• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: مہنگائی اور آن لائن خریداری سے روایتی کاریگرپریشان

Updated: September 16, 2026, 10:35 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

گنیش اتسو کے موقع پرناسک اور سنّر کے کاریگروں کے ذریعےبنائے گئے خوبصورت نقش و نگار والے تخت اور چوکیوں کی فروخت میں کمی آئی۔

A woman selling wooden planks and low wooden stools in front of IGM Hospital. Photo: INN
آئی جی ایم اسپتال کے سامنے لکڑی کے تخت اور چوکی فروخت کرتی خاتون۔ تصویر: آئی این این

گنیش اتسو تہوار آنے سے قبل گنیش کی مورتی رکھنے کیلئے استعمال ہونے والے لکڑی کے روایتی تخت اور چوکیاں مختلف علاقوں میں فروخت کی جاتی ہیں۔ تاہم مہنگائی کے باعث ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہ اور آن لائن بازار کی بڑھتی مقبولیت نے روایتی کاریگروں کے کاروبار کو  متاثر کیا ہے۔ہر سال گنیش اتسو کے موقع پر ناسک اور سِنّر کے کاریگر لکڑی کے تخت، چوکیاں اور دیگر روایتی سامان لے کر بھیونڈی پہنچتے ہیں۔

اس سال بھی آئی جی ایم سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے قریب فلائی اوور کے نیچے ان کاریگروں نے دکانیں لگائیں۔ مختلف سائز اور ڈیزائن کے خوبصورت نقش و نگار والے تخت اور چوکیاں یہاں دستیاب ہیں۔کاریگروں کے مطابق گزشتہ سال تقریباً ۱۵۰؍ روپے میں فروخت ہونے والا لکڑی کا تخت اب ۲۵۰؍ روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سائز، لکڑی کے معیار اور نقش و نگار کے حساب سے بڑے اور خوبصورت تخت کی قیمت ۵۰۰؍سے ۷۰۰؍ روپے تک پہنچ گئی۔ لکڑی کی چوکیاں بھی ۲۰۰؍ سے بڑھ کر ۲۵۰؍ روپے ہوگئی ہیں، جبکہ چھوٹے تخت کی قیمت ۵۰؍ کے بجائے ۸۰؍ روپے اور لکڑی کے پول پَٹ کی قیمت ۲۰۰؍ سے بڑھ کر ۲۵۰؍ روپے ہوگئی ہے جس کی وجہ سے فروخت بری طرح متاثر ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: ڈالر کی قدر میں اضافہ اور کئی برس کے سود سے کروڑوں روپے کا بوجھ

قیمت بڑھی، بھاؤ تاؤ کا سلسلہ جاری رہا

  کاریگروں کا کہنا ہے کہ لکڑی، ایندھن اور سامان کی نقل و حمل کا خرچ بڑھنے کے باوجود گاہک پرانی قیمتوں میں سامان خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گاہکوں کی جانب سے زیادہ بھاؤ تاؤ کئے جانے سے پہلے ہی محدود منافع پر کام کرنے والے کاریگروں کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

آن لائن خریداری سے مقامی بازار متاثر

کاریگروں کے مطابق آن لائن بازار بھی ان کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ موبائل فون کے ذریعے گھر بیٹھے لکڑی کے تخت اور چوکیاں منگوانے کی سہولت کے باعث مقامی بازاروں میں گاہکوں کی آمد پر اثر پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاتھ سے تیار کی جانے والی ان روایتی اشیاء کے کاروبار کو برقرار رکھنے کیلئے حکومت کو روایتی کاریگروں کی حوصلہ افزائی اور انہیں ضروری سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔تخت اور چوکیاں فروخت کرنے والے امیت پوار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ روایتی کاریگروں کے مسائل پر توجہ دی جائے اور ان کے کاروبار کو فروغ دینے کیلئے ضروری تعاون فراہم کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK