آہنی پنجوں سے کچلنےکی کوشش ، ویڈیو شیئر کرنے پر آرجے ڈی لیڈرپرینکا بھارتی اور ڈاکٹر کنچنا یادو کے خلاف ایف آئی آر،سیاسی محاذ پر بھی ہلچل، اپوزیشن حکومت پر حملہ آور
EPAPER
Updated: April 16, 2026, 12:13 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Noida
آہنی پنجوں سے کچلنےکی کوشش ، ویڈیو شیئر کرنے پر آرجے ڈی لیڈرپرینکا بھارتی اور ڈاکٹر کنچنا یادو کے خلاف ایف آئی آر،سیاسی محاذ پر بھی ہلچل، اپوزیشن حکومت پر حملہ آور
نوئیڈا میں مزدوروں کے احتجاج کو انتظامیہ نے طاقت سے روکنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے اور بدھ کو حالات پرامن نظر آئے مگر اب یہ احتجاج اب تحریک کی شکل اختیار کرتا نظر آرہا ہے جس کی وجہ سے یوپی کی سیاست میں زبردست ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ صنعتی علاقوں سے اٹھنے والا یہ احتجاج اب رہائشی سوسائٹیوں تک پھیل چکا ہے، جہاں گھریلو ملازمین اور صفائی کارکن بھی سڑکوں پر اتر رہےہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ہزاروں مزدوروں نے مظاہرےکئے اور کئی مقامات پر توڑ پھوڑ، آتش زنی اور پتھراؤ کے واقعات پیش آئے۔ یہ صورتحال انتظامیہ کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ،تقریباً ۳۳؍ مقامات پر قریب ۴۵؍ ہزار مزدوروں نے احتجاج کیا۔ پرتشدد واقعات کے بعد اب تک ۱۰؍ مقدمات درج کئے جا چکے ہیں، جبکہ پولیس نے تقریباً ۳۵۰؍ افراد کو گرفتار اور۱۰۰؍ سے زائد کو حراست میں لیا ہے، تاہم حالات ابھی پوری طرح معمول پر نہیں آسکے۔ تحریک کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سیکٹر ۱۲۱؍ اور سیکٹر ۷۴؍ کی بڑی رہائشی سوسائٹیوں کے باہر بھی مظاہرے دیکھنے کو ملے، جبکہ گریٹر نوئیڈا کے دادری میں واقع شیو نادر یونیورسٹی کے باہر پرائیویٹ ملازمین نے بھی دھرنا دیا اور تنخواہوں میں اضافے اور اوور ٹائم ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ پولیس کے مطابق بات چیت کے بعد وہاں صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا۔
یوگی سرکار کو احتجاج میں ’’بیرونی کنکشن ‘‘ نظر آیاتھا جس کی تلاش میں پولیس بھی جٹ گئی ہے۔ اس کے مطابق ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتارشدہ افراد میں ۵۰؍ سے زائد ’بیرونی عناصر‘شامل ہیں۔ان پر ہجوم کو مشتعل کرنے اور تشدد کو ہوا دینے کا الزام ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سخت انتباہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی، اور اس معاملے میں سازش کے پہلو کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔پولیس نے کارروائی تیز کرتے ہوئے سائبر کرائم تھانے میں آر جے ڈی لیڈر پرینکا بھارتی، ڈاکٹر کنچنا یادو اور تقریباً ۱۵۰؍ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ان پر سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز بیانات دینے اور فرضی ویڈیوز وائرل کرنے کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق کچھ ویڈیوز دوسری ریاستوں کے تھے، جنہیں گمراہ کن انداز میں نوئیڈا سے جوڑ کر پھیلایا گیا۔
سیاسی سطح پر بھی اس کی وجہ سے ہلچل ہے۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے لیڈروں نے اسے ریاستی حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون و نظم کی بگڑتی صورتحال اور اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج حکومت کی پالیسیوں کی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اپوزیشن کے مطابق یہ مسئلہ مزدوروں کے حقیقی مسائل، خاص طور پر کم اجرت، مہنگائی اور بڑھتے معاشی دباؤ سے جڑا ہوا ہے۔سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ناانصافی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور مہنگائی و بے روزگاری نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے نے بھی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ جب مزدوروں کا استحصال ہو اور مہنگائی کمر توڑ رہی ہو تو احتجاج فطری عمل بن جاتا ہے۔
دوسری جانب، حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اس پورے معاملے کو سازش یا بیرونی مداخلت سے جوڑتے ہوئے تشدد پر قابو پانے، نظم و نسق کی بحالی اور مکمل جانچ پر زور دیا جارہا ہے۔ صورتحال کو سنبھالنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے مزدوروں کے حق میں کئی ہدایات جاری کی ہیں، جن میں اوور ٹائم کی اضافی ادائیگی، ہفتہ وار چھٹی، وقت پر تنخواہ، اضافی تنخواہ کی فراہمی اور خواتین کی حفاظت کیلئے خصوصی کمیٹیوں کی تشکیل شامل ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی قانون شکنی یا تشدد کی صورت میں متعلقہ کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔مجموعی طور پر نوئیڈا کا یہ مزدور احتجاج اب صرف اجرتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ قانون و نظم، سیاست، معاشی دباؤ اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال جیسے کئی پہلوؤں کو اپنے اندر سمیٹ چکا ہے، جو ریاستی حکومت اور انتظامیہ کے لئے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔