اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے مشرقی یروشلم میں ’ انروا‘کے ہیلتھ سینٹر میں اسرائیلی فورسیز کے ’غیرقانونی داخلے‘ کی مذمت کی، انہوں نے صحت کے مرکز کو بجلی و پانی کی فراہمی منقطع کرنے کے اسرائیلی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: January 16, 2026, 10:15 PM IST | New York
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے مشرقی یروشلم میں ’ انروا‘کے ہیلتھ سینٹر میں اسرائیلی فورسیز کے ’غیرقانونی داخلے‘ کی مذمت کی، انہوں نے صحت کے مرکز کو بجلی و پانی کی فراہمی منقطع کرنے کے اسرائیلی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے جمعرات کومقبوضہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے، جسے انہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کی اقوام متحدہ کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کی مرکزمیں ’’غیرقانونی مداخلت‘‘ اور ایک اہم صحت مرکز بند کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ان کے ترجمان فرحان حق نے ایک بیان میں کہا، "سیکرٹری جنرل نے۱۲؍ جنوری کو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اقوام متحدہ کی جائیداد، یو این آر ڈبلیو اے یروشلم ہیلتھ سنٹر، میں اسرائیلی فوجیوں کی غیرقانونی مداخلت اور اس کی عارضی بندش کے احکامات کی سخت مذمت کی ہے۔‘‘بیان میں بتایا گیا کہ غطریس نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے(انروا) کو اطلاع دی گئی ہے کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں متعدد یو این آر ڈبلیو اے مراکز کو جلد ہی بجلی اور پانی کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں خدمات بند کر دیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ۷۵؍ ممالک کے درخواست دہندگان کیلئے ویزا خدمات معطل کرے گا
بعد ازاں بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیلی ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے، فرحان حق نے مزید کہا کہ’’ غطریس نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کر کیا ہے کہ اسرائیلی حکام بین الاقوامی قانون بشمول اقوام متحدہ کے مراعات و استثنیٰ کے کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے خلاف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘بیان میں شیخ جراح کمپاؤنڈ پر اسرائیلی قبضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’ ۸؍ جنوری۲۰۲۶ء کو سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان اقدامات کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدر کی توجہ مبذول کرائی تھی۔‘‘ فرحان حق نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی اقدامات اقوام متحدہ کے مقامات کی حرمت کے قانون کی خلاف ورزی ہیں، اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی یروشلم میں یو این آر ڈبلیو اے کے کام کے نفاذ میں رکاوٹ ہیں۔‘‘
دریں اثناء سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر یو این آر ڈبلیو اے شیخ جراح کمپاؤنڈ اور یو این آر ڈبلیو اے یروشلم ہیلتھ سنٹر واپس کرنے اور بحال کرنے کے اقدامات کرے، اور یہ یقینی بنائے کہ یو این آر ڈبلیو اے مقامات کو ضروری سہولیات فراہم کی جاتی رہیں۔‘‘ واضح رہے کہ دسمبر۲۰۲۵ء کو اسرائیلی کنیسٹ سے منظور ہونے والے ایک قانون کے بعد، فلسطینی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے منگل کو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں یو این آر ڈبلیو اے کی عمارتوں کو بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کرنے کے احکامات جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیل نے انروا کے کچھ ملازمین پر اکتوبر حملوں میں ملوث ہونے کے بے بنیادالزام کی بناء پر اسرائیل میںاس کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے والے قانون کو منظوری دی تھی،جبکہ ایجنسی نے یہ الزامات مسترد کیے ہیں۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے غیرجانبداری کے معیارات پر کاربند ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یو این آر ڈبلیو اے کی بنیاد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۷۰؍سال سے زائد عرصہ قبل ان فلسطینیوں کی مدد کے لیے رکھی تھی جنہیں اسرائیل کے ذریعے زبردستی ان کی زمینوں سے بے دخل کیا گیا تھا۔