ریاستی حکومت نے دیہی اور دور دراز علاقوں کے سیکنڈری اسکولوں کیلئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی اسکول ایجوکیشن اینڈ سپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سال۲۶۔۲۰۲۵ء کے بیچ کے حوالے سے جاری کردہ ہدایت سے کم طلبہ کی تعداد والے اسکولوں کو اس سے راحت ملی ہے۔
EPAPER
Updated: May 16, 2026, 10:39 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
ریاستی حکومت نے دیہی اور دور دراز علاقوں کے سیکنڈری اسکولوں کیلئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی اسکول ایجوکیشن اینڈ سپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سال۲۶۔۲۰۲۵ء کے بیچ کے حوالے سے جاری کردہ ہدایت سے کم طلبہ کی تعداد والے اسکولوں کو اس سے راحت ملی ہے۔
ریاستی حکومت نے دیہی اور دور دراز علاقوں کے سیکنڈری اسکولوں کیلئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی اسکول ایجوکیشن اینڈ سپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سال۲۶۔۲۰۲۵ء کے بیچ کے حوالے سے جاری کردہ ہدایت سے کم طلبہ کی تعداد والے اسکولوں کو اس سے راحت ملی ہے۔
سرکیولر کے مطابق’’ دیہی علاقوں کے سیکنڈری اسکولوں کے نویں اور دسویں جماعت میں اگر طلبہ کی تعداد ۲۰؍ یا اس سے زیادہ ہے تو ان اسکولوں کو ۳؍ اساتذہ کے عہدوں کیلئے تسلیم کیا جائے گا ۔ اس فیصلے سے طلبہ کی کم تعداد کی وجہ سے اساتذہ کی پوسٹوں کو ختم کرنے کا جو اعلان کیا گیاتھا ، وہ خطرہ عارضی طور پرٹل گیا ہے ۔ اب ان اسکولوںکے طلبہ کو کسی اور اسکول میں منتقل کرنے کے بجائے انہی اسکولوں میں پڑھایا جائے گا کیونکہ پہلے جو فیصلہ کیا گیاتھا ،اس کے تحت اس طرح کے اسکولوں کیلئے صفر عہدہ مقرر کیا گیا تھا مگر اب ان اسکولوں کیلئے ۳؍ عہدے منظور کئے گئے ہیں ۔ اس سہولت سے طلبہ کے تعلیمی نقصانات کو روکنے میں مدد ملے گی۔
اس تعلق سے ریاستی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کی گزشتہ دنوں منترالیہ میں منعقدہ میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا گیا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کی تعلیم میں کوئی رکائوٹ نہیں آنی چاہئے۔ اسی پس منظرمیں مذکورہ فیصلہ کیا گیاہے۔ دیہی علاقوں کی سیکنڈری اسکولوں کو یہ سہولت طلبہ کی تعداد میں اضافے کیلئے ایک ترغیب کے طور پر دی جا رہی ہے تاکہ طلبہ پڑھائی میں دلچسپی لیں اور اسکولوںمیں طلبہ کی تعداد بڑھائی جاسکے ۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس عہدہ پر کسی نئی بھرتی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دریں اثناء ۱۰؍ سے کم طلبہ کی تعداد والے اسکولوں میں کام کرنے والے پرنسپل کے عہدے کو تحفظ دینے کا اہم فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ایسے اسکولوں کے پرنسپلوں نے مشورہ دیا ہے کہ ایکریڈیشن برقرار رکھتے ہوئے اس عہدے کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔
اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے انقلا ب کو بتایا کہ ’’ اس فیصلے سے کم طلبہ کی تعداد والے اسکولوں میں بھی اساتذہ کے عہدوں کا تحفظ ممکن ہو سکے گا اور دیہی علاقوں میں تعلیمی نظام کو مزید مضبوطی حاصل ہوگی ۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مذکورہ رعایت صرف تعلیمی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کیلئے عارضی طور پر نافذ رہے گی ۔ اس کا مقصد اسکولوں میں طلبہ کی تعداد بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔ یہ رعایت صرف موجودہ برسرِ کار اساتذہ تک محدود رہے گی اور ان عہدوں پر نئی بھرتی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دریں اثناء اس فیصلے سے دیہی علاقوں کی متعدد اسکولوں کو فائدہ پہنچنے کی اُمید ظاہر کی جا رہی ہے ۔ مختلف اساتذہ کی تنظیموں نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’ کم تعداد والے اسکولوں میں صفر عہدوں کی منظوری اور اس کی وجہ سے سرپلس ہونے والے سیکڑوں اساتذہ کا معاملہ فی الحال ایک سال کیلئے ٹل گیا ہے ۔ ویسے بھی طلبہ کی تعداد کے مطابق اساتذہ کی تقرری( سنچ مانیتا) کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اگر آئندہ سال تک اس کا فیصلہ نہیں ہوتا ہے تو ہم پھر وزیر تعلیم سے اس تعلق سے گفتگو کر کے ۲۰؍ طلبہ سے کم تعداد والے اسکولوں کیلئے مذکورہ نئے فیصلے میں توسیع کا مطالبہ کریں گے تاکہ اس طرح کے اسکولوں کے طلبہ کاتعلیمی نقصان نہ ہو اور اساتذہ بھی سرپلس ہونے کے خطرےسے محفوظ رہیں ۔‘‘