Updated: May 12, 2026, 9:11 PM IST
| Jerusalem
نیویارک ٹائمز کے کالم نگار نکولس کرسٹوف نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی حراست کے دوران مبینہ طور پر جنسی تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں سابق قیدیوں کے بیانات اور انسانی حقوق کی تنظیموں و اقوام متحدہ کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیلی سکیوریٹی نظام پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
اسرائیلی حراستی مرکز۔ تصویر: آئی این این
نیویارک ٹائمز کے ایک کالم نگار نے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیل اہلکاروں، فوجیوں، قابض اہلکاروں اور تفتیش کاروں کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ سابق قیدیوں کے انٹرویوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کی بنیاد پر کیا۔ اتوار کو شائع ہونے والے اپنے کالم’’The Silence That Meets the Rape of Palestinians‘‘میں کالم نگار نکولس کرسٹوف نے لکھا کہ انہوں نے۱۴؍ فلسطینی مردوں اور خواتین سے بات کی، جنہوں نے حراست یا اسرائیلی افواج اور غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں کے دوران جنسی زیادتی اور دیگر بدسلوکی کے واقعات بیان کئے۔
کرسٹوف نے لکھا ’’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسرائیلی قیادت ریپ کے احکامات دیتی ہے۔ ‘‘ تاہم، ان کے مطابق اسرائیلی حکام نے ایسا سکیوریٹی نظام قائم کر دیا ہے جہاں جنسی تشدد معمول کا حصہ بن چکا ہے جس کیلئے انہوں نے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا۔ مضمون میں سابق قیدیوں کے بیانات شامل ہیں جنہوں نے جیلوں میں ریپ، تشدد، جنسی تشدد کی دھمکیوں اور تذلیل آمیز سلوک کے واقعات بیان کئے۔ کرسٹوف نے یورو-میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر، سیو دی چلڈرن، ’Tselem اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس سمیت مختلف تنظیموں کی رپورٹس کا حوالہ بھی دیا، جن میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور بدسلوکی کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز پر نئے ایرانی قواعد اور ٹول ٹیکس نافذ، آمدورفت کیلئے اجازت لازمی
انہوں نے گزشتہ سال شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ۴۹؍صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ کا بھی ذکر کیا جس میں اسرائیل پر فلسطینیوں کو ’’منظم انداز‘‘ میں ’’جنسی تشدد پر مبنی اذیت‘‘ دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ کالم نگار کے مطابق بعض سابق قیدیوں نے بتایا کہ رہائی کے بعد اسرائیلی حکام نے انہیں ان واقعات پر عوامی طور پر بات نہ کرنے کی تنبیہ کی تھی۔