یو این کے ایک اہلکار کےمطابق غزہ میں ۶؍ کروڑ ٹن سے زائد ملبہ موجود ہے جسے صاف کرنے میں ۷؍ سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے، انہوں نے ساتھ ہی غزہ کے حالات کو انتہائی مخدوش قرار دیا۔
EPAPER
Updated: January 16, 2026, 10:14 PM IST | New York
یو این کے ایک اہلکار کےمطابق غزہ میں ۶؍ کروڑ ٹن سے زائد ملبہ موجود ہے جسے صاف کرنے میں ۷؍ سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے، انہوں نے ساتھ ہی غزہ کے حالات کو انتہائی مخدوش قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے جمعرات کو غزہ پٹی میں انسانی بحران کی المناکی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی تباہی کے باعث اس خطے میں۶؍ کروڑ ٹن سے زیادہ ملبہ موجود ہے۔اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل اور یو این او پی ایس (اقوام متحدہ کے پروجیکٹ سروسز آفس) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خورخے موریرا ڈی سلوا نے ایک بیان میں کہا، ’’میں ابھی غزہ سے واپس آیا ہوں، جہاں انسانی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ غزہ کے لوگوں کے تھکے ہوئے، صدمے کا شکار اور مایوس ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈی سلوا نے زور دیا کہ’’ سخت سردی کے حالات اور اس ہفتے ہونے والی تیز بارشوں نے لوگوں کی تکلیف اور مایوسی کو دوگنا کر دیا ہے۔‘‘تباہی کی سطح کو انتہائی سنگین ‘‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’بچوں کے لیے روزمرہ کی زندگی صدمے اور نقصان کی داستان ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لیک دستاویز: یو اے ای کی غزہ جنگ میں اسرائیل کی معاونت کا انکشاف
انہوں نے کہا، غزہ میں ۶؍ کروڑ ٹن سے زیادہ ملبہ موجود ہے، جو تقریباً۳۰۰۰؍جہاز کنٹینر کی گنجائش کے برابر ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا،’’ آج غزہ میں ہر شخص اوسطاً۳۰؍ ٹن ملبے سے گھرا ہوا ہے۔‘‘ بعد ازاں ان کا کہنا ہے کہ ’’اس ملبے کی صفائی میں سات سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔یو این او پی ایس کی ملبہ صاف کرنے، توانائی بحال کرنے، فضلہ کے انتظام اور پناہ گاہیں مہیا کرنے میں امداد کا اظہار کرتے ہوئے ڈی سلوا نے تصدیق کی کہ یہ ایجنسی انسانی مقاصد کے لیے انتہائی ضروریامداد لاتی رہتی ہے۔تاہم انہوں نے ایندھن کو اس خطے میں انسانی کارروائیوں کی ریڑھ کی ہڈی" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے بغیر،اسپتال ،زندگی بچانے والی صحت کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے، پانی اور صفائی کے نظام بند ہو جاتے ہیں، خوراک کی امداد تقسیم نہیں ہو سکتی، اور ہنگامی مدد فراہم کرنے والوں کے لیے مواصلات اور نقل و حمل خطرے میں پڑ جاتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی محاصرے میں غزہ کیلئے ٹرمپ کی نئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک حکومت کی حمایت
دریں اثناء انہوں نے کہا، ’’ہماری ٹیمیں اقوام متحدہ کی مائن ایکشن ایجنسی کے ساتھ مل کر ان کمیونٹیز کی مدد کرتی ہیں جہاں پھٹے ہوئے گولہ بارود کے وسیع خطرات ہیں۔ انہوں نے غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے امریکی اعلان کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا، ’’اس کا مطلب آخرکار تعمیر نو کا آغاز ہونا چاہیے، جس میں بنیادی خدمات تک رسائی بحال کرنا شامل ہے۔‘‘اقوام متحدہ کی انسانی رسائی بہتر بنانے کی اپیل کو دہراتے ہوئے، انہوں نے غزہ میں تمام کراسنگ اور راستے کھولنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ : سخت سردی میں تباہ حال عمارتوں کی دیواریں منہدم
انہوں نے کہا، "غزہ کے لوگوں کو بنیادی اشیاء کی فراہمی میں اضافے اور انسانی ردعمل اور ابتدائی بحالی کے لیے پابندیوں میں کمی کی ضرورت ہے۔ اس میں نام نہاد دوہرے استعمال والی اشیاء کی اجازت دینا بھی شامل ہے، جو غزہ پٹی بھر میں پانی، بنیادی صحت کی دیکھ بھال اور بچوں کی تعلیم سمیت بنیادی نظام کی مرمت اور ان تک رسائی بحال کرنے کے لیے اہم ہیں۔‘‘بین الاقوامی برادری سے انسانی بحران کے فوری ردعمل سے آگے بڑھ کر فوری طور پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ڈی سلوا نے زور دیا کہ ’’غزہ کے لوگوں نے ناقابل بیان تکلیفیں جھیلی ہیں جو کسی بھی انسان کو نہیں بھگتنی چاہئیں۔ ‘‘ اپنی ورچوئل پریس کانفرنس میں، ڈی سلوا نے کہا کہ ’’ ۸۰؍ فیصد سے زیادہ بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، اور دنیا میں کوئی دوسری جگہ نہیں ہے جہاں اتنے چھوٹے سے علاقے میں۶؍ کروڑ ٹن سے زیادہ ملبہ موجود ہو۔ تاہم انہوں نے کہا، ’’ملبے کا مسئلہ صرف اس کی مقدار نہیں ہے،بلکہ اصل مسئلہ ملبے کے اندر موجود اشیاء ہیں، جیسے ایسبیسٹوس، انسانی باقیات یا بناپھٹے ہوئے گولہ بارود۔‘‘