ادھو ٹھاکرے مہاراشٹر کے ان پارلیمانی حلقوں کا دورہ کررہے ہیں جہاں سے منتخب ہوکر پارلیمنٹ پہنچنے والے ان کی پارٹی کے نمائندے باغی ہوکر اب ایکناتھ شندے کے ساتھ ہیں۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 1:16 PM IST | Mumbai
ادھو ٹھاکرے مہاراشٹر کے ان پارلیمانی حلقوں کا دورہ کررہے ہیں جہاں سے منتخب ہوکر پارلیمنٹ پہنچنے والے ان کی پارٹی کے نمائندے باغی ہوکر اب ایکناتھ شندے کے ساتھ ہیں۔
ادھو ٹھاکرے مہاراشٹر کے ان پارلیمانی حلقوں کا دورہ کررہے ہیں جہاں سے منتخب ہوکر پارلیمنٹ پہنچنے والے ان کی پارٹی کے نمائندے باغی ہوکر اب ایکناتھ شندے کے ساتھ ہیں۔ دورہ کی حکمت عملی کتنی کارگر ہوگی کہا نہیں جاسکتا مگر یہ طے ہے کہ ادھو کی پارٹی کا بڑا نقصان ہوا ہے۔خون پسینے سے پارٹی کو سینچنے کے بعد بغاوت کا ایسا موسم جھیلنا سہل نہیں۔ ادھو کس اضطراب سے گزر رہے ہونگے وہی جانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انہیں یا سنجے راؤت کو اس کا اندازہ کیوں نہیں ہوا؟
ہوا بھی ہوگا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لالچ اور خوف کا علاج ہے مگر مریض اس سے باہر نکلنا چاہے تب۔ انگریزی کی ایک اصطلاح ادھر بیس تیس برس میں کافی رائج ہوئی، وہ ہے اینٹی ان کمبینسی۔ یعنی اقتدار سے بے دلی، بیزاری اور برہمی۔ اب دیکھنا ہے کہ انگریزی کے اصطلاح ساز سیاسی شناخت، موقع اور عہدہ دینے والی اپنی ہی پارٹی سے پیدا شدہ بے دلی کو کیا نام دیتے ہیں۔ جو اصطلاح وضع کی جائے اس میں بے دلی اور بیزاری کے ساتھ لالچ اور خوف کو بھی شامل کرنا پڑیگا جو آسان نہیں ہے۔ کون جانتا تھا کہ سیاستداں، اصطلاح سازوں کو اتنی بڑی آزمائش میں مبتلا کر دینگے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی مشکل یہ ہوتی ہے کہ ان کے پاس اتنے عہدے اور مناصب نہیں ہوتے کہ سب کو مطمئن رکھا جائے۔ اگر برسوں سے کام کرنے والے کچھ لوگوں کو کوئی عہدہ نہیں ملا ہے جس کے سبب ان میں بے کیفی پیدا ہوئی ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ یہاں تو وہ لوگ بغاوت کررہے ہیں جنہیں پارٹی نے نوازا، لوک سبھا یا اسمبلی کا ٹکٹ دیا، کامیاب کروایا اور ایم پی، ایم ایل اے بنوا کر ان کی شان بڑھائی۔ ایک طرف اتنی عنایتیں اور دوسری طرف ایسی بغاوتیں؟
جو ادھو کے ساتھ ہوا، ممتا کے ساتھ ہو چکا تھا۔ جو ممتا کے ساتھ ہوا کیجریوال کے ساتھ ہوچکا تھا۔ جو کیجریوال کے ساتھ ہوا جے ڈی یو کے ساتھ ہو چکا تھا۔ جو جے ڈی یو کے ساتھ ہوا بغاوت کے فرسٹ راؤنڈ میں ادھو کے ساتھ ہوچکا تھا اور جو ادھو کے ساتھ ہوا وہ شرد پوار کے ساتھ ہوچکا تھا۔ اتنا ہی نہیں، جو ادھو کے ساتھ ہوچکا تھا وہی ان کے ساتھ دوبارہ ہوا اور جو شرد پوار کے ساتھ ہوچکا ہے وہی ان کے ساتھ دوبارہ ہوسکتا ہے۔ کردار بدلتے ہیں، پلاٹ بدلتا ہے، اسٹیج بدلتا ہے، کہانی بھی بدلتی ہے مگر موضوع ایک ہی رہتا ہے۔ توڑ پھوڑ کی سیاست میں سب سے زیادہ آسانی اور سب سے بڑی کامیابی جے ڈی یو کے معاملے میں ملی، یہ مٹی اتنی نم ہوئی کہ چپ چاپ ضم ہوگئی۔ بہار کی سمراٹ اب بی جے پی ہے، جے ڈی یو کی چودھراہٹ کا زمانہ لد گیا۔ نتیش جی کہاں ہیں اور ان کی پارٹی کدھر گئی کسی کو پتہ نہیں۔ خدا کرے نتیش جی صحتمند ہوں۔ انہوں نے اپریل میں راجیہ سبھا کی رکنیت کا حلف لیا، اس کی خبر ایسے آئی جیسے رسم کی ادائیگی مقصود ہو۔ نتیش نے ۲۰۱۰ء میں ’’ وِکست بہار کی کھوج‘‘ نامی کتاب لکھی تھی۔ پندرہ سال بعد وہ اپنی کھوج سے سنتوشٹ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کون روکے گا ایسی وارداتیں؟
بہر حال، پارٹیوں کی توڑ پھوڑ یا ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے کیونکہ الگ الگ پارٹیوں کے لوگ جہاں جارہے ہیں وہاں ’’ہاؤس فل‘‘ کا بورڈ ابھی نہیں لگا ہے۔ جس دن لگے گا تب تک کتنی پارٹیاں بچی رہیں گی یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔