مرکزی وزیر للن سنگھ کے بیان پر راہل گاندھی کا شدید ردعمل، اپوزیشن کے دیگر لیڈروں نے بھی آواز بلند کی، شناختی کارڈ کی تبدیلی کو غریب شہریوں کیخلاف منصوبہ بند سازش قرار دیا۔
EPAPER
Updated: November 07, 2026, 10:00 AM IST | Agency | Mumbai
مرکزی وزیر للن سنگھ کے بیان پر راہل گاندھی کا شدید ردعمل، اپوزیشن کے دیگر لیڈروں نے بھی آواز بلند کی، شناختی کارڈ کی تبدیلی کو غریب شہریوں کیخلاف منصوبہ بند سازش قرار دیا۔
مرکزی حکومت کی جانب سے فلاحی اسکیموں کے تحت مستفیدین کو رقم کی ادائیگی اور ان کی شناخت کے لئے آدھار کارڈ کی جگہ ووٹر شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) اور بایومیٹرک تصدیق کو بنیاد بنانے سے متعلق مرکزی وزیر برائے پنچایتی راج راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ کے بیان نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس تجویز پر کانگریس نے سخت تشویش ظاہر کی ہے جبکہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اسے ایک گہری سازش قرار دیا۔ اپوزیشن کا اندیشہ ہے کہ اگر سرکاری اسکیموں کا فائدہ ووٹر لسٹ میں نام موجود ہونے سے مشروط کردیا گیا تو ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے خارج کیے جانے والے لاکھوں افراد راشن، پنشن، رہائش، منریگا اور دیگر مراعات سےمحروم ہو سکتے ہیں۔
للن سنگھ نے کیا کہا تھا ؟
یاد رہے کہ مرکزی وزیر للن سنگھ نے گزشتہ ہفتے پنچایتی راج کی وزارت کے زیر اہتمام منعقدہ قومی ورکشاپ میں کہا تھا کہ اب مستفیدین کو ادائیگی کے لئے آدھار کارڈ بنیادی شناخت نہیں رہے گا بلکہ بایومیٹرک تصدیق کے ساتھ ووٹر شناختی کارڈ کے ایپک نمبر کو استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے آدھار جاری کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے تھے تاہم انہوںنے یہ واضح نہیں کیا تھاکہ یہ تبدیلی کن کن اسکیموں پر نافذ ہوگی اور اس کا دائرہ صرف پنچایتی راج کی وزارت کی اسکیموں تک محدود رہے گا یا دیگر مرکزی فلاحی منصوبے بھی اس کے تحت آئیں گے۔لیکن انکا مذکورہ بیان موضوع بحث بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:حوثیوں کا سعودی عرب پر حملے روکنے کیلئے ۵۱؍ ارب ڈالر اور حکومت تسلیم کیے جانے کا مطالبہ
راہل گاندھی کا ردعمل
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ مودی حکومت کے وزیر کا یہ اعلان ایک گہری سازش ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ایس آئی آر کے نام پر کروڑوں افراد کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کئے جا رہے ہیں اور اگر اس عمل کو نہیں روکا گیا تو آنے والے وقت میں مزید لوگوں کے نام فہرست سے نکالے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کا سب سے زیادہ اثر ان لوگوں پر پڑے گا جو بی جے پی کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ ایک غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے زیر انتظام ہونی چا ہئے، لیکن یہ مودی حکومت کے ملازم چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کنٹرول میں ہے۔ راہل گاندھی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی ووٹر لسٹ تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں بی جے پی کی اکثریت برقرار رہے اور مستقبل میں اسی فہرست کو سرکاری اسکیموں کے فوائد دینے یا روکنے کیلئے استعمال کیا جائے۔
حکومت اپنے شہری منتخب کرے گی !
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ کل جس نے بھی بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کا عزم کیا ہے، اس کا نام چن چن کر ووٹر لسٹ سے کاٹا جا سکتا ہے۔ نام کٹا تو ووٹ گیا اور ووٹ گیا تو شہری ہونے کے حقوق بھی خطرے میں پڑ جائیں گے۔ اس طرح عام شہری غیرضروری ہو جائے گا۔ یہاں عوام اپنی حکومت منتخب نہیں کریں گے بلکہ حکومت اپنے شہری منتخب کرے گی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ووٹ دینا شہری کا حق ہے، کوئی شرط نہیں اور کسی غریب کی پنشن کو اس کے ووٹر کارڈ کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی لئے میں کہہ رہاہوں کہ ووٹ چوری تو صرف ٹریلر ہے ، اصل فلم تو حقوق کی چوری ہے جسے ریلیز ہونے سے روکنا ہے۔
سی پی ایم نے کیا کہا ؟
سی پی ایم کے پولٹ بیورو نے بایومیٹرک تصدیق کے نظام کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کی وجہ سے پہلے بھی بڑی تعداد میں مستحق افراد سرکاری اسکیموں سے محروم ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق دیہی علاقوں میں زرعی مزدوروں کے فنگر پرنٹس مسلسل محنت اور جسمانی مشقت کے باعث گھس جاتے ہیں جس کی وجہ سے مشینیں ان کی شناخت نہیں کرپاتیں۔ اسی طرح عمر رسیدہ خواتین کی آنکھوں کی پتلیوں کی شناخت میں دشواری کے باعث انہیں بھی کئی مرتبہ سرکاری فوائد حاصل کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پرینکا چترویدی کا بیان
شیو سینا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کا مطلب صرف کسی شخص کے ووٹ دینے کا حق چھیننا نہیں ہوگا بلکہ اس کی شہری حیثیت اور سرکاری مراعات تک رسائی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے سوال پوچھا کہ آخر سرکار کیا کرنا چاہتی ہے؟ملک میں پہلے ہی غریبی آسمان پر ہے، ایسے میںسرکار مزیدافراد کو غربت میں ڈھکیلنا چاہتی ہے۔