Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب جنسی زیادتی کے ملزم کو پیرول نہیں ملے گی ، قانون سازی کی ہدایت

Updated: May 06, 2026, 3:06 PM IST | Agency | Mumbai

چاروں جانب تنقیدوں کا اثر ، نسرا پور واقعے کے مد نظر وزیر اعلیٰ کا کابینہ میٹنگ میں اہم فیصلہ ، مجرموں پر قدغن لگانے کا عزم ظاہر کیا۔

Devendra Fadnavis` Move After Criticism From All Sides.Photo:INN
چہار جانب تنقیدوں کے بعد دیویندر فرنویس کا اقدام -تصویر:ائی این این
پونے  کے نسرا پور  علاقے میں ایک ۶۵؍ سالہ شخص کے ہاتھوں معصوم بچی کے ساتھ زیادتی  کرکے اسے قتل کرنے کا بہیمانہ واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے ساری ریاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور حکومت کو بھی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ ا ہے۔ اب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس معاملے میں نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک نیا قانون وضع کریں گے جس کے تحت جنسی زیادتی کے ملزمین کو پیرول پر رہا نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ نسرا پور کے ملزم  بھیم راؤ کامبلے کے تعلق سے کہا جار ہا ہےکہ اس پر پہلے ہی جنسی زیادتی کے دو مقدمات  چل رہے ہیں۔  قانونی کارروائی کے بعد اب وہ آزاد گھوم رہا ہے۔ اسی وجہ سے اس نے اتنا گھنائونا  جرم کرنے کی جرأت کی۔ اسی کے پیش نظر ریاستی حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔
  منگل کے روز وزیر اعلیٰ دیویندرفرنویس کی قیادت میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی جس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ انہی میں ایک فیصلہ جنسی زیادتی کے ملزمین کی پیرول سے متعلق تھا۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس تعلق سےنیا قانون کو بنانے کی ہدایت دی۔ حکومت اب قانون میں تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے۔ میٹنگ میں یہ بات زیر بحث آئی کہ جنسی جرائم کے معاملے میں ۸۰؍ تا ۹۰؍ فیصد ملزمین گرفتار تو ہوتے ہیں لیکن  پیرول پر رہا ہو جاتے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس دوران وہ وہی جرائم دوبارہ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ۲۰۱۴ء تا ۲۰۱۹ء جب دیویندر فرنویس وزیر اعلیٰ تھے، ایک قانون نافذ کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس طرح کے جرائم کے ملزمین کو پیرول پر رہا نہیں  کیا  جانا چاہئے لیکن دو تین سال بعد اس قانون کو عدالت نے منسوخ کر دیا۔ اب وزیر اعلیٰ نے دوبارہ وہی قانون بنانے کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس خود  نسرا پور میں ہونے والے ظلم کے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ تحقیقات کی رفتار، اکٹھا کئے گئے شواہد اور تکنیکی معاملات کے حوالے سے مسلسل سینئر پولیس افسران سے رابطے میں ہیں۔ وہ پونے دیہی پولیس فورس کو ضروری ہدایات بھی دے رہے ہیں۔ وہ ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کیلئے تحقیقات کے بارے میں باقاعدگی سے اپ ڈیٹ لے رہے ہیں۔
 
 
وزیر اعلیٰ پر تنقیدوں کا دبائو
یاد رہے کہ اس گھنائونے واقعے کے بعد نسرا پور کے باشندوں نے کئی گھنٹوں تک سڑک جام کر رکھی تھی اور ملزم کو فوری طور پرسزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ کسی طرح انہیں سمجھا بجھا کر واپس بھیجا گیا۔ اس کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں مہایوتی حکومت پر تنقیدیں ہونے لگیں۔ منگل کے روز بھی مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگےنے اس واقعے کے پس منظر میںبراہ راست وزیر اعلیٰ کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیویندر فرنویس حیوانی ذہنیت کے حامل ہیں، ان کی حکومت کو اب پلٹنا ہی ہوگا۔  انہوں نے الزام لگایا کہ وہ ملزمین کو جیل میں اے سی فراہم کرتے ہیں۔ جیسا کہ بیڑ میں سنتوش دیشمکھ کے قاتلوں کو دیا گیا۔
 
 
ایم این ایس سربراہ  راج ٹھاکرے نے انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نسرا پور واقعے کے ملزم کو تڑپا تڑپا کر مارنا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے ’’ حکومت اس بات کی پروا نہیں کرنی چاہئے کہ قانون کیا کہتا ہے اور لوگ کیا کہتے ہیں بلکہ اسے ایسی سخت سزا دی جانی چاہئے کہ پھر کوئی ایسا جرم کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ ‘‘ حالانکہ راج ٹھاکرے کے اس بیان پر ماہرین نے اعتراض ظاہر کیاہے۔ کانگریس کی رکن پارلیمان پرنیتی شندے نے بھی وزیر دیویندر فرنویس سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ پورے مہاراشٹر میں نظم ونسق کی حالت خراب ہے۔ ہم وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ (دونوں عہدوں پر فرنویس ہیں) سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر ریاست میں ’شکتی قانون‘ ہوتا تو ملزم کو ۱۵؍ دنوں کے اندر پھانسی کی سزا دی جا سکتی تھی۔ ‘‘ پرنیتی شندے نے اس بات پر بھی اعتراض ظاہر کیا کہ جب لوگ معصوم بچی کے  قصور وار کو سزا کا مطالبہ کر رہے تھے تو وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ ایک دوسرے کو پیڑے کھلا رہے تھے (بنگال کی جیت پر)۔ ان تنقیدوں کے بعد وزیر اعلیٰ اس وقت سخت دبائو میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK