ادھو ٹھاکرے کا ساتھ چھوڑ کر جانے والے رکن پارلیمان سنجے جادھو کا اعتراف، ودھان پریشد الیکشن میں پارٹی امیدوار کا کا م نہیں کیا تھا
EPAPER
Updated: June 30, 2026, 9:06 AM IST | Parbhani
ادھو ٹھاکرے کا ساتھ چھوڑ کر جانے والے رکن پارلیمان سنجے جادھو کا اعتراف، ودھان پریشد الیکشن میں پارٹی امیدوار کا کا م نہیں کیا تھا
حال ہی میں شیوسینا (ادھو) کو چھوڑ کر شیوسینا (شندے میں شامل ہونے والے رکن پارلیمان سنجے جادھو نے سرعام اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نےودھان پریشد الیکشن میں شیوسینا (ادھو) کے امیدوار کی مدد نہیں کی تھی بلکہ شندے گروپ کے امیدوار کا ساتھ دیا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ شیوسینا (ادھو) کا امیدوار ایماندار تھا اور سیاست اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس متنازع بیان کے بعد ہر طرف سے سنجے جادھو پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پربھنی میں ایک پروگرام کے دوران سنجے جادھو نے کہا ’’پربھنی۔ہنگولی ودھان پریشد سیٹ پر میں نے ڈاکٹر وویک ناوندر کا کام نہیں کیا۔ میں نے ان سے کہا ناوندر آپ الیکشن کے چکر میں مت پڑ یئے،آپ ایماندار ہو، آپ کے پاس محنت کی کمائی ہے۔ آپ اراکین کو خریدنے کیلئے اتنے پیمانے پر خرچ نہیں کر سکتے۔ آپ کے سامنے دو مضبوط امیدوار کھڑے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا’’ لیکن ناوندر نے میرا مشورہ نہیں مانا اور الیکشن لڑے اور ہار گئے۔ میں نے انہیں صاف کہہ دیا تھا کہ میں خود آپ کا ساتھ نہیں دوں گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا’’ کیا کسی نے ناوندرکا پتہ کٹ کرنے کیلئے انہیں الیکشن میں کھڑا کیا تھا؟ اس بات کی تحقیقات کرنی چاہئے۔‘‘ سنجے جادھو نے واضح طور پر یہ کہہ دیا کہ سیاست ایماندار لوگوں کا کام نہیں ہے اور وہ خود بھی ایماندار امیدوار کا ساتھ نہیں دیتے۔
رکن پارلیمان نے کہا’’ میں نے ۲۵؍سال اپوزیشن پارٹی میں رہتے ہوئے سیاست کی ہے۔ عوام کا کام کرنا ہے تو آپ کے پاس اقتدار ہونا چاہئے۔ ملک اور ریاست کی سیاست بدل چکی ہے۔ اب یہ سماجی خدمات پر نہیں چلتی بلکہ معاشی معاملات پر چلتی ہے۔
ادھو ٹھاکرے کے پربھنی دورے کے پس منظر میں جادھو نے کہا کہ میں اب شیوسینا میں شامل ہو گیا ہوں، مجھے کسی کے ایمانداری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ ۲۰۱۹ء میں، مجھے پربھنی لوک سبھا حلقہ سے ٹکٹ ملا تھا ۔ پھر بھی رکن اسمبلی راہل پاٹل نے جسارت کا مظاہرہ کرتےہوئے میرے خلاف کام کیا۔ میں ان کی پارٹی میں تھا لیکن میرے بجائے اپوزیشن پارٹی کا ساتھ دیا۔ راجیش وٹیکر کی تشہیر میں حصہ لیا۔ اسلئے جن لوگوں نے مجھے دھوکا دیا وہ مجھ پر دھوکہ دہی کا الزام نہ لگائیں۔
۳؍ سال بعد حکومت میں آئیں گے : ادھو ٹھاکرے
اس دوران مہاراشٹر کے دورے پر نکلے شیوسینا(ادھو) سربراہ ادھو ٹھاکرے پیر کے روز شرڈی پہنچے جہاں انہوں نے سائیں بابا کے درشن کئے اور یہ دعویٰ کیا کہ سائیں بابا کے آشیرواد سے ۲۰۲۹ء میں ہم الیکشن جیت کر اقتدار میں آئیں گے۔ انہوں نے کہا’’ شندے گروپ ۶؍ اراکین پارلیمان کو اپنے ساتھ کرنے کے بعد اسے آپریشن ٹائیگر کہہ رہا ہے لیکن یہ آپریشن ٹائیگر نہیں بلکہ آپریشن فرنویس ہے۔ ‘‘ سابق وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس دیویندر فرنویس کی حمایت کر رہا ہے اور فرنویس ۲۰۲۹ء میں خود کو وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کیلئے وہ ابھی سے اعداد وشمار حاصل کرنے کی تگ ودو میں ہیں۔ ایکناتھ شندے ان کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ شندے ان کا ساتھ دینے کیلئے مجبور ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ ادھو ٹھاکرے ہر اس پارلیمانی حلقے کا دورہ کر رہے ہیں جہاں کا رکن پارلیمان انہیں چھوڑ گیا ہے۔