Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں ۳۰۰؍ دنوں میں ۳۰۰؍ بچوں کی موت ہوئی: یونیسیف

Updated: August 09, 2026, 11:45 AM IST | Genoa

رپورٹ کے مطابق روزانہ ایک بچہ اسرائیلی فوج کے علاوہ یہودی آبادکاروں کے تشدد کا نشانہ بنتا ہے اور جان گنواتا ہے ۔

The Zionist army does not spare even children. Photo: INN
صہیونی فوج بچوں تک سے رعایت نہیں کرتی۔ تصویر: آئی این این

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے جمعرات کو کہا کہ غزہ میں گزشتہ ۳۰۰؍ دنوں میں کم از کم ۳۰۰؍ بچے ہلاک ہو چکے ہیں یعنی اوسطاً روزانہ ایک بچہ ہلاک ہوتا ہے کیونکہ علاقے میں شہریوں کو شدید فوجی حملوں کا سامنا ہے جن میں گولہ باری، گولیاں اور بحری فائرنگ شامل ہے۔ ادارے نے مزید کہا کہ اسی عرصے کے دوران مزید سیکڑوں بچے مبینہ طور پر زخمی ہوئے۔ 
اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (اوچا)نے کہا، غزہ میں بچے مشکل حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں جن میں پُرہجوم پناہ گاہیں اور صاف پانی اور صحت تک محدود رسائی شامل ہیں۔ اوچا نے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملے اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں فلسطینیوں کے گھروں اور معاش کو متأثر کر رہی ہیں۔ اسرائیلی آبادکاروں نے مبینہ طور پر الخلیل کے علاقے مسافر یطہ میں الطوبا کی فلسطینی کمیونٹی میں راتوں رات گھروں کو آگ لگا دی جس سے ۱۴؍ بچوں سمیت تین خاندان بے گھر ہو گئے۔ انہوں نے رشتہ داروں یا ہمسایوں کے پاس پناہ لی۔ اوچا نے کہا کہ دو بچوں سمیت کئی لوگ زخمی ہوئے اور دیگر املاک کے ساتھ ایک سولر پاور سسٹم اور جانوروں کا ۱۰؍ ٹن چارہ تباہ ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: کولمبیا: نئی حکومت کا اسرائیل سے معاشی تعلقات کی بحالی پر زور

سال کے آغاز اور جولائی کے اختتام کے درمیان اوچا نے ۲۵۰؍ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کے ایک ہزار ۳۸۰؍ سے زیادہ حملے ریکارڈ کئے جن کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور املاک کو نقصان پہنچا۔ یہ روزانہ اوسطاً ۶؍ سے ۷؍ حملے بنتے ہیں۔ اوچا نے کہا کہ اسی عرصے کے دوران آبادکاروں کے حملوں اور ان سے متعلق رسائی کی پابندیوں کے نتیجے میں ۲۳۰۰؍سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہوئے۔ ادارے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں نشانہ بنانے والے مجرموں کا احتساب ہونا چاہئے۔ یروشلم گورنری میں دریں اثنا قلندیا کیمپ میں اسرائیلی افواج نے وہاں ایک بڑی کارروائی شروع کی جس سے ہزاروں فلسطینی جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بھی محصور رہے۔ 
اوچا نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے کارکنان علاقے تک محفوظ رسائی حاصل کرنے سے قاصر تھے جس سے رہائشیوں کی حفاظت اور ہنگامی نگہداشت حاصل کرنے اور کام کی جگہوں تک پہنچنے کی قابلیت کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔ 
یاد رہے کہ فلسطین میں مقامی باشندوں کو صرف اسرائیلی فوج کی بمباری یا گولی باری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ یہودی آباد کار جو دیگر ممالک سے یہاں آکر بس رہے ہیں وہ بھی براہ راست عام فلسطینی باشندوں پر حملے کرتے ہیں۔ ان کے مکانات خالی کرواتے ہیں۔ نہ خالی کرنے پر فلسطینیوں کو زدوکوب کرتے ہیں۔ اس کام میں اسرائیلی پولیس ان کی بھر پور مدد کرتی ہے۔ عالمی اداروں کی جانب سے عائد پابندیوں اور انتباہ کا اسرائیل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK