درمیان کھاڑی کے قریب اوور ہیڈ وائر ٹوٹ جانے سے فاسٹ لائن کی ٹرینیں ٹھپ ہوگئیں۔ اس کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو زبردست دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے مسافر جو ٹرینوں میں سوار تھے اور جو اسٹیشنوں پر انتظار کررہے تھے، مجبوراً پیدل چل کر آگے بڑھنے پر مجبور ہوئے۔ اتوار کو یہ واقعہ کلومیٹر نمبر۱۶/۴۴؍پر صبح ۷؍ بجکر۵۲؍ منٹ پر پیش آیا۔ فوری طور پر مرمت کا کام شروع کیا گیا لیکن کافی وقت لگا اور ۱۲؍ بجکر ۴۷؍ منٹ پر کام مکمل ہوسکا۔ اس کے بعد۱۲؍ بجکر ۵۲؍ پر چرچ گیٹ سے ویرار کے لئے پہلی اے سی فاسٹ ٹرین۵؍ گھنٹے کے بعد روانہ کی گئی، تب کہیں مسافروں کو راحت ملی۔ دوسری جانب صبح۱۰؍ بجے سے۳؍ بجے تک سانتاکروز اور گورے گاؤں کے درمیان اپ اور ڈاؤن فاسٹ لائنوں پر بلاک تھا۔ اس کی وجہ سے مسافروں کو دوہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اتوار کا چھٹی والا دن تھا اور صبح کے وقت یہ مسئلہ پیدا ہوا تھا، ورنہ مسافر اور بھی زیادہ حیران ہوتے۔
واضح ہوکہ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے ہمیشہ لمبے چوڑے دعوے کئے جاتے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بہت بہترین نظام چل رہا ہے، کوئی مسئلہ نہیں ہے، ریلوے انتظامیہ کی جانب سے خاص توجہ دی جارہی ہے جس سے لاکھوں مسافر اطمینان وسکون سے اپنی منزل پہنچ رہے ہیں مگر جب اس طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور مسافر بے حال ہوجاتے ہیں تب اندازہ ہوتا ہے کہ ریلوے کے دعوے میں واقعی کتنی سچائی ہے؟
یہ بھی پڑھئے: ممبرا کوسہ میں۲۰؍ اپریل تک بی ایل او کیمپ جاری رہے گا
مرمت پر فوری توجہ دی گئی
ویسٹرن ریلوے کے چیف پی آر او ونیت ابھیشیک نے نمائندہ انقلاب کو مذکورہ بالا تفصیلات سے آگاہ کراتے ہوئے کہا کہ اطلاع ملتے ہی فوری طور پر بجلی منقطع کی گئی، اس کے بعد مرمت شروع کی گئی اور۱۲؍ بجکر ۵۲؍ پر پہلی اے سی لوکل چرچ گیٹ سے روانہ کی گئی، اس کے بعد حالات معمول پر آگئے۔
۳؍ ٹرینوں کے رکنے سے دقت ہوئی
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اوورہیڈ وائر ٹوٹنے کے سبب تین ٹرینیں قطار سے رک گئیں جس سے مسافروں کو دقت ہوئی۔ اس کے بعد مرمت کا کام پورا کئے جانے تک فاسٹ لائن کی ٹرینوں کو دھیمی لائن والی ٹرینوں کی پٹری پر موڑ دیا گیا۔ اس دوران کچھ سروسیز رد کی گئیں اور کئی ٹرینیں تاخیر سے بھی چلائی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ کوشش کی گئی کہ خواہ تاخیر ہو مگر ٹرینوں کو آہستہ آہستہ دھیمی رفتار ٹرینوں والی پٹری سے گزارا جائے تاکہ مسافر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوتے رہیں۔ چیف پی آر او نے مزید کہا کہ مسافروں کو ہونے والی پریشانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر ریلوے انتظامیہ کی کوشش تھی کہ کام جلد سے جلد پورا کیا جائے اور قریب کے سیکشن کی جانچ بھی کرلی جائے تاکہ کسی قسم کا اندیشہ نہ رہے۔