ایک گرافکس کے ذریعہ کانگریس نے مودی حکومت کو نشانہ بنایا ، کہا کہ ’’مودی ہے تو ممکن ہے، اس حکومت میں لوگ تیزی کے ساتھ قرض دار بنے ہیں۔‘‘
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 11:30 AM IST | Agency | New Delhi
ایک گرافکس کے ذریعہ کانگریس نے مودی حکومت کو نشانہ بنایا ، کہا کہ ’’مودی ہے تو ممکن ہے، اس حکومت میں لوگ تیزی کے ساتھ قرض دار بنے ہیں۔‘‘
ملک میں قرض داروں کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ اس کی جانکاری مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا میں بھی دی گئی تھی۔ اس معاملہ میں کانگریس نے ایک گرافکس کے ذریعہ مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ’ایکس‘ پر شیئر کردہ گرافکس میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت میں قرض دار بنے لوگ۔‘‘ اس کے ساتھ گرافکس میں دکھایا گیا ہے کہ ۲۰۱۸ءمیں جہاں ۸ء۱۲؍ کروڑلوگ قرض میں ڈوبے ہوئے تھے وہیں ۲۰۲۵ء میں قرضداروں کی تعداد بڑھ کر ۲۸ء۳؍ کروڑ ہو گئی ہے۔ یعنی ۷؍ سال میں ملک میں قرضداروں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس پوسٹ کے ساتھ کانگریس نے طنزیہ انداز میں یہ کیپشن بھی لگایا ہے کہ ’’مودی ہے تو ممکن ہے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا کے مانسون اجلاس میں وزیر مملکت پنکج چودھری نے ایک رپورٹ پیش کی تھی جس سے ان اعداد و شمار کی تصدیق ہو تی ہے۔
اس کے ساتھ ہی جون ۲۰۲۶ء میںجاری آر بی آئی کی فائنانشیل اسٹیبلٹی رپورٹ (ایف ایس آر) کے مطابق ہندوستان کے گھریلو سیکٹر کا قرض لگاتار بڑھ رہا ہے۔ اب یہ جی ڈی پی کا ۵ء۴۵؍ فیصد ہو گیا ہے۔ اس میں خاص طور سے غیر رہائشی خوردہ قرضوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اب یہ مجموعی گھریلو قرض کا۵۸؍ فیصد ہیں، جو رہائش، زراعت و کمرشیل قرضوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔آر بی آئی کے مطابق کریڈٹ انفارمیشن کمپنی ’ٹرانس یونین سبل‘ کو کریڈٹ اداروں کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق مارچ۲۰۱۸ء میں ۱۲؍کروڑ قرض لینے والوں پر مجموعی ۴۳؍ لاکھ ۶۱؍ ہزار کروڑ سے زائد کا بقایہ قرض تھا جو مارچ۲۰۲۵ء میںبڑھ کر۱۳۵؍ لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ اس دوران قرض لینے والوں کی تعداد اور ان کا اوسط قرض، دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔