آبی وسائل اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ریاستی وزیر گریش مہاجن کے متعلق سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض فوٹو پوسٹ کرکے اسے وائرل کرنے والے بھارت بالا جی مسکے نامی شخص کو جلگاؤں سائبر پولیس نے تکنیکی تحقیقات کی بنیاد پر گرفتار کرلیا اور جلد ہی اس کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔
ملزم بھرت بالاجی مہاسکے۔ تصویر: آئی این این
آبی وسائل اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ریاستی وزیر گریش مہاجن کے متعلق سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض فوٹو پوسٹ کرکے اسے وائرل کرنے والے بھارت بالا جی مسکے نامی شخص کو جلگاؤں سائبر پولیس نے تکنیکی تحقیقات کی بنیاد پر گرفتار کرلیا اور جلد ہی اس کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔ اس اقدام سے سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرنے والوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر پر عوام کا سیلاب، آج مارچ، دہلی پولیس کے تیور سخت
اس معاملے میں جلگاؤں میونسپل کارپوریشن کے کارپوریٹر اروند بھگوان دیشمکھ نے۱۹؍ جون ۲۰۲۶ءکو سائبر پولیس اسٹیشن جلگاؤں میں شکایت درج کرائی تھی جس کے مطابق ملزم بھرت بالا جی مسکے نے وزیر گریش مہاجن کی تصویر کو ایک لڑکی کے استعمال کرتے ہوئے ایک قابل اعتراض پوسٹ شیئر کی تھی۔ اس شکایت کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے سائبر پولیس نے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس کے بعد جلگاؤں کے پولیس سپرنٹنڈنٹ شری کانت دھیوارے نے معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور جانچ میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ ان کی رہنمائی میں پولیس کی ایک خصوصی ٹیم نے تقریباً ایک ماہ تک مسلسل تکنیکی تحقیقات، ڈیجیٹل تجزیہ اور مختلف الیکٹرانک شواہد کا مطالعہ کرتے ہوئے ملزم کی تلاش جاری رکھی۔انتہائی صبر و تحمل، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے سائبر پولیس بالآخر ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔تفتیش کے دوران ملزم بھرت بالاجی مہاسکے (۳۴) کے ٹھکانے کا پتہ چلا۔ پولیس نے اسے اندا پور ضلع پونے سے حراست میں لیا۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ دوران تفتیش ملزم نے متعلقہ پوسٹ کا اعتراف کیا۔ پولیس نے جرم میں استعمال ہونے والا موبائل فون بھی ضبط کرلیا ہے ۔اس دوران قابل اعتراض پوسٹ کو سوشل میڈیا سے پہلے ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا اور ملزم کا فیس بک اکاؤنٹ جس کے تقریباً ۶؍ ہزار فالوورز ہیں، مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔