اسنجے راؤت کا باغی اراکین پارلیمان پر شدید حملہ، کہا : کیا وہ پربھنی کو دبئی یا سنگاپور بنانے جارہے ہیں۔ادھوٹھاکرے نے دھاراشیو میں باغی رکن پارلیمان اوم راجے نمبالکر اور نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے پرسخت تنقید کی۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 10:38 AM IST | Z. A. Khan / Agency | Parbhani
اسنجے راؤت کا باغی اراکین پارلیمان پر شدید حملہ، کہا : کیا وہ پربھنی کو دبئی یا سنگاپور بنانے جارہے ہیں۔ادھوٹھاکرے نے دھاراشیو میں باغی رکن پارلیمان اوم راجے نمبالکر اور نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے پرسخت تنقید کی۔
شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن پارلیمان سنجے راؤت نے پربھنی میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے باغی لیڈروں، بی جے پی اور مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جرمنی اور ملک میں پربھنی کی مثال کیوں دی جاتی ہے، اس کا حقیقی احساس انہیں اس وقت ہوا جب شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کی پربھنی آمد پر عوام نے ’غداروں‘ کے خلاف بھرپور نعرے لگائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پربھنی میں کبھی کوئی کامیاب نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہو سکے گا۔ یہاں بہت سے لوگ آئے اور چلے گئے لیکن شیو سینا ہمیشہ مضبوطی کے ساتھ قائم رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔
سنجے راؤت نے ایک باغی رکن پارلیمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص خود کو’بنڈو دی باس‘ کہتا ہے، اس کی حقیقت سب جانتے ہیں۔ آج وہ ترقی کی باتیں کر رہا ہے لیکن وہ دو مرتبہ رکن اسمبلی اور تین مرتبہ رکن پارلیمان رہ چکا ہے یعنی مسلسل ۲۰؍ برس اقتدار میں رہا، اس کے باوجود اپنے حلقے میں ایک معمولی آٹا چکی بھی قائم نہیں کر سکا۔ ایسے شخص سے ضلع کی ترقی کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟انہوں نے بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر گزشتہ بارہ برس میں بی جے پی اور وزیر اعظم کو ملک میں ترقی نظر نہیں آئی تو پھر دوسری جماعت میں شامل ہو کر انہیں کون سی ترقی ملنے والی ہے؟ کیا وہ پربھنی کو دبئی یا سنگاپور بنانے جا رہے ہیں؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پربھنی میں جس نے بھی غداری کی عوام نے اسے سیاست سے باہر کا راستہ دکھایا ہے۔ انہوں نے ایک باغی رکن پارلیمان کی مبینہ دولت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص کبھی ٹین کی چھت والے گھر میں رہتا تھا، آج اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دو ہزار کروڑ روپے کی جائیداد کا مالک بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ سیاسی اور مالی طاقت اسے صرف شیو سینا اور ٹھاکرے خاندان کے نام کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے، جسے اسے فراموش نہیں کرنا چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تھپڑ مار کر دکھاؤ مگر ہم تھپڑ نہیں ماریں گے بلکہ انہیں سیاسی طور پر روند دیں گے۔ راؤت نے کہا کہ ’’آپریشن تُڑوا‘‘ ایسے ہی لوگوں کیلئے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شیو سینا کے بانی بالاصاحب ٹھاکرے نے انہیں ایسے ’غداروں‘ کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی تعلیم دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: کل سے ’بی ایل او‘ گھر گھر جاکر سروے کریں گے
۲۰۲۹ء میں شیوسینا کے سو سے زائد اراکین منتخب ہوں گے‘‘
اپنی تقریر کے اختتام پر سنجے راؤت نے کہا کہ پربھنی شیو سینا کا مضبوط گڑھ ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ انہوں نے شیو سینا کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں متحد رہیں اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں اس خطے سے پارٹی کے ۴؍ امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ۲۰۲۹ء میں شیو سینا کے سو سے زائد اراکین اسمبلی منتخب ہوں گے اور جب مہاراشٹر میں ان کی حکومت قائم ہوگی تو وہ حقیقی ترقی کر کے دکھائیں گے۔
باغی اراکین پارلیمان بیچ میں لٹک جائیں گے: ادھوٹھاکرے
ادھو ٹھاکرے اتوارکو پربھنی کے دورے پر تھے۔ انہوں نے باغی رکن پارلیمان سنجے جادھو کے حلقے میں شیوسینکوں سے بات چیت کی۔ اس وقت ادھو ٹھاکرے نے سنجے جادھو کے ساتھ ساتھ بی جے پی پر بھی سخت تنقید کی ۔
شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو باغی رکن پارلیمان اوم راجے نمباکر کے حلقہ انتخاب دھاراشیو میں میٹنگ کی جس میں انہوں نے ایک بار پھر باغی ممبران پارلیمنٹ پر حملہ کیا۔ انہوں نے ایکناتھ شندے کو بھی نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ شیو سینا (یوبی ٹی) میں بغاوت کے بعد اب پارٹی کے ۹؍ میں سے صرف ۳؍ اراکین پارلیمان رہ گئے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے مہاراشٹر کا دورہ شروع کر دیا ہے اور خاص طورپر ان علاقوں کا دورہ کررہے ہیں جو باغی اراکین پارلیمان کا حلقہ انتخاب ہے۔ ادھو ٹھاکرے ان حلقوں میں میٹنگیں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: لوکل ٹرین قتل کیس کا ملزم چاقو سے متعلق بار بار بیان بدل رہا ہے
اتوار کو ادھو ٹھاکرے نے دھاراشیو کے باغی ایم پی اوم راجے نمبالکر کے حلقہ میں میٹنگ کی جس میں انہوں نے اوم راجے نمبالکر اور دیگر باغی ممبران پارلیمنٹ اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر سخت تنقید کی۔ اس میٹنگ میں ادھو ٹھاکرے نے بڑا بیان دیا ہے۔ ’ٹی وی نائن ‘ کی خبر کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’’ یہ تمام باغی ممبران پارلیمنٹ بیچ میںلٹک جائیں گے۔ ہمارے دو ممبران پارلیمنٹ نے دو دن پہلے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی تھی۔ جب ہم نے انہیں آئین دکھایا تو انہوں نے کہاکہ نہیں میرے پاس ہے۔ پھر ہم نے انہیں وہ اصول دکھایا۔ فی الحال وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ۹؍ میں سے ۶؍ تقسیم ہو چکے ہیں جس کا مطلب ہے دو تہائی۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ ان کیلئے فیصلہ کیا گیا تھا لیکن یہ ایم پی (اومراجے نمبالکر) اڑ گئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ پانچ ہے، دو تہائی اس وقت تک نہیں ہوتے جب تک یہ۶؍ نہ ہو جائے۔ اس لئے انہوں نے قیمت بڑھا دی اور پھر وہ وہاں گئے۔ لیکن اگر دو تہائی گئے بھی تو کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اراکین پارلیمان بغاوت نہیں کر سکتے کیونکہ قانون یہی کہتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر دو تہائی ممبران پارلیمنٹ یہاں اور وہاں چلے جائیں، وہ پارٹی نہیں بدل سکتے۔ وہ پارٹی میں ضم نہیں ہو سکتے کیونکہ پارٹی کے ساتھ انضمام کا فیصلہ پارٹی کوکرنا ہے اور اسے دو تہائی اراکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرنی ہے، اب دیکھتے ہیں کہ اوم برلا کیا کرتے ہیں۔