• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیٹرول کے بجائے متبادل ایندھن والی گاڑیوں کی فروخت بڑھی

Updated: September 08, 2026, 12:55 PM IST | Agency | New Delhi

ملک میں ایسا پہلی بار ہوا ہے، اگست ماہ میںمجموعی طور پر ۲۴؍ لاکھ ۲۳؍ ہزار۲۰۱؍ گاڑیاں فروخت ہوئیں جو سالانہ بنیاد پر۵۱ء۱۷؍ فیصد زیادہ ہیں۔

Electric vehicles have lower daily operating costs, which is why there is high demand for them. Picture: INN
الیکٹرک گاڑیوں میں روزانہ کی بنیاد پر خرچ کم ہے،اسلئے اس کی مانگ زیادہ ہے۔ تصویر: آئی این این

مسافر گاڑیوں کی خردہ مارکیٹ میں اگست کے دوران پہلی بار ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی، جب پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں متبادل ایندھن والی گاڑیوں کی فروخت زیادہ رہی۔ متبادل ایندھن والی گاڑیوں میں سی این جی، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیاں شامل ہیں۔گاڑی ڈیلروں کی تنظیم فَیڈا (ایف اے ڈی اے) نے پیر کو اگست کے دوران گاڑیوں کی خردہ فروخت کے اعداد و شمار جاری کیے۔ تنظیم کے مطابق اگست میں ملک بھر میں مجموعی طور پر ۲۴؍ لاکھ ۲۳؍ ہزار۲۰۱؍ گاڑیاں فروخت ہوئیں جو سالانہ بنیاد  پر۵۱ء۱۷؍ فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ کسی بھی سال کے اگست مہینے میں گاڑیوں کی فروخت کا نیا ریکارڈ بھی ہے۔تنظیم نے بتایا کہ مسافر گاڑیوں کی مجموعی فروخت۴؍ لاکھ ۲؍ ہزار۳۹۸؍ یونٹس رہی، جو اگست ۲۰۲۵ء کے مقابلے میں۱۶ء۱۴؍ فیصد زیادہ ہے۔

اس دوران خاص بات یہ رہی کہ مسافر گاڑیوں کی فروخت میں متبادل ایندھن والی گاڑیوں کا حصہ بڑھ کر ۹۵ء۴۱؍ ہوگیا جبکہ پیٹرول سے چلنے والی انجن والی گاڑیوں کا حصہ۸۵ء۴۰؍ فیصد رہا۔

یہ بھی پڑھئے: چین امریکہ کی اے آئی دوڑ قاہرہ تک پہنچ گئی، مصر کو اہم تزویراتی فیصلہ درپیش

اسی طرح دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت ۱۷؍ لاکھ ۱۴؍ ہزار ۶۱۰؍ یونٹس رہی، جس میں۶۹ء۱۹؍ فیصد کا اضافہ ہوا۔ تین پہیہ گاڑیوں کی فروخت۶۴ء۸؍ فیصد بڑھ کر ایک لاکھ ۲۲؍ ہزار۲۸۱؍ یونٹس اور تجارتی گاڑیوں کی فروخت۴۵ء۱۴؍ فیصد اضافے کے ساتھ۹۰؍ ہزار ۷۶۹؍ یونٹس ہوگئی۔

اس دوران ٹریکٹروں کی فروخت۸۷؍ ہزار ۹۷۷؍ یونٹس رہی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں ۶۴ء۸؍ فیصد زیادہ ہے۔ تعمیراتی آلات کی فروخت میں ۴۵ء۳۱؍ فیصد کا زبردست اضافہ ہوا اور یہ۵؍ ہزار ۱۶۶؍ یونٹس رہی۔ اس کے برعکس ماہانہ بنیاد پر رواں سال جولائی کے مقابلے میں اگست میں تمام زمروں میں فروخت میں کمی دیکھی گئی۔ مجموعی فروخت میں ماہ بہ ماہ ۴۸ء۶؍ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

فَیڈا کے صدر سائی گری دھر نے کہا کہ جولائی میں ریکارڈ فروخت کے مقابلے میں اگست میں۴۸ء۶؍ فیصد کمی آئی۔ اس کی وجہ مانسون کے دوران کاروباری سرگرمیوں میں سست روی اور تہواروں کے کیلنڈر میں تبدیلی تھی۔ گنیش چترتھی اور اونم کی خریداری ستمبر تک ملتوی ہوگئی۔ انہوں نے کہاکہ ’’اس ماہ کی سب سے اہم بات ایک بنیادی ساختی تبدیلی تھی۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں متبادل ایندھن نے پیٹرول کو پیچھے چھوڑ دیا۔‘‘فَیڈا کے صدر نے کہا کہ مانسون کی کمی کے باعث ٹریکٹروں کی فروخت مستحکم رہی، تاہم جولائی کے مقابلے میں اس میں۰۳ء۴۵؍ فیصد کی کمی آئی۔ اس کے باوجود دیہی علاقوں کے دیگر تمام زمروں نے شہری علاقوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اہم اجلاس، مختلف مـوضوع پر تعاون پر تبادلۂ خیال

امریکہ اور چین کے کلب میں ہندوستان کے بھی پہنچنے کی امید

امریکہ-ایران جنگ اور خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان، ہندوستان کیلئے ایک اچھی خبر بھی ہے۔ اس مالی سال میں پہلی بار ملک میں کاروں کی فروخت ۵۰؍ لاکھ یونٹس سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔ سالانہ کاروں کی فروخت میں اب تک صرف امریکہ اور چین ہی اس سطح تک پہنچے ہیں۔ ماہرین نے اس فروخت کا تخمینہ شہری اور دیہی دونوں بازاروں میں مسلسل مانگ کی بنیاد پر لگایا ہے۔

اپریل اور اگست کے درمیان ملک میں کاروں کی فروخت۲۲؍ فیصد بڑھ کر۲۰ء۵؍ لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی۔ یہ پچھلے پانچ برسوں میں سب سے تیز  فروخت ہے۔ کاروں کی فروخت میں اضافے نے ان خدشات کو غلط ثابت کیا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال طلب کو متاثر کرے گی۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ سال۲۲؍ ستمبر۲۰۲۵ء سے لاگو جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کے بعد کاروں کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ نہ صرف شہری بلکہ دیہی بازار بھی گاڑیوں کی خردہ فروخت کو آگے بڑھا رہے ہیں، مطلب یہ کہ ترقی  ہرطرف ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK