جوہری پابندی: امریکہ کی ایران کو فوجی کارروائی کی دھمکی

Updated: July 02, 2020, 11:08 AM IST | Agency | Yerushalam

امریکی صدر کے خصوصی نمائندے برائے ایران کا مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک کا دورہ۔ کسی بھی صورت میں ایران پر عائد جوہری پابندیوں کی مدت میں توسیع پر زور۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں امریکہ کے پاس فوجی کارروائی کا متبادل موجود ہونے کی تنبیہ۔ اسرائیل اور عرب ممالک کے اتحاد کا بھی تذکرہ

Iran and USA - Pic : INN
ایران اور امریکہ ۔ تصویر : آئی این این

 ایران  پر عائد جوہری  پابندیوں کی مدت میں توسیع  کے معاملے میں اب امریکہ  نے ایران کو باقاعدہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دینی شروع کر دی ہیں۔ امریکی صدر کے خصوصی نمائندے برائے ایران برائن ہک نے کہا ہے  کہ’’ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کو نیوکلیائی ہتھیار رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے خواہ  اس کے خلاف فوج کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔‘‘ برائن ہک نے یہ بات  اسرائیلی کے چینل ۱۳؍  پر کہی۔ انہوں نے کہا کہ’’ ایران پر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کو کبھی بھی نیوکلیائی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ ایران کو اس سے باز رکھنے کیلئے فوجی ان کے پاس فوجی  کارروائی بھی ایک متبادل ہے۔‘‘ برائن ہک نے زور دے کر کہا کہ ’’صدر ٹرمپ ایران کو ہرگز ہرگز نیوکلیائی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘  
 واضح رہے کہ برائن ہک اس وقت مشرق وسطیٰ کے خصوصی علاقائی دورے پر ہیں جس میں وہ  سعودی عرب ، بحرین ، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل  جیسے ممالک  حکام سے ملاقات کریں گے۔  برائن ہک کے اس دورے کا مقصد  اس خطے میں  امریکی اتحادیوں کے ساتھ ایران کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا ہے۔ ان کے ایجنڈے کا سب سے اہم مسئلہ ایران پر امریکی ہتھیاروں کی پابندی کا دائرہ  اکتوبر سے آگے  بڑھانا ہے ، جب اس کی میعاد پوری ہونے والی ہے۔
 ہک نے مزید کہا کہ وہ  جو بات بہت واضح طور پر سن رہے ہیں  وہ یہ ہے کہ ایران پر اسلحہ کی پابندی ختم ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور جب  اسرائیل اور عرب اتنی مضبوطی سے کسی بات پر متفق ہو جائیں تو  لوگوں کو ان کی بات سننی چاہئے۔واضح رہے کہ امریکہ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ سلامتی کونسل میں کسی طرح ایران پر عائد جوہری پابندیوں کو اکتوبر میں اس کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی جاری رکھا جائے۔   اس نے اس کیلئے تگ ودو شروع کر دی ہے۔ برائن ہک کا یہ دورہ بھی  اسی کوشش کا حصہ ہے۔ امریکہ کیلئے سب  بڑا چیلنج  روس اور چین ہیں  جو اس معاملے میں ایران کے ساتھ ہیں  اور  سلامتی کونسل  پابندی میں توسیع کی امریکی کوششوں کی مخالفت کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ ان دونوں ممالک کے پاس ویٹو پاور ہے جس  کے ذریعے وہ  ایران  کے خلاف ہونے والے کسی بھی فیصلے کو مسترد کر سکتے ہیں۔  غالباً اسی وجہ سے  امریکہ نے اب ایران کو فوجی کارروائی کی دھمکی دینی شروع کی ہے۔  فوجی کارروائی کیلئے مشرق وسطیٰ  میں راہ ہموار کرنا لازمی ہے۔  برائن ہک کے اس دورے کو  اسی  پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ادھر ایران نے سخت لہجے میں پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے پیدا کردہ کسی بھی صورتحال کا  سامنا کرنے کیلئے تیار ہے۔ 
انتونیو غطریس کا ایران پر الزام
 ادھر  اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے الزام لگایا  ہے کہ ایران نے مغربی ایشیا کو تباہ کرنے کیلئے روایتی ہتھیاروں کے اپنے اسلحہ خانے کا استعمال جاری رکھا ہوا اوردہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔غطریس  کے نام   جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’’ایران نے جان بوجھ کر یہ دعویٰ کرتے ہوئے دنیا کو گمراہ کیا تھا کہ گزشتہ ستمبر میں ہوئے حملے کیلئے حوثی باغی ذمہ دار تھے۔ نومبر ۲۰۱۹ء اور فروری ۰۲۰ء  میں یمن کے ساحل سے ضبط ہتھیار اور متعلقہ سامان ایران کے تھے۔ ان اشیاء کو ایران کے باہر ضبط کیا گیا تھا جو ایران کی جانب سے ہتھیاروں کو تلف کرنے کے وعدے کی  خلاف ورزی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK