• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

این ویڈیا کا ہندوستانی صنعتوں سے شراکت داری کا اعلان

Updated: February 19, 2026, 12:05 PM IST | Agency | New Delhi

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی ’اوپن اے ائی‘ نےبھی طلبہ میں اے آئی کے استعمال کیلئے متعدد تعلیمی اداروں کے ساتھ معاہدے کئے۔

Scenes From The Ongoing AI Summit In New Delhi. Tech Companies From All Over The World Are Participating In This Summit.Photo:INN
نئی دہلی میں جاری اے آئی سمٹ کا منظر۔اس سمٹ میں دنیا بھر کی ٹیک کمپنیاں شرکت کررہی ہیں۔ تصویر:آئی این این
نئی دہلی میں جاری ’اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء‘‘ میں  مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑی ٹیک کمپنیوں این وِیڈیا  اور اوپن اے آئی نے بدھ کو ہندوستانی صنعت اور تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا۔   این ویڈیا  وہ جی پی یو  بناتی ہے جن پر اے آئی ماڈل  چلتے ہیں جبکہ  اوپن اے آئی وہ کمپنی ہے جس نے  مقبول عام اے آئی پلیٹ فارم ’’چیٹ جی پی ٹی ‘‘ بنایا ہے۔  این ویڈیا   ۳؍ کمپنیوں یوٹا (جو ڈیٹا سینٹرس  چلاتی ہے)، ایل اینڈ ٹی  اور ای ٹو ای نیٹ ورکس  کے ساتھ کام کرے گی جبکہ  اوپن اے آئی نے مختلف یونیورسٹیوں  سے معاہدے  کئے  ہیں تاکہ’’طلبہ میں اے آئی کے استعمال کو مضبوط بنایا جا سکے۔‘‘
این ویڈیا کی۳؍ کمپنیوں سے شراکت داری
این ویڈیا  نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ہندوستان کی اے آئی کلاؤڈ انفرااسٹرکچر نہ صرف ورک لوڈز کو سنبھالے گی  بلکہ ماڈل ٹریننگ، فائن ٹیوننگ اور بڑے پیمانے پر انفیرنس کیلئے  انٹیلی جنس بھی تیار کرے گی۔‘‘ کمپنی نے بتایا کہ  ڈیٹا سینٹرس کی صلاحیت ماڈل بنانے والوں، اسٹارٹ اپس، محققین اور انٹرپرائزس کیلئے محفوظ رکھی جائے  گی تاکہ وہ  ہندوستان  میں ہی اے آئی  کوتیار کر سکیں،  بہتر بناسکیں اور استعمال کر سکیں۔ کمپنی اپنے    ہندوستانی شراکت داروں کو’ ’نیموٹرون‘‘ اور’’ نیمو‘‘  تک رسائی دے گی۔ ’نیموٹرون‘‘  کمپیوٹر کے لارج لیگویج ماڈلس (ایل ایل ایم ) کے اوپن سورس کا مرکز ہے   جبکہ ’نیمو‘ اے آئی ایجنٹس کومینج کرنے  والا سافٹ ویئر سوئٹ ہے۔’’ایل ایل ایم ‘‘  مصنوعی ذہانت کے ایسے نظام ہیں جو زبان کو انسانوں کی طرح سمجھنے اور جواب دینےکی صلاحیت  رکھتے ہیں۔یہ ماڈل اربوں الفاظ پر تربیت پاتے ہیں، اسی لیے انہیں’’بڑے‘‘ ماڈلس کہا جاتا ہے۔
 
 
اوپن اے آئی کا تعلیمی اداروں  سےمعاہدہ
اوپن اے آئی نے کئی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ان  میں آئی آئی ٹی دہلی، آئی آئی ایم احمد آباد، ایمس -نئی دہلی، منی پال اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن، یونیورسٹی آف پٹرولیم اینڈ انرجی اسٹڈیز اور پرل اکیڈمی شامل ہیں۔ اوپن اے آئی انڈیا کے ہیڈ آف ایجوکیشن راگھو گپتا نے بتایا کہ ’’جب اسکول اور یونیورسٹیاں اپنی بنیادی ڈھانچے میں اے آئی ٹولس، ٹریننگ اور ریسرچ کو شامل کرتی ہیں تو وہ طلبہ کو ایسے ہنر فراہم کر سکتی ہیں جو انہیں اے آئی کے دور میں کامیاب ہونے کے قابل بنائیں۔‘‘
 
 
اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ اس شراکت داری سے ایک لاکھ طلبہ اور عملہ فائدہ اٹھاسکے گا۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی نے بتایا کہ ’’کیمپس (تعلیمی اداروں ) کے باہر اور وسیع تر اسکلِنگ ایکوسسٹم تک اے آئی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے  اوپن اے آئی  فزکس والا، اپ گریڈ اور ایچ سی ایل گووی جیسے اہم ایڈ ٹیک پلیٹ فارمس کے ساتھ بھی تعاون کر رہی ہے۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK