کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری نے کاروباری اعتماد سروے جاری کیا، بتایا کہ پہلی سہ ماہی میں اعتماد اشاریہ ۶۰؍ سے بڑھ کر ۶۶؍ تک پہنچ گیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 1:06 PM IST | Agency | New Delhi
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری نے کاروباری اعتماد سروے جاری کیا، بتایا کہ پہلی سہ ماہی میں اعتماد اشاریہ ۶۰؍ سے بڑھ کر ۶۶؍ تک پہنچ گیا ہے۔
مغربی ایشیا کے بحران کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹیں اب کم ہونے لگی ہیں، جبکہ ملکی طلب اور وسیع تر معاشی اعداد و شمار میں مضبوطی کے باعث کاروباری اعتماد کئی سہ ماہیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) نے پیر کو جاری کیے گئے کاروباری اعتماد کے سروے میں یہ بات کہی۔ اس مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کاروباری اعتماد اشاریہ (بی سی آئی) ۶۰ء۸؍ سے بڑھ کر دوسری سہ ماہی میں ۶۶؍تک پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اضافہ کاروباری توقعات میں وسیع پیمانے پر مضبوطی کی نشاندہی کرتا ہے۔سی آئی آئی کے ڈائریکٹر جنرل چندرجیت بنرجی نے کہاکہ بی سی آئی میں کاروباری اداروں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی مثبت سوچ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستانی معیشت میں مضبوطی برقرار ہے۔ مضبوط طلب اور مستحکم وسیع تر معاشی اشاریوں کے سہارے کاروباری سرگرمیوں میں مسلسل بہتری اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ حکومت کی معاون پالیسیاں پیداوار اور نئے آرڈرس میں تیزی سے توسیع کی حمایت کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے:پونے: ایم پی ایس سی کی مبینہ بدعنوانی کیخلاف زبردست احتجاج
اس سروے میں مختلف شعبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والی ۲۴۰؍ سے زیادہ چھوٹی اور بڑی کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سروے کے نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ توقع سے بہتر مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے اعداد و شمار محض شماریاتی نتائج نہیں ہیں بلکہ زمینی سطح پر معاشی سرگرمیوں میں آنے والی تیزی کا حقیقی عکاس ہیں۔بنرجی نے کہاکہ صنعت کے نقطۂ نظر میں مثبت تبدیلی آئی ہے اور یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ جب کاروباری اعتماد، وسیع تر معاشی اشاریے اور زمینی سطح کی سرگرمیاں ایک ساتھ آگے بڑھتی ہیں تو یہ ایسی ترقی کی نشاندہی کرتے ہیں جو زیادہ وسیع، پائیدار اور طویل مدت تک جاری رہنے والی ہو۔