ایک مطالعے کے مطابق عیسائیوں کی آبادی گزشتہ سو سال میں۲۵؍فیصد سے گھٹ کرایک اعشاریہ۵۶؍ فیصد رہ گئی،یروشلم انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے عرب عیسائی موجودگی، چرچ کی جائیداد اور مذہبی رسومات کو نشانہ بنانے والی پالیسیوں سے خبردار کیا ہے۔
EPAPER
Updated: November 07, 2026, 10:01 AM IST | Jerusalem
ایک مطالعے کے مطابق عیسائیوں کی آبادی گزشتہ سو سال میں۲۵؍فیصد سے گھٹ کرایک اعشاریہ۵۶؍ فیصد رہ گئی،یروشلم انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے عرب عیسائی موجودگی، چرچ کی جائیداد اور مذہبی رسومات کو نشانہ بنانے والی پالیسیوں سے خبردار کیا ہے۔
یروشلم انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک مطالعہ کے مطابق، مقبوضہ یروشلم میں عیسائیوں کا حصہ۱۹۲۲ء میں آبادی کے۲۵؍ فیصد سے گھٹ کر۲۰۲۳ء کے آخر تک تقریباً ایک اعشاریہ ۵۶؍فیصد رہ گیا ہے۔مطالعہ میں کہا گیا کہ۲۰۲۳ء کے آخر تک شہر میں تقریباً۱۵۳۰۰؍ عیسائی تھے، جن میں تقریباً۱۳۱۰۰؍ فلسطینی شامل تھے۔اس نے کمی کو اسرائیلی پالیسیوں، معاشی اور سماجی دباؤ، مسلسل ہجرت، اور آبادی میں کم اضافے سے منسوب کیا۔مطالعہ میں کہا گیا کہ یروشلم میں فلسطینیوں کو متاثر کرنے والی اسرائیلی رہائشی پالیسیاں، بشمول ’’مرکز زندگی‘‘کے معیار کے تحت رہائشی پرمٹ کی منسوخی، نے بھی شہر میں فلسطینی موجودگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی انتخابات میں ۲۳۴؍ سے زائد حامی امیدوار کامیاب: یہودی تنظیم کا دعویٰ
علاوہ ازیں اس نے چرچ کے اوقاف اور جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوششوں بشمول طویل مدتی لیز اور مالی دباؤ کے ذریعے، کو بھی دستاویزی شکل دی، جس کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اوقاف کی زمین کا تقریباً۲۸؍ فیصد ہے۔رپورٹ میں مزید عیسائی پادریوں، راہبوں اور عبادت گزاروں پر حملوں کا حوالہ دیا گیا، بشمول جسمانی اور زبانی حملے، تھوکنا، اور جائیداد، قبرستانوں اور مذہبی علامتوں کو نقصان پہنچانا۔اس کے علاوہ مطالعہ نے چرچ آف دی ہولی سیپولکر تک رسائی پر اسرائیلی پابندیوں اور مذہبی تقریبات میں شرکت پر حدود کی طرف بھی اشارہ کیا، بشمول ہولی سیٹرڈے اور ایسٹر کی تقریبات۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں۶۸؍ ملین ٹن ملبہ ماحولیاتی، انسانی تباہی کا باعث ہے: فلسطینی اتھاریٹی
بعد ازاں اس نے خبردار کیا کہ ایسی پالیسیاں یروشلم کے عرب اور تکثیری کردار کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور عیسائی مقدس مقامات، چرچ کی جائیداد اور فلسطینی عیسائی موجودگی کے تحفظ کے لیے مضبوط قانونی اور سفارتی کوششوں کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ یہ پیش رفت اکتوبر۲۰۲۳ء سے مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں وسیع تر اسرائیلی فوجی حملوں اور غیر قانونی یہودی قابضین کے تشدد کے درمیان ہوئی ہے۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، اس عرصے کے دوران ۱۲۲۰؍ سے زیادہ فلسطینی ہلاک، تقریباً ۱۳۳۵۰؍زخمی اور۲۶۰۰۰؍ سے زیادہ گرفتار ہوئے ہیں۔