روس کے صدرولادیمیر پوتن نے طالبان کے سفیر کو تسلیم کر لیا، جس کے ساتھ ہی روس کی جانب سے افغانستان میں طالبان انتظامیہ کو تسلیم کرنے کے مہینوں بعد اس نمائندے کی باقاعدہ سفارتی حیثیت ہو گئی۔
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 10:09 AM IST | Moscow
روس کے صدرولادیمیر پوتن نے طالبان کے سفیر کو تسلیم کر لیا، جس کے ساتھ ہی روس کی جانب سے افغانستان میں طالبان انتظامیہ کو تسلیم کرنے کے مہینوں بعد اس نمائندے کی باقاعدہ سفارتی حیثیت ہو گئی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو طالبان کے ماسکو میں سفیر کے اعتمادنامے قبول کر لیے، جس کے ساتھ ہی روس کی جانب سے افغانستان میں طالبان انتظامیہ کو تسلیم کرنے کے مہینوں بعد اس نمائندے کی باقاعدہ سفارتی حیثیت ہو گئی۔روسی خبررساں ایجنسی ٹاس کے مطابق، پوتن نے کریملن میں منعقد ہونے والی ایک سرکاری تقریب کے دوران اعتمادنامے وصول کیے، جس میں درجنوں غیرملکی سفیروں نے شرکت کی۔ گل حسن نے طالبان کے نام سے موسوم ’’اسلامی امارت افغانستان‘‘ کے سفیر کے طور پر اپنے کاغذات پیش کیے۔ٹاس کے مطابق، کریملن پیلس کے الیگزینڈر ہال میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں یورپ، ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے۳۴؍ نئے تعینات شدہ سفیروں نے اعتمادنامے پیش کیے۔
واضح رہے کہ یہ روس کی سال ۲۰۲۶ء کی پہلی ایسی باقاعدہ سفارتی تقریب تھی۔اپریل۲۰۲۴ء میں، امریکی قیادت میں غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کی حکومت میں واپسی کے تقریباً چار سال بعد، روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا اور اب تک کا واحد ملک بن گیا۔جبکہ اکثر ممالک نے کابل میں اپنے سفارتخانے تکنیکی سطح پر جاری رکھے ہیں لیکن انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں اور جامع سیاسی عمل کی عدم موجودگی کے تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے طالبان انتظامیہ کو تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’روس یوکرین تنازع ختم نہ ہونے کیلئے پوتن سے کہیں زیادہ زیلنسکی ذمہ دار‘‘
بعد ازاں ماسکو کا کہنا ہے کہ خطے کی استحکام کو یقینی بنانے اور افغانستان سے نکلنے والے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات ضروری ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی فوجوں کے افغانستان سے نکلنے کے بعد طالبان نے ملک کا نظام سنبھال لیا تھا، لیکن عالمی برادری نے طالبان کو بطور حکمراں تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ حالانکہ متعدد ممالک نے طالبان سے براہ راست تعلقات قائم کئے ہیں، جبکہ روس سفارتی تعلق قائم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔