حجاب تنازع پر کرناٹک سرکار کو نوٹس، ۵؍ ستمبر کو سماعت، عرضی گزاروں کو دلائل پیش کرنے کا حکم

Updated: August 30, 2022, 10:32 AM IST | new Delhi

عدالت نے وقت مانگنے پر برہمی کااظہار کیا، اس جواز کو تسلیم نہیں کیا کہ سماعت کافیصلہ آخری وقت میں ہوا جبکہ ملک بھر سے سینئر وکلاء کو جرح میں شامل ہونا ہے

Hijab-wearing students fighting for their rights.
حجاب پوش طالبات اپنے حق کی لڑائی لڑتے ہوئے۔

 سپریم کورٹ نے کرناٹک  کے تعلیمی اداروں میں حجاب  پر پابندی کو برقرار رکھنے کے کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف پٹیشنوں  پرپیر کوشنوائی کرتے ہوئے  ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے۔ ریاستی حکومت کو ۵؍ ستمبر تک جواب دینے کا حکم دیاگیا ہے  اوراسی دن عرضی گزاروں کو  اپنے دلائل پیش کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ 
    جسٹس ہیمنت گپتا اور سدھانشو دھولیا کی بنچ نے اس دوران عرضی گزاروں کی اس درخواست پر برہمی کااظہار کیا کہ سماعت کو کچھ دنوں کیلئے ملتوی کیا جائے۔   ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والوں  کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ محمد ناظم  پاشا  نے سپریم کورٹ کو  بتایا کہ اس معاملے پر ملک بھر سے  اور بطور خاص کرناٹک سے سینئر وکلاء کو پیش ہونا  ہے مگرمعاملہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے سنیچر کو آخری وقت پر فہرست میں شامل کیاگیا ہے۔ جواب میں  بنچ نے کہاکہ’’پہلے آپ بار بار جلد سماعت کا مطالبہ کر رہے تھے،  ۵؍ بار اس کیلئے یاد دہانی کرائی گئی لیکن اب آپ اسے ٹالنا  چاہتے ہیں۔ ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘ کورٹ نے منگل کو ہی عرضی گزاروں کو اپنے دلائل پیش کرنے کا حکم دے دیا تاہم بعد میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی مداخلت پر جب انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے جواب داخل کرنے کیلئے وقت مانگا تو سماعت ۵؍ ستمبر تک کیلئے ملتوی کی گئی۔  
 اس کے بعد عرضی گزاروں کے وکلاء نے تیاری کیلئے  معاملہ ۲؍ ہفتوں کیلئے ملتوی کرنے کی درخواست کی جسے کورٹ نے تسلیم نہیں  کیا۔ کورٹ نے کہا کہ ’’۵؍ ستمبر (پیر) کو آئے۔‘‘عرضی گزاروں کی جانب سے ایک وکیل نے استدعاکی کہ ’’۲؍ ہفتوں کا وقت دیدیجئے، اس سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑےگا۔‘‘  

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK