Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدارس کی اے ٹی ایس جانچ پر یوگی سرکار اورتفتیشی ایجنسی کو نوٹس

Updated: April 22, 2026, 12:16 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

ہائی کورٹ نے جواب طلب کیا، ۴؍مئی کوآئندہ سماعت، مبینہ غیر ملکی فنڈنگ معاملے میں کی جانے والی جانچ پر اے ٹی ایس کے دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھایا

The decision of the Allahabad High Court has been welcomed by the Kamdars officials.
الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کامدارس کے ذمہ داران نے خیرمقدم کیا ہے

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں تقریباً  ۴؍ہزار مدارس کی ’انسداد دہشت گردی اسکوائڈ‘ ( اے ٹی ایس )کے ذریعہ کرائی جارہی جانچ کے معاملے میں ریاستی حکومت اور اے ٹی ایس سے جواب طلب کیا ہے۔عدالت نے ہدایت دی ہے کہ تمام متعلقہ دستاویزات اور معلومات ۴؍ مئی کو عدالت میں پیش کریں۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت بھی اسی تاریخ کو ہوگی۔
 ٹیچرس اسوسی ایشن مدارس عربیہ یوپی اور انتظامیہ کمیٹی مدرسہ فاروقیہ ندوئے کی جانب سے دائر رٹ پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس ارندم سنہا اور جسٹس ستیہ ویر سنگھ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مشاہدہ کیا کہ جاری کردہ احکامات میں کسی بھی مخصوص مدرسے کا نام درج نہیں ہے اور نہ ہی ٹیرر فنڈنگ کے ذرائع یا اس کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ محض شک کی بنیاد پر چار ہزار مدارس کی جانچ کا کوئی معقول جواز نہیں بنتا، لہٰذا حکومت اور اے ٹی ایس مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کریں۔
  سماعت کے دوران اسوسی ایشن کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ وی کے سنگھ اور ایڈوکیٹ محمد علی اوصاف نے دلائل پیش کئے۔واضح رہے کہ مدرسہ بورڈ نے اپنے سروے کی بنیاد پر تقریباً چار ہزار امداد یافتہ، غیر امداد یافتہ اور پرائیویٹ مدارس کی فہرست محکمہ اقلیتی بہبود کو ارسال کی تھی۔ حکومت نے بعض مدارس کی بڑی عمارتوں اور فنڈنگ کے ذرائع پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے اے ٹی ایس سے جانچ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔اس سلسلے کی ساری جانکاری اور دستاویزات ۴ ؍مئی کو اے ٹی ایس اور اترپردیش حکومت کے ذمہ داران کو کورٹ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ۴ ؍مئی کو یہ مقدمہ فریش لسٹ میں سنا جائے گا ۔
  اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری اور مقدمے کے مدعی دیوان صاحب زماں خاں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدلیہ کی خود مختاری، آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کا مظہر ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ نے تقریباً چار ہزار مدارس کی اے ٹی ایس کے ذریعہ ٹیرر فنڈنگ سمیت دیگر امور کی جانچ کو بادی النظر میں غیر قانونی، دائرہ اختیار سے باہر اور مدرسہ بورڈ ایکٹ ۲۰۰۴ء اور مدرسہ ضوابط ۲۰۱۶ءکے خلاف قرار دیا ہے۔دیوان زماںکے مطابق اس حکم سے مدارس کے خلاف پھیلائے جا رہے غلط پروپیگنڈے کی بھی نفی ہوگی۔
 واضح رہے کہ اے ٹی ایس کی جانچ کے دوران مدارس کے بینک اکاؤنٹس، مالی لین دین اور تعمیراتی ذرائع کی تفصیلی چھان بین کی جا رہی ہے، خصوصاً غیر ملکی اور مشکوک فنڈنگ پر نظر رکھی جا رہی ہے، جس سے ذمہ داران میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔
  دوسری جانب مدرسہ تنظیموں کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ مدارس کی عمومی جانچ اے ٹی ایس کے دائرہ کار میں آتی ہی نہیں ہے جبکہ ذاتی بینک اکاؤنٹس کی معلومات طلب کئے جانے پر بھی اعتراض کیا جا رہا ہے۔ اساتذہ تنظیموں کے مطابق اس مسلسل جانچ سے تعلیمی نظام متاثر ہو رہا ہے اور طلبہ کے مستقبل پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
 واضح رہے کہ یوگی حکومت کی جانب سے بار بار مدارس پر شکنجہ کسنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔حکومت نے ۲۰۲۲ء میں بھی تمام۷۵؍ اضلاع میں موجود مدارس کا سروے کروایا تھا۔ اس دوران غیر تسلیم شدہ مدارس کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔یوگی حکومت نے اُس وقت دعویٰ کیا تھا کہ اس سروے کا مقصد ریاست میں موجود مدارس کو جدید تعلیمی نظام سے جوڑنا اور وسائل کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے لیکن مختلف بہانوں سے انہیں پریشان کئے جانے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلے کو مدارس کے ذمہ داران نے خیرمقدم کیا ہے۔ 

lucknow Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK