Updated: August 10, 2026, 2:09 PM IST
| Jerusalem
مقبوضہ مغربی کنارہ میں غیر قانونی یہودی آبادکاروں نے نئے علاقوں پر قبضہ کرنا اور غیر قانونی بستی بسانا شروع کردیا ہے، یہ غیر قانونی آباد کار جمعہ کو ’’عمق دوتان‘‘ میں منتقل ہوئے، جو جنین کے قریب فلسطینی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے، یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں ۱۹ ؍نئی غیر قانونی بستیوں کے قیام کے منصوبے کا حصہ ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیر ایک غیر قانونی یہودی بستی۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے اتوار کو نو تشکیل شدہ غیر قانونی بستی’’عمق دوتان‘‘ میں نقل مکانی شروع کی۔یہ غیر قانونی بستی مقبوضہ شمالی مغربی کنارے کے شہر جنین کے مغرب میں واقع قصبہ عرابہ کی فلسطینی زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔چینل ۷؍ کی رپورٹ کے مطابق، سامان لے جانے والے ٹرک جائے وقوع پر پہنچے اور بستی کے بانی گروپ سے تعلق رکھنے والے پہلے غیر قانونی آباد کار خاندان وہاں تعمیر شدہ عمارتوں میں منتقل ہو گئے۔ واضح رہے کہ یہ نقل مکانی اتوار کو منعقد ہونے والی باضابطہ افتتاحی تقریب سے قبل کی گئی ہے، جس میں اسرائیلی کابینہ کے وزراء، کنیسٹ کے ارکان اور دیگر عوامی شخصیات کے شرکت کرنے کی توقع ہے۔متوقع شرکاء میں وزیر تعلیم یوآو کیش، سلامتی کابینہ کے وزیر زیو ایلکن، کنیست کی رکن کیتی شطریت، بوآز بسمتھ، نیسیم وتوری، اور امانا تنظیم کے سیکرٹری جنرل زیو ہیور شامل ہیں۔لود اور طبریہ میں مذہبی تعلیم گاہ ’’یشیوات برور حییل‘‘ کے سربراہ ربی حائیم باروخ کے بھی شرکت کرنے کی امید ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ۳۰۰؍ دنوں میں ۳۰۰؍ بچوں کی موت ہوئی: یونیسیف
مزید برآں چینل ۷؍ کے مطابق، ان کے مذہبی ادارےکے فارغ التحصیل افراد اس غیر قانونی اسرائیلی بستی کے پہلے مکینوں میں شامل ہیں۔یہ غیر قانونی بستی سامریہ علاقائی کونسل کی زیر قیادت ایک وسیع تر منصوبے کے تحت قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں ۱۹؍ نئی بستیاں قائم کرنا ہے، جن میں سے سبھی غیر قانونی ہیں۔چینل کے مطابق، ’’یہ سامریہ علاقائی کونسل کی طرف سے ایک سال سے بھی کم عرصے میں قائم کی گئی پانچویں بستی ہے۔‘‘جبکہ روزنامہ اسرائیل حیوم کے مطابق، عمق دوتان شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں پہلی غیر قانونی بستی ہے جو اس جگہ قائم کی گئی ہے جہاں اسرائیل کے ۲۰۰۵ء کے انخلاء کے منصوبے سے قبل کوئی بستی موجود نہیں تھی۔اسرائیل نے ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین آزاد ہوگا تبھی دنیا آزاد ہوگی: ’’وائکنگز‘‘ کے اداکار گستاف اسکارشگارڈ
واضح رہے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کا بیشتر حصہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتا ہے اور ان کی توسیع کو دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتا ہے۔ ساتھ ہی فلسطینی اس غیر قانونی بستیوں کی توسیع کو مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین پر قبضے اور علاقائی تقسیم کی وسیع تر پالیسی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۳۳۴؍، جو ۲۰۱۶ء میں جاری ہوئی، کہتی ہے کہ ۱۹۶۷ء سے مقبوضہ فلسطینی سرزمین بشمول مشرقی یروشلم میں اسرائیلی بستیاں کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتیں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ بعد ازاں جولائی ۲۰۲۴ء میں، بین الاقوامی عدالت انصاف نے ایک مشاورتی رائے میں کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی غیر قانونی ہے اور اسے جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے۔