Updated: November 06, 2026, 9:04 PM IST
| Washington
امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) نے دعویٰ کیا ہے کہ ۲۰۲۶ء کے وسط مدتی انتخابات میں اس کے ارکان کی حمایت یافتہ ۲۳۴؍ سے زیادہ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ تنظیم نے ڈیموکریٹک لیڈروں چک شومر اور حکیم جیفریز کو بھی مبارک باد دی ہے، جن کے نئے کانگریس میں بالترتیب سینیٹ میں اکثریتی رہنما اور ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر بننے کے امکانات زیرِ بحث ہیں۔
امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) نے ۴؍ نومبر کو ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس کے ارکان کی حمایت یافتہ ۲۳۴؍ سے زیادہ امیدوار اپنی انتخابی نشستیں جیت چکے ہیں، جبکہ کئی دیگر حلقوں میں ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان ابھی باقی تھا۔ تنظیم نے واضح کیا کہ کامیاب امیدواروں میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔ اس نے اپنے بیان میں امریکی سیاست میں اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات کی حمایت کرنے والے امیدواروں کی کامیابی کو سراہا اور آئندہ انتخابی مراحل میں اپنی سیاسی سرگرمیاں مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اے آئی پی اے سی نے خصوصی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے دو اہم لیڈروں، چک شومر (Chuck Schumer) اور حکیم جیفریز (Hakeem Jeffries) کو مبارک باد دی۔ شومر اس وقت سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ہیں، جبکہ جیفریز ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی قیادت کرتے ہیں۔ ۳؍ نومبر کے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کی ہے۔ اس کے بعد توقع ہے کہ جنوری ۲۰۲۷ء میں نئی کانگریس کے حلف اٹھانے پر جیفریز ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر اور شومر سینیٹ کے اکثریتی رہنما بن سکتے ہیں۔ تاہم دونوں عہدوں کے لیے متعلقہ ایوانوں میں جماعتی انتخابی عمل مکمل ہونا ابھی باقی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی وسط مدتی انتخاب میں صبا حیدر نے بھی کامیابی کا پرچم لہرایا، بلند شہر میں ان کے گھر جشن
اے آئی پی اے سی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کے ارکان آئندہ انتخابی مراحل میں بھی دونوں سیاسی جماعتوں کے ایسے امیدواروں کی حمایت جاری رکھیں گے جو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مضبوط شراکت داری کے حامی ہیں۔ تنظیم کے مطابق یہ تعلق دونوں ملکوں کی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام، جمہوری اقدار، تجارت اور جدت کے فروغ کے لیے اہم ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم اپنی سیاسی سرگرمیوں کو صرف کسی ایک جماعت تک محدود رکھنے کے بجائے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں میں اپنے حامیوں کی حمایت بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم اے آئی پی اے سی کے ۲۳۴؍ سے زیادہ کامیاب امیدواروں کے دعوے کو سمجھنے کے لیے اس کے بیان کے الفاظ پر توجہ دینا ضروری ہے۔ تنظیم نے یہ نہیں کہا کہ اس نے خود براہِ راست ان تمام امیدواروں کی انتخابی مہم چلائی یا انہیں باضابطہ طور پر نامزد کیا تھا، بلکہ اس نے انہیں ایسے امیدوار قرار دیا جنہیں اس کے ارکان کی حمایت حاصل تھی۔ بیان میں کامیاب امیدواروں کی مکمل فہرست یا ڈیموکریٹک اور ریپبلکن امیدواروں کی الگ الگ تعداد بھی فراہم نہیں کی گئی۔
خیال رہے کہ امریکی سیاست میں اے آئی پی اے سی ایک اہم حامی اسرائیل لابی تنظیم سمجھی جاتی ہے، جو کانگریس کے ارکان اور انتخابی امیدواروں کے ساتھ رابطوں، سیاسی مہمات اور فنڈ ریزنگ کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو مضبوط رکھنے کی حمایت کرتی ہے۔ اس کی انتخابی سرگرمیوں میں اس کے اپنے پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (PAC) کے علاوہ اس سے وابستہ سپر پولیٹیکل ایکشن کمیٹی ’یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ‘ (UDP) بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سپر پی اے سی انتخابی مہمات پر آزادانہ طور پر بڑی رقم خرچ کرسکتی ہے، تاہم اسے امیدواروں کی مہم کے ساتھ براہِ راست رابطہ کرکے اخراجات مربوط کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ انتخابی نتائج کے بعد تنظیم کی کامیابیوں کے دعوے کے ساتھ اس کے سیاسی اخراجات اور بعض اہم مقابلوں میں ناکامیوں پر بھی بحث جاری ہے۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اے آئی پی اے سی کے سپر پی اے سی، یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ اور دیگر متعلقہ سیاسی کمیٹیوں نے انتخابی مقابلوں میں مجموعی طور پر ۱ء۸۴؍ ملین ڈالر خرچ کیے، جن میں سے ۳ء۵۵؍ ملین ڈالر ایسے حلقوں میں صرف ہوئے جہاں ان کے پسندیدہ امیدوار کامیاب نہیں ہوسکے۔ یہ اعداد و شمار تنظیم کے ۲۳۴؍ کامیاب امیدواروں کے دعوے کے ساتھ ایک مختلف تصویر بھی پیش کرتے ہیں: امیدواروں کی مجموعی کامیابیوں کے باوجود بعض مہنگی اور نمایاں انتخابی مہمات مطلوبہ نتیجہ نہیں دے سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: جشن فتح میں الہان عمر کا صومالی خواتین کیساتھ روایتی رقص
مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید (Abdul El-Sayed) نے ریپبلکن مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیتی۔ السید اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کی غیر مشروط حمایت کے ناقد رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اے آئی پی اے سی اور اس سے وابستہ حلقوں نے ڈیموکریٹک امیدوار ہیلی اسٹیونز کی حمایت کی تھی، جو پہلے ہی پارٹی کے اندرونی انتخاب میں السید سے ہار گئی تھیں۔ مین ریاست میں بھی ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دی۔ یہ دونوں مقابلے اس لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں کہ ان میں اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی اور فوجی امداد کے معاملے پر امیدواروں کے مؤقف انتخابی بحث کا حصہ بنے۔ اے آئی پی اے سی کو اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اور انتخابی سیاست میں اس کے کردار پر مختلف حلقوں کی تنقید کا بھی سامنا رہا ہے۔ بعض ترقی پسند ڈیموکریٹس اور فلسطینی حقوق کے حامی سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے فوجی امداد اور سیاسی حمایت کے معاملے میں امریکی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب اے آئی پی اے سی اور اس کے حامی امریکہ اور اسرائیل کے قریبی تعلقات کو دونوں ملکوں کے مفاد میں قرار دیتے ہیں۔ اس اختلاف کے باوجود تنظیم نے انتخابی نتائج کے بعد اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی دونوں جماعتوں کے ایسے امیدواروں کی حمایت کے لیے سرگرم رہے گی جو اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات کے حامی ہوں۔