حکم امتناعی نافذ، ۵؍ سے زیادہ کے اکٹھا ہونے پر پابندی، دہلی پولیس نے خلاف ورزی کی صورت میں سخت ایکشن کی وارننگ دی مگرملک بھر سے پہنچنے والے مظاہرین پُرعزم، نوجوانوں کی اکثریت۔
EPAPER
Updated: July 20, 2026, 9:57 AM IST | Fuzail Ahmed / Agency
حکم امتناعی نافذ، ۵؍ سے زیادہ کے اکٹھا ہونے پر پابندی، دہلی پولیس نے خلاف ورزی کی صورت میں سخت ایکشن کی وارننگ دی مگرملک بھر سے پہنچنے والے مظاہرین پُرعزم، نوجوانوں کی اکثریت۔
پرچہ لیک ، امتحانی بے ضابطگیوں اور نظام تعلیم کی بربادی کے خلاف وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کےا ستعفیٰ کی مانگ کے ساتھ جنتر منتر پر جاری احتجاج میں سنیچر اور اتوار کو امڈنے والی بھیڑ نے حکومت کے ہوش اُڑادیئے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ عوام کے اس جوش وخروش کو ٹھنڈا کرنے کیلئے حکومت دہلی پولیس کو کسی سخت کارروائی کی ہدایت دے سکتی ہے۔ یہ اندیشہ پہلے ہی ظاہر کیا جارہاہے کہ کسی بھی وقت جنتر منتر پر کریک ڈاؤن کر کے اسے خالی کروایا جا سکتاہے۔ اسی بنا پر اتوار کو صبح سے ہی اسٹیج سے اپیل کی جارہی ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں مظاہرہ گاہ پہنچنیں تاکہ جم غفیر کو دیکھتے ہوئے پولیس کسی سخت کارروائی سے گریز کرے۔
ملک بھر سے مظاہرین پہنچ رہے ہیں
’’شب خون‘‘ا ور ’’یرغمال‘‘ کرنے جیسی کارروائی میں سونم وانگ چک کو اسپتال منتقل کرنے کے بعد حکومتی سطح پر سمجھا جارہاتھا کہ جنتر منتر پر بھیڑ کم ہوجائےگی مگر حکومت کا یہ داؤ الٹا پڑ گیا اور سنیچر کو اتنی بڑی تعداد میں مظاہرین جنتر منتر پہنچے کہ وہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے سنیچرا ور اتوار کی درمیانی شب کھلے آسمان کے نیچے گزاری اور اتوار کو بھی مختلف ریاستوں سے مظاہرین کی بڑی تعداد جوق در جوق مظاہرہ گاہ پہنچتی رہی۔ اس بھیڑ میں نوجوانوں کی اکثریت ہے مگر معمرمردو خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال پر مغربی میڈیا کی نظریں، تعلیمی بحران پر نئی بحث
احتجاجی کارکن اپنے مطالبات کے حق میں ڈٹے ہوئے ہیں، جبکہ مختلف سماجی و سیاسی شخصیات کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ابھیجیت دپکے نے اتوار کو بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ ’’مطالبات کی منظوری تک انشن اور دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ وانگ چک کو زبردستی ہٹانے کے بعد خود دپکے بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔ اتوار کو ان کی بھوک ہڑتال کا دوسرا دن تھا۔
مجوزہ مارچ کے خلاف دہلی پولیس کا سخت انتباہ
دوسری جانب دہلی پولیس نے۲۰؍ جولائی کے مجوزہ ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کی اجازت نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن سیکوریٹی کے غیر معمولی انتظامات نافذ ہوں گے، اس لیے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پولیس نے وضاحت کی ہے کہ مارچ کیلئے اجازت طلب نہیں کی گئی اور مانگی گئی ہوتی تب بھی نہیں دی جاتی۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ بغیر اجازت مارچ کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ سنیچر کی شب دہلی کے مختلف علاقوں میں پولیس نے دفعہ ۱۶۳(سابقہ دفعہ ۱۴۴) نافذ کردی ہے جس کے تحت ۵؍ سے زیادہ افراد کا اکٹھا ہونا غیر قانونی ہے۔ دوسری طرف کاکروچ جنتا پارٹی اوراس کے لیڈر پارلیمنٹ کی طرف مارچ کے اعلان پر اٹل ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پروگرام منسوخ نہیں ہوگا پارلیمنٹ مارچ کی کوشش کی جائےگی۔
سونم وانگ چک بھوک ہڑتال ختم کرنے کو تیار
اتوار کو سونم وانگ چک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے بتایا کہ سونم بھوک ہڑتال ختم کرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ سیاسی لیڈران اسپتال میں ان سے ملاقات کر کے یقین دہانی کرائیں کہ وہ تعلیمی نظام میں جوابدہی کا معاملہ پیر سے شروع ہونے پارلیمانی اجلاس میں اٹھائیں گے۔ جنتر منتر پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے گیتانجلی نے بتایا کہ ’’وانگ چک نے پیغام دیا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں اس معاملے کو اٹھانے کا عہد کریں تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔‘‘واضح رہے کہ اتوار کو ان کی بھوک ہڑتال کا ۲۲؍واں دن تھا مگر حکومت نے ان سے گفتگو کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
حکومت کے اس رویہ کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنی امیدیں اب اپوزیشن پارٹیوں سے وابستہ کرلی ہیں۔ گیتانجلی نے سونم کا پیغام سناتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر سیاسی لیڈر اسپتال میں سونم سے ملاقات کریں اور یقین دلائیں کہ وہ مانسون اجلاس میں تعلیمی جوابدہی کا معاملہ اٹھائیں گے تو وہ کل اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ’’چلو سنسد‘‘ مارچ سے قبل وانگ چک کا پیغام مظاہرین کو سناتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ امن اور نظم و ضبط برقرار رکھیں۔گیتانجلی نے کہاکہ’’سونم نے ہم سب سے درخواست کی ہے کہ پیر کا مارچ پرامن طریقے سے نکالا جائے اور اس احتجاج کا کوئی غلط استعمال نہ ہونے دیا جائے۔‘‘
سونم کی اسپتال منتقلی پر ہائی کورٹ کی مہر، اہلیہ کی اپیل مسترد
نئی دہلی (ایجنسی): دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگ چک کو جنتر منتر سے جبراً اٹھاکر صفدر جنگ اسپتال منتقل کرنے کے حکومت کے فیصلے پر اتوار کو خصوصی شنوائی میں مہر لگا دی۔عدالت سونم کی اہلیہ گیتانجلی کی پٹیشن پر ہنگامی سماعت کر رہی تھی جس میں انہوں نے اپنے شوہر کی جبری اسپتال منتقلی پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں صفدر جنگ اسپتال سے اپنی پسند کے نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ کورٹ نے کہا کہ اس مرحلے پر ایسا حکم دینا مناسب نہیں ہوگا۔ عدالت نے ساتھ ہی کہا کہ حکومت کی جانب سے سونم وانگ چک کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ من مانی کارروائی نہیں کہا جا سکتا۔
جسٹس منی پشکرنا نے نجلی اسپتال میں منتقلی کی اجازت کیلئے داخل کی گئی سماعت کے دوران کہا کہ کورٹ کو’’وسیع تر صورتحال‘‘ کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ عدالت نے ’’ہر جان قیمتی ہے‘‘کہتے ہوئے حکومت کی اس دلیل کو تسلیم کیا کہ سونم وانگ چک حراست میں نہیں ہیں اور ان کی اہلیہ، بھائی اور بہنوئی کو ان سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔ عدالت نے حکومت کی اس اطلاع کو بھی ریکارڈ پر لیا کہ ان کے اہل خانہ کو الگ کمرہ فراہم کیا گیا ہے جہاں وہ ان کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں۔جج نے کہاکہ’’ان حالات کو دیکھتے ہوئے اس مرحلے پر کسی عبوری حکم کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
اپنی درخواست میں گیتانجلی انگمو نے کہاتھا کہ انہیں سرکاری اسپتال میں علاج پر ‘‘اعتماد نہیں‘‘، وہ چاہتی ہیں کہ شوہر کی حالت مزید بگڑنے سے پہلے انہیں اپنی پسند کے نجی اسپتال منتقل کریں۔ ان کے وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ وانگ چک کے ذاتی ڈاکٹروں اور وکلا کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کا کیا علاج ہورہاہے اور کون سی دوا دی جارہی ہے۔ گیتانجلی نے شکایت کی کہ اسپتال میں پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی کی وجہ سے خاندان کی نقل و حرکت بھی محدود ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’جس منزلہ پر وانگ چک کو رکھاگیا ہے اس پر تقریباً۳۰؍ اور پورے اسپتال میں۱۰۰؍ سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات ہیںجس سے ہماری آمد و رفت شدید متاثر ہے۔ یہ طبی نگہداشت نہیں غیر قانونی حراست ہے۔ کسی بھی خاندان کو یہ فیصلہ کرنے کیلئے نظام سے لڑنے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے کہ اس کے عزیز کا علاج کہاں ہوگا۔‘‘تاہم کورٹ نے سرکاری موقف کی تائید کی اور اپنے حکم میں کہاکہ’’عدالت کی رائے ہے کہ حکومت نے وانگ چک کی طبی حالت کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، جسے من مانا اقدام نہیں کہا جا سکتا۔‘‘ ہائی کورٹ نے کہاکہ’’یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وانگ چک پر کسی قسم کا جبر کیا جا رہا ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی کورٹ نے منگل کو اس معاملے کی اگلی شنوائی کافیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: مولانا ارشد مدنی نے مسلمانوں کو نفرت کی آگ کو محبت سے بجھانے کی تلقین کی
اسپتال سے سونم کا پیغام، آزادی کی دوسری لڑائی قرار دیا
نئی دہلی (ایجنسی):صفدر جنگ اسپتال منتقل کئے جانے کےبعد عوام کے نام اپنے پہلے پیغام میں سونم وانگ چک نے عوام سے پیر۲۰؍جولائی کو پارلیمنٹ مارچ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے اوراسے ’’دوسری جنگ آزادی‘‘ قرار دیا ہے۔’’صفدر جنگ میں غیر قانونی حراست سے گیتانجلی کے ذریعہ‘‘ انہوں نے ہاتھ سے لکھا جونوٹ بھیجا ہے اس میں ہندی اور انگریزی میں یہ مختصر پیغام ہے کہ ’’ ۲۰؍ جولائی، آزادی کا دوسرا آندولن، خوف سے آزاد بھارت، نفرت سے آزاد بھارت۔‘‘سونم وانگ چک نے مذکورہ نوٹ میں حالانکہ خود کو ’’غیرقانونی حراست میں‘‘ قرار دیا ہے مگر اتوار کو ہائی کورٹ نے اس کی تردید کی۔
آئیسا کے کیمپ کے قریب پولیس کی بھاری نفری
نئی دہلی (ایجنسی): اتوار کی شام کاکروچ جنتاپارٹی کی جانب سے ایک ہنگامی پیغام میںبتایا گیا ہے کہ جنتر منتر پر بائیں محاذ کی طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا) کے کیمپ کے قریب پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پیغام میں تمام کارکنوں کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے کی ہدایت دی گئی۔ اس اطلاع کے بعد مظاہرہ گاہ میںکشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا اور مزید کارکن جنتر منتر پہنچنے لگے۔ اگرچہ خبر لکھے جانے تک پولیس اور مظاہرین کے درمیان کسی بڑے تصادم کی اطلاع نہیں ملی، تاہم پورے علاقے میں سیکوریٹی سخت کر دی گئی ہے اور اضافی پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ سیاسی حلقوں کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ پولیس کی پابندی کے باوجود احتجاجی کارکن اپنے اعلان کے مطابق مارچ نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: وانگ چک کی جبری اسپتال منتقلی پر اپوزیشن حملہ آور
شبانہ اعظمی، پرکاش راج، منیش سیسودیا، چندر شیکھر اور مہوا موئترا جنتر منتر پہنچیں
نئی دہلی (آئی این این ): اتوار کو کئی اہم شخصیات نے جنتر منتر پر پہنچ کر ملک کے نوجوانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان میں اداکارہ اور سماجی کارکن شبانہ اعظمی، جنوبی ہند کے مقبول اداکار اور اپنی حق بیانی کیلئے مشہور پرکاش راج، رکن پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد، عام آدمی پارٹی کے لیڈر منیش سیسودیا اور ٹی ایم سی لیڈر مہوا موئترا شامل ہیں۔ پرکاش راج نے مظاہرہ گاہ سے اپنا ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ملک کے نوجوان سوال پوچھ رہے ہیں۔‘‘ شبانہ اعظمی نے ابھیجیت دپکے اور دیگر کارکنوں سے ملاقات کرنے کے بعد کہا کہ وہ نوجوانوں کی حمایت کیلئے آئی ہیں۔ منیش سیسودیا نے مظاہرہ گاہ کے حالات کی عکاسی کی اورکہا کہ ’’میں نے جنترمنتر پر صرف عوام کا غصہ نہیں دیکھا بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہندوستان کو دیکھا جہاں لوگ خود گرمی کو جھیل کر دوسروں کو پنکھا جھل رہے ہیں۔‘‘ چندر شیکھرآزاد رات ۲؍ بجے ہی مظاہرہ گاہ پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اندیشہ تھا کہ پولیس رات میں کوئی کارروائی کرسکتی ہے اس لئے ممبئی میں طے شدہ پروگرام میں شرکت کے بعد وہ ایئر پورٹ سے براہ راست جنتر منتر پہنچ گئے۔