جنید اور ناصر کیلئے انصاف کا مطالبہ کرنے پر اہل ِخانہ کو نوٹس

Updated: February 25, 2023, 11:24 AM IST | Bharatpur

مظاہرہ کو علاقے میں ’نقض ِ امن‘کا سبب قراردیا گیا، احتجاج میں شامل گاؤں کے دیگرا فراد اور خبر نگاری کرنے والے صحافی کو بھی نہیں بخشا گیا مگر ہریانہ میں  بھگوا عناصر کو کھلی چھوٹ، کلیدی ملزم مونو مانیسر کی حمایت میں پھر مہا پنچایت کی، مسلمانوں کے خلاف تشدد کا نعرہ دیاگیا، مونو کا نام ایف آئی آر سے ہٹانے کی مانگ

In Bharatpur, local people are protesting to get justice for Junaid and Nasir. (Photo: Courtesy Indian Express)
بھرت پور میں جنید اور ناصر کو انصاف دلانے کیلئے مقامی افراد احتجاج کررہے ہیں۔ (تصویر: بشکریہ انڈین ایکسپریس)

 گئو اسمگلنگ کا الزام عائد کرکے جنید اور ناصر کو زندہ جلا دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے پر راجستھان پولیس نے مہلوکین کے اہل خانہ، گاؤ ں کے افراد اور  خبر نگاری  کرنے والے صحافی کو ’نقض امن‘ کا نوٹس دیدیا ہے۔  مہلوکین کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ گہلوت سرکار ان پر احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ دوسری جانب ہریانہ میں کلیدی ملزم مونو مانیسر  کی حمایت  میںپھر مہا پنچایت منعقد کی گئی جس میں  مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی  کے ساتھ ہی راجستھان پولیس  پربھی مونو کے خلاف سازش میں  ملوث  ہونے کا الزام عائد کیاگیاہے۔ 
 انصاف مانگنے پر نوٹس، ۲۷؍ فروری کو طلبی
  راجستھان پولیس نے   زندہ  جلائے گئے جنید  اور ناصر کے اہل  خانہ ، رشتہ داروں اور کم از کم ایک صحافی کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انصاف کیلئے جاری ان کا احتجاج   علاقے میں ’’نقض  امن ‘‘ کا سبب بن رہاہے۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ سنیتا یادو کے دستخط   کے ساتھ بھرت پورضلع انتظامیہ کے ذریعہ ۱۲؍ افراد کو  جاری کئے گئے نوٹس  میں کہاگیا ہے کہ ’’اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھ کر ...آپ علاقے میں امن و امان کو متاثر کررہے ہیں،اس لئے  ۲۷؍ فروری کو عدالت میں پیش ہوں۔‘‘  نیوز پورٹل ’دی وائر‘ کے استفسار پر سنیتا یادو نے نوٹس کا دفاع کرتے ہوئے  امن وامان برقراررکھنے کا جواز پیش کیا اور بتایا کہ ’’مجھے  علاقے میں نظم وضبط برقراررکھنے کیلئے پولیس  کی ہدایت پر نوٹس جاری کرنا پڑا۔‘‘ جن کو نوٹس دیا گیا  ہے ان میں مقامی صحافی وسیم اکرم  شامل ہیں۔
احتجاج ختم کرنے کیلئے دباؤ
 مہلوکین کے اہل خانہ نے کانگریس کی مقامی رکن  اسمبلی زاہدہ خان  کے تعلق سے بھی الزام لگایا کہ وہ احتجاج کو ختم کرنے کا دباؤ ڈال رہی ہیں۔ جابر خان جن کا تعلق جنید اور ناصر دونوں   سے تھا، نے بتایا کہ زاہدہ خان نے دونوں نوجوانوں  کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے کہا ہے کہ اگر وہ معاملے کا حل چاہتے ہیںتو احتجاج کو ختم کردیں۔  جابر خان کے مطابق احتجاج ختم کرنے کیلئے    رکن اسمبلی کے مسلسل فون سے بچنے کیلئے انہیں اپنا فون ہی بند کردینا پڑتاہے۔ 
  ملزمین کی حمایت میں پھر مہا پنچایت
 اُدھر ہریانہ میں ملزمین کی حمایت میں بھگوا عناصر کھلے عام سرگرم ہیں۔ بدھ کو پھر مہا پنچایت کرکے جنید اور ناصر کو زندہ جلادینے کے ملزمین کی نہ صرف حمایت کی گئی مسلمانوں کے ساتھ زہر افشانی اوران کے قتل کے نعرے بلند ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی مونو مانیسر کو ملزمین کی فہرست میں  شامل کرنے پر راجستھان پولیس کو بھی ’’سازش‘‘  کا حصہ قرار دیتے ہوئے دھمکیاں دی گئیں۔ 
 مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی
 ہریانہ کے ہاتھین میں منعقدہ مہا پنچایت  میں  بجرنگ دل، وی ایچ پی اور ہندو سینا کے ۴۰۰؍  اراکین نے شرکت کی جہاں شرکاء کو مسلمانوں کے خلاف تشدد  پر اکسانے کی کھل کرکوشش کی گئی۔اس سے قبل ۲۱؍ فروری کو بھی ہریانہ میں مہا پنچایت منعقد ہوئی تھی جس میں پولیس کو مونو مانیسر کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا انتباہ دیا گیاتھا۔
   بدھ کو مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے  خود کو آستھا ماں کہلانے والی بجرنگ دل کی ایک لیڈر نے کہا کہ ’’اگر کوئی مسلمان ہندو بہن بیٹی کی طرف آنکھیں  اٹھا کردیکھتا ہےتواس کی آنکھیں نوچ لیںگے۔
’ہاں  بجرنگ دل  کے کارکن غنڈہ ہیں‘
 انہوں  نے اپنی تقریر ہی اس جملے کے ساتھ  شروع کی کہ ’’ہاں بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے کارکن غنڈہ ہیں۔مظاہرہ کے دوران نعرے بلند کئے گئے کہ ’’ہم ہندو ہیں اور ہندوستان ہمارا ہے۔‘‘ مہا پنچایت میں شامل پرتیک نامی شخص سے جب ایک رپورٹر نے گفتگو کی اور مقررین کے ذریعہ کی جا رہی تقاریر کے حوالے سے پوچھا کہ کیا یہ تقریریں   قانون کی خلاف ورزی نہیں ہیں،تو  پرتیک کا جواب تھا کہ ’’ہمیں ہریانہ پولیس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، وہ  ہمارے ساتھ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK