• Sat, 17 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی ایم سی کا قلعہ بچانے میں  اُدھوا ورراج ناکام، کانگریس اتحاد بھی پسپا

Updated: January 17, 2026, 8:23 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

سابقہ الیکشن کے مقابلے محض ۳؍ زیادہ سیٹیں جیت کر بی جےپی نے ممبئی میں اپنےپہلے میئر کی راہ ہموار کرلی ، شیوسینا (یو بی ٹی)۶۰؍ سیٹوں کے ساتھ اب بھی کارپوریشن میں دوسرے نمبر پر

The BJP is set to hoist its flag on several municipal corporations in the state, including Mumbai. (Photo: PTI)
بی جے پی نے ممبئی سمیت ریاست کی کئی میونسپل کارپوریشنوں پر اپنا پرچم لہرانے کو ہے۔(تصویر: پی ٹی آئی )

ملک کی سب سے  امیر بلدیہ  برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن(بی ایم سی) کے انتخابات کے نتائج جمعہ کو ظاہر کر دیئے گئے ۔ نتائج کے مطابق بی ایم سی میں بی جے پی /شندے اتحاد کو اکثریت حاصل ہوئی جبکہ ٹھاکرے خاندان بی ایم سی کا اپنا آخری قلعہ بھی بچانے میں ناکام رہا ۔  واضح رہے کہ شیو سینا اور این سی پی کے منقسم ہونے کے بعد یہ پہلا میونسپل کارپوریشن کا الیکشن تھا۔ جس میں فائدہ بی جے پی کو ہی ہوا کیونکہ خبر لکھے جانے تک جو نتائج ظاہرہوئے تھے ان میں بی جے پی کو سب سے زیادہ سیٹیں مل رہی تھیں۔  اسی  وجہ سے پہلی مرتبہ ممبئی میں بی جے پی کا میئر بننے کاراستہ صاف ہو گیا ہے۔ ان نتائج میں جہاں ایک جانب بی ایم سی میں اقتدار تبدیل ہو رہا ہے وہیں دوسری جانب آئی ایم آئی کی سیٹیں گزشتہ مرتبہ کے مقابلے میں بڑھ کر ۸؍ہوگئیں جبکہ اس کے برخلاف سماجوادی پارٹی کی ۶؍سے کم ہو کر ۲؍  رہ گئی ہے۔ ان نتائج کو گودی  میڈیا کی جانب سے یکطرفہ دکھانے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی ۲۰۱۷ء کے بی ایم سی الیکشن کے مقابلے میں صرف  ۳؍ سیٹیں زیادہ جیت رہی ہے لیکن اس نے میئر کے عہدے پر دعویٰ کردیا ہے۔ اس طرح سے ا س کی کارکردگی غیر معمولی نہیں رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ ضرور ہے کہ شیو سینا تقسیم ہونے کی وجہ سےکمزور ہو گئی ہے۔
ٹھاکرے خاندان کا طلسم ٹوٹا 
 بی ایم سی الیکشن کے نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس انتخاب میں دونوں ٹھاکرے بھائی مل کربھی بی جے پی اور شندے سینا کو اقتدار سے دور نہیں رکھ سکے بلکہ شیو سینا(ادھو)  ۶۱؍ سیٹیں لےکر اپوزیشن  کے عہدے کی  دعویدار بتائی جارہی ہے۔خبر لکھے جانے تک بی جےپی کو ۸۵،  شیو سینا (ادھو)کو۶۰،    شیو سینا(شندے) کو ۲۵، کانگریس کو۱۹،ایم این ایس کو۵،  این سی پی(شرد) کو ایک   اور این سی پی(اجیت) کو۲؍ سیٹ ملی ہے جبکہ ونچت بہوجن  اگھاڑی ( بی وی اے) اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی ۔ رات ۸؍بجے تک بی ایم سی کی جانب سے مکمل میونسپل نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا تھابلکہ یہ بتایا گیاکہ اب بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہی ہے۔ گنتی میں اتنی تاخیر الیکشن کمیشن کی غلطی سے ہوئی ہے۔
شندے کا دعویٰ 
  ان نتائج پر ایکناتھ شندے نے کہا کہ ’’ یہ الیکشن ہم نے ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر لڑا تھا ۔ شہریوں نے ممبئی میں کئے گئے ترقی کے کاموں کی بنیاد پر  مہا یوتی کو اکثریت دی ہے۔ ہم ممبئی کو انٹرنیشنل شہر بنانے کیلئے کام کریں گے ۔‘‘ انہوںنے مزید کہاکہ ممبئی کے شہریوں کو گڑھوں سے پاک سڑکیں، آلودگی سے پاک شہر اور اسی طرح بنیادی سہولتو ں سے لیس شہر چاہئے اور اسے ہم فراہم کرینگے ۔
پانچ شہروں میں کانگریس کا میئر : ہرش وردھن سپکال
   ریاست کے ۲۹؍ میونسپل کارپوریشن کے نتائج کے اعلانات کے بعد  مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ  میونسپل کارپوریشن انتخابات میں کانگریس کو حاصل ہونے والی کامیابی محض عددی جیت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک نظریاتی جدوجہد کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نتائج مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں ہیں مگر جیت اور ہار کی پرواکئے بغیر کانگریس نے جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے تحفظ کی لڑائی لڑی ہے۔ عوام کے اعتماد اور کارکنان کے حوصلے کے بل پر کانگریس آج ریاست کی سب سے مضبوط اپوزیشن پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ 
کانگریس کے ۳۵۰؍ کونسلر 
 سپکال کے مطابق ۵؍شہروں میں کانگریس کے میئر منتخب ہوں گے جبکہ پوری ریاست میںپارٹی کے تقریباً۳۵۰؍کونسلر کامیاب ہوئے ہیں اور۱۰؍ میونسپل کارپوریشنوں میں کانگریس کی اقتدار میں شراکت داری متوقع ہے۔ بلڈانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریاستی کانگریس صدر نے کہا کہ ان انتخابات میں کانگریس ریاست میں دوسرے نمبر کی بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔ جہاں ممکن ہوا وہاں پارٹی نے اپنے بل پر الیکشن لڑا اور بعض مقامات پر اتحاد کے ذریعے نظریاتی اور تنظیمی مضبوطی کے مقصد سے میدان میں اتری۔ انہوں نے الزام لگایا کہ برسراقتدار بی جے پی مہا یوتی نے بڑے پیمانے پر پیسے کا استعمال کیا، جعلی ووٹنگ ہوئی، مگر اس کے باوجود کانگریس کا کارکن بی جے پی کے ’بلڈوزر‘ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہا۔ 
ممبئی کے نتائج میںفکسنگ کا الزام   
 ممبئی کے نتائج پر سخت تنقید کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ شہر میں بی جے پی کی کامیابی فکسنگ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق وارڈ بندی سے لے کر ووٹنگ مشینوں، ’پاڈو‘ نامی مشین اور سیاہی کے معاملے تک، سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو چشم پوشی ترک کر کے بی جے پی کے اشاروں پر چلنا بند کرنا چا ہئے۔ بی جے پی کے پاس نہ اخلاقیات ہیں اور نہ شرم و حیا۔ لفافوں کی تقسیم، جعلی ووٹرز، امیدواروں کی خرید و فروخت اور الیکشن کمیشن کی کمزور کارکردگی نے ثابت کر دیا کہ آزاد اور منصفانہ انتخاب نہیں ہوئے۔۔ سپکال نے کہا کہ آمریت کا غبارہ جتنا بھی بڑا ہو، ایک نہ ایک دن پھٹتا ضرور ہے اور وہ لمحہ اب قریب آ چکا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK