Inquilab Logo Happiest Places to Work

فورینسک رپورٹس فراہم کرنے میں تاخیر کے سبب بے شمار کیس زیرالتوا

Updated: April 21, 2026, 5:13 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ نے حکومت اور ریاستی فورینسک لیباریٹری سے۲۰۲۰ء سے رپورٹوں کو ترتیب دینے میں ہونے والی تاخیر، فورینسک کیسوں کی تعداد، افرادی قوت اور انفرا اسٹرکچر کی کمی و دیگر وجوہات کی تفصیلی رپورٹ طلب کی۔

Bombay High Court Building.Photo:INN
بامبےہائی کورٹ کی عمارت- تصویر:آئی این این
ممبئی اور مہاراشٹر میں مجرمانہ کیسوں کی تفتیش میں درکار فورینسک جانچ رپورٹ کے التوا کا شکار ہونے کے سبب ایک طرف جہاں ملزمین کو برسوں جیل کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑ رہی  ہیں وہیں قتل کے ایک ملزم کی جانب سے مذکورہ مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست کرنے والے ایک ملزم کی فراہم کردہ اطلاع پر بامبے ہائی کورٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ریاستی فورینسک لیباریٹری کو اس ضمن میں تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے ۔
 
 
بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کی سربراہی کرنے والے جسٹس شیوکمار دیگےکے روبرو قتل کے جرم میں گرفتار کئے گئے ملزم کے وکیل ستیاورت جوشی نے بتایا کہ ’’ میرا موکل۲؍ سال سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہا ہے لیکن اب تک اس کیس کے سلسلہ میں درکار سی سی ٹی وی کیمرہ کی فورینسک جانچ رپورٹ ترتیب نہیں دی گئی ہے ۔‘‘ وکیل نے درخواست گزارموہن شنکر ترڈے کو ضمانت پر رہا کرنے کی اپیل کرنے کے ساتھ ہی کئی کیسوں میں فورینسک جانچ رپورٹ کے التوا کا شکار ہونے کے سبب ملزمین کو برسوں قید و بند کی صعوبتیں براداشت کرنے کی اطلاع دی ۔ واضح ہو کہ مذکورہ کیس میں ملزم پر پونے کےکسور گاؤں میںکئی لوگوں کے ساتھ مل کر ایک شخص کو لوہے کی سلاخوں اور کلہاڑی سے متاثرہ پر حملہ کرنے اور بے رحمی سے قتل کرنے کا الزام ہے ۔وہیں ملزم اور اس کے ساتھیوں کے قتل میں ملوث ہونے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی کیمرہ جانچ نہ ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے وکیل استغاثہ ایم جی پاٹل نے بتایا کہ سابقہ کئی کیسوں کی فورینسک جانچ کے اب تک مکمل نہ ہونے اور فی الحال ۲۰۲۰ء کے کیسوں کی فورینسک جانچ جاری ہونے کے سبب مذکورہ کیس کی رپورٹ ترتیب دی نہیں جاسکی ہے۔وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئے کیسیز کی جانچ کے لئے فی الحال کوئی گنجائش باقی نہیں ہے ۔ اس پر دو رکنی بنچ نے حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ اگر فورینسک جانچ کرنے میں کوئی مسئلہ ہے تو اسے حل کرنے کی جانب اب تک کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا ؟۔کورٹ نےاس ضمن حکومت اور محکمہ داخلہ سے یہ جاننا چاہا کہ آیا اس مسئلہ کے حل کے لئے نئی فورینسک لیباریٹری بنانے پر غور کیا جارہا ہے یانہیں۔
 
 
دو رکنی بنچ نےمہاراشٹرکے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ریاستی فورینسک لیباریٹری کو اس ضمن میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ کورٹ نے کہا کہ ۲۸؍ اپریل تک فورینسک جانچ کے دوران افرادی قوت کی قلت، انفراسٹرکچر کی کمی ، لیباریٹری کی عدم دستیابی ، روزانہ کتنے کیس کی جانچ کی جاتی ہے اور اس طرح کی دیگر تفصیلات کے ساتھ حلف نامہ داخل کیا جائے ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK