اجازت نہ ملنے سےٹھیکیدار تھانے، نوی ممبئی اور بھیونڈی میں کیچڑ پھینک رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 12:15 PM IST | Mumbai
اجازت نہ ملنے سےٹھیکیدار تھانے، نوی ممبئی اور بھیونڈی میں کیچڑ پھینک رہے ہیں۔
بی ایم سی نے نالوں کی صفائی کے دوران نکلنے والے کیچڑ کو دیونار اور کانجور مارگ کے ڈمپنگ گرائونڈ میں پھینکنے پر پابندی عائد کردی ہے جس کی وجہ سے کانٹریکٹر تھانے، بھیونڈی اور نوی ممبئی میں یہ کچرا پھینک رہے ہیں۔ اس دوران بی ایم سی نے نالوں سے نکالے جانے والے کچرے کی مقدار ماضی کے مقابلے کم کردی ہے۔ شہری انتظامیہ نے نالوں سے کیچڑنکالنے کا ہدف ماضی کے مقابلے تقریباً ۴۰؍ فیصد کم کرکے ۸ء۴۷؍ لاکھ میٹرک ٹن کردیا ہے جو گزشتہ برس ۱۲ء۰۳؍ لاکھ ٹن تھا۔
ماضی میں کچرا صفائی کے باوجود کئی مقامات پر سڑکوں پر سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی تھی۔ اس کی مقدار کم کرنے کا کیا اثر ہوگا ؟یہ مانسون میں ہی پتہ چلے گا۔ البتہ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ کچرا نکالنے کی مقدار میں ایسے وقت میں کمی کی گئی ہے جب گزشتہ برس اس کام میں بدعنوانی کے الزامات عائد ہونے کے بعد ’ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ‘ (ای ڈی) نے ایک ہزار ۱۰۰؍ کروڑ روپے کے غبن کی تفتیش شروع کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بی ایم سی: کارپوریٹروں کو فنڈ دینے میں امتیاز
ایڈیشنل میونسپل کمشنر ابھیجیت بانگر کے مطابق کچرے کی مقدار میں اس لئے کمی کی گئی ہے کہ نالوں سے جو گندگی نکالی جاتی ہے اس میں ۳۰؍ فیصد کچرا پانی کے اوپر تیرتا ہوا ہوتا ہے جس میں پلاسٹ، لکڑی اور دیگر ملبہ وغیرہ ہوتا ہے۔ مقدار کم کئے جانے سے ٹھیکیداروں کو صرف اس کام کے پیسے دیئے جائیں گے جو گندگی وہ نالے کے نچلے حصہ سے صاف کریں گے اور اس کام میں شفافیت لائی گئی ہے۔ جو ۸ء۴۷؍ لاکھ ٹن گندگی صاف کی جانی ہے اس میں سے ۳ء۶۷؍ لاکھ ٹن کچرا بڑے نالوں سے، ۳ء۴۱؍ لاکھ ٹن بڑے نالوں سے اور ۱ء۳۲؍ لاکھ ٹن گندگی میٹھی ندی سے صاف کی جائے گی۔
ممبئی میں کئی کلو میٹر تک نالوں کا جال پھیلا ہوا ہے جس میں بڑے پیمانے پر گندگی جمع ہوجاتی ہے۔ مانسون سے قبل ان نالوں کی صفائی کا مقصد ان میں جمع ہونے والے کیچڑ وغیرہ کو نیچے سے نکالنا ہوتا ہے تاکہ نالوں کی گہرائی جو کم ہوگئی ہے اسے بحال کیا جاسکے اور جس سے بارش میں ان میں زیادہ مقدار میں پانی بہنے کی گنجائش پیدا ہوجائے۔ ایڈیشنل کمشنر بانگر کے مطابق نالوں کے علاوہ سڑکوں پر واقع گٹروں کی صفائی بھی کی جارہی ہے اور ان میں ساکی ناکہ، اندھیری اور کرلا جیسے علاقوں میں ایسی گٹروں کی شناخت کی گئی ہے جن میں گندگی جمع ہونے سے پانی راستوں پر جمع ہونے لگتا ہے اور ان کی صفائی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ان کے مطابق یہ گٹریں پرانے انداز سے ڈھکی ہوئی ہیں۔