• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت کا مستقبل چند ممالک کے ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے: انتونیو غطریس

Updated: February 19, 2026, 3:04 PM IST | New Delhi

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے جمعرات کو خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مستقبل چند ممالک کے ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے چند ارب پتی افراد کی خواہشات کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے۔

Antonio Guterres.Photo:PTI
انتونیو غطریس- تصویر:پی ٹی آئی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے جمعرات کو خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مستقبل چند ممالک کے ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے چند ارب پتی افراد کی خواہشات کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات نئی دہلی میں منعقدہ  انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انتونیو غطریس نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اے آئی عالمی عدم مساوات میں اضافہ کر سکتی ہے، تعصبات کو بڑھا سکتی ہے اور سنگین نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم، اگر اسے درست انداز میں بروئے کار لایا جائے تو یہ طب، تعلیم، غذائی تحفظ، موسمیاتی  تبدیلیوں کے تئیں اقدامات اور بنیادی عوامی خدمات تک رسائی میں انقلابی پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’وزیراعظم مودی، دعوت دینے کا شکریہ اور عالمی جنوب میں پہلے اے آئی سربراہی اجلاس کے انعقاد پر ہندوستان کی قیادت کو مبارکباد۔ ہندوستان میں ہونے والی یہ نشست خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ اے آئی تیزی سے سماج، معیشت اور طرز حکمرانی کو تبدیل کر رہی ہے، اس لیے اس کی ضابطہ بندی جامع اور عالمی نمائندگی کی حامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ’’اے آئی کا مستقبل چند ممالک کے ذریعے طے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے چند ارب پتی افراد کی من مانی پر چھوڑا جا سکتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ناقص انتظام عالمی عدم مساوات اور تعصب میں اضافہ کر سکتا ہے اور نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔غطریس نے عالمی سطح پر نگرانی اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے واضح ضوابط (گارڈ ریلز) قائم کرنے اور’’گلوبل فنڈ آن اے آئی‘‘ کے قیام پر زور دیا تاکہ بنیادی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے تین ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کی تجویز بھی پیش کی تاکہ تمام ممالک اے آئی سے فائدہ اٹھا سکیں، اور خبردار کیا کہ ایسی سرمایہ کاری نہ ہونے کی صورت میں بہت سے ممالک اے آئی کے عہد سے باہررہ جائیں گے، جس سے عالمی خلیج مزید وسیع ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان نے نیدرلینڈز کو ۱۷؍رن سے مات دی

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ۲۰۲۶ء سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں قومی لیڈروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی، جن میں  سیم آلٹمین (اوپن اے آئی)اورسندرپچائی (گوگل) شامل تھے، انہوں نے ٹیک کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ تین ارب ڈالر کے عالمی فنڈ میں حصہ دار بنیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’یہ کسی ایک ٹیک کمپنی کی سالانہ آمدنی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ سب کے فائدے کے لیے اے آئی کے فروغ کی یہ معمولی قیمت ہے، حتیٰ کہ ان کمپنیوں کے لیے بھی جو اے آئی تیار کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:عامر خان نے ’’او رومیو‘‘کی کہانی بدل دی ، ویلن کو مارنے کا پلان وشال نے بتا دیا

انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ جیسے جیسے اے آئی کی توانائی اور پانی کی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے، اخراجات کو کمزور طبقات پر منتقل کرنے کےبجائے ڈیٹا سینٹرز کوماحول دوست توانائی کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ اے آئی کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے-جو طب، تعلیم، غذائی تحفظ، موسمیاتی اقدامات اور عوامی خدمات تک رسائی میں پیش رفت کا باعث بن سکتی ہیں-غطریس نے کثیرجہتی تعاون اور مساوی رسائی پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ اس سربراہی اجلاس کا پیغام سادہ ہے: حقیقی اثر وہی ہے جو زندگیوں کو بہتر بنائے اور کرۂ ارض کا تحفظ کرے۔ آئیے ایسی اے آئی تعمیر کریں جو سب کے لیے ہو، اور جس کی بنیاد انسانی وقار ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK